چاہِ یوسف

  • منگل 28 / اپریل / 2015
  • 4276

چلیئے کرکٹ کا مسئلہ بھی حل ہؤا۔
ہاکی اور سکواش کا مسئلہ تو ہم پہلے ہی طے کر چکے ہیں۔ ہاں کبڈی کا مسئلہ ابھی باقی ہے۔ امید رکھنی چاہیئے کہ یہ بھی جلد ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا۔

جہاں تک کرکٹ کا تعلق ہے، تو ثابت ہؤا کہ یہ کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ ’’ پی سی بی‘‘ کے عہدیداروں کا کھیل ہے جنکی تعیناتی اور تنزلی میں ہار جیت تو ہوتی ہی رہتی ہے۔ لہٰذاہ اسے اچھی سپورٹس مین سپرٹ کے ساتھ قبول کر لینا چاہیئے۔ جہاں ملک کے باقی اداروں کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی ہیں، وہاں اگر کرکٹ کی عمارت بھی زمیں بوس ہو گئی تو گلہ کیا۔
کرکٹ کو اس کے حال پرچھوڑیئے۔ آئیے ’’ چین و عرب ہمارا ‘‘ کی باتیں کریں۔

چین سے تو جیسا کہ ہم جانتے ہیں، ہماری دوستی ہمالہ سے بھی اونچی ہے۔ ایسی دوستی جس کے پہاڑ پر چڑھنا بھی مشکل اور اترنا بھی ۔
لیکن ہمالہ سے چشمے ابلتے ہی ہمارے یہ چینی بھائی گراں خوابوں سے کیا جاگے کہ دوسروں کی نیندیں بھی حرام کرنے لگے۔ اب ہماری بھی حرام کرنے کا سوچ رہے ہیں، حالانکہ ہم نے کئی مرتبہ انہیں سمجھایا بھی ہے کہ ’’ پاء جی ! کام کے ساتھ آرام بھی ضروری ہے۔ آپ کی نیند تو چشمے ابلنے کے شور سے کھل گئی۔ ہماری ابھی نہیں کھلی۔ سو ہمارے بالیں پر اتنا شور نہ کیا کریں۔‘‘

پر نہیں مانتے۔ نہ ہماری۔ نہ ہمارے خدام اعلیٰ و ادنیٰ کی۔ اب طے یہ ہؤا ہے کہ کام وہ کریں گے اور آرام ہم ۔
سو اونچے اونچے چشمے ابلتے ٹھنڈے پہاڑوں سے نیچے گرم گرم پانیوں تک ہمارے یہ مخیر اور خدا ترس چینی بھائی ہمیں ایسی گزرگاہ بنا کر دیں گے ، جس پر مال اسباب لے کر چلتے ہوئے نہ تو ہمارا پاؤں پھسلے اور نہ ہی سانس پھولے۔ سو امید کی جانی چاہیئے کہ اب ہر طرف چین ہی چین ہوگا۔

ہاں ! بھائیوں میں البتہ ایک تھوڑی سی بے اعتباری کی فضاء ابھی باقی ہے۔
اب یہ کیا بات ہوئی کہ ہمیں اس کارِ خیر میں عملی طور پر شامل ہی نہ کیا جائے اور سارے ٹھیکے اپنے پاس ہی رکھے جائیں۔ بھائی صاحب ! اربوں کے ٹھیکے ہیں۔
کیا ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ یہ رقوم سنبھال ہی نہ سکیں۔ حالانکہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بیرونی بینکوں میں ہم نے اپنی خون پسینے کی کمائی کتنی سنبھال کر رکھی ہوئی ہے۔ تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ آپ سوٹ کیسوں اور بوریوں میں بھر کر یہ رقوم ہمارے حوالے کر دیتے جیسا کہ ’’ اسی‘‘ کی دہائی میں ہمارے عزیز از جان عرب بھائیوں اور امریکی مہربانوں نے کی تھی۔ ان رقوم کے دانشمندانانہ استعمال سے ہونے والی ترقی اور خوشحالی تو آج آپ ہمارے ملک کے کونے کونے میں دیکھ ہی سکتے ہیں۔ ان کے سوٹ کیس تو ولایتی تھے ۔ آپ ظاہر ہے چینی استعمال کریں گے۔ کافی مضبوط اور پائیدار ہوتے ہیں۔ بوریاں البتہ ہم خود فراہم کر دیں گے۔ کراچی میں عام ملتی ہیں۔ نئی بھی اور استعمال شدہ بھی۔

چینیوں کے علاوہ ہمارے اور بھی بہت سے بھائی ہیں۔ کچھ ابھی تک ہیں۔ کچھ سے تعلقات اب بھائیوں جیسے نہیں رہے۔ لیکن بھائیوں میں ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے۔
البتہ ایک بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی کہ ہم صرف آدھی آبادی سے ہی رشتہ کیوں استوار کرتے ہیں۔ بھائی تو بناتے ہیں۔ بہنیں کیوں نہیں بناتے۔ شاید اس لئے کہ وقت آنے پر ہماری نستعلیق گالیوں کا کوٹہ کہیں کم نہ پڑ جائے۔

چینی تو خیر ہمارے منہ بولے بھائی ہیں اور ان سے خیر ہی کی امید رکھی جا سکتی ہے۔
لیکن سب دوستوں سے بڑھ کرہمارے عرب دوست ہیں جنہیں ہم نے نہ صرف بھائی بلکہ مائی باپ بھی بنا رکھا ہے۔ پھر بھی وہ ہم سے کچھ ناراض ناراض سے رہتے ہیں۔ تیل کے ساتھ رزق بند کر دینے کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں۔ حالانکہ ہمارے لاکھوں بھائی بند کب سے انکے در دولت پر بیٹھے انکی مٹھی چاپی کر رہے ہیں۔
آئے دن نجانے کیوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بگڑ جاتے ہیں۔

ہم کہتے ہیں برادر ہم بھی مسلمان ہیں۔ حرمین شریفین پر ہمارا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا آپ کا۔ اور مسلمان تو ہوتے ہی آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ سو ہمیں بھی اپنا بھائی جانو۔
اس پر بھی ناراض ہو جاتے ہیں۔
کہتے ہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم عرب ۔ تم ہندی ۔ ہمارا معاشرہ خراب ہوتا ہے۔ ہم سے برابری کے خواب مت دیکھو ۔ یہ برادر برادر کی رٹ لگانا چھوڑو اور اپنی اوقات میں رہو۔ ہاں صدقہ خیرات کی ضرورت ہو تو بتاؤ۔

اور یہ ضرورت ہم اکثر بتاتے رہتے ہیں۔ بلکہ ان ضرورتوں کے ادراک کیلئے وہ اپنا ایک آدھ بندہ بھی یہاں رکھ چھوڑتے ہیں جو عام طور سے وزیر اعظم کہلاتا ہے۔ یہ وزیر اعظم نما بندہ ، آئے دن انکے در دولت پر حاضر ہو کر انہیں ہماری اور اپنی ضروریات سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ کبھی کبھی ڈانٹ بھی کھا لیتا ہے۔ لیکن بھائیوں کی ڈانٹ کو بھی شفقت کا اظہار ہی سمجھا جانا چاہیئے۔
اور پھر اسی پر ہی بس نہیں۔ کبھی کبھاروہ خود بھی یہاں تشریف لاکر ہماری ضروریات کا جائزہ لیتے اور ہماری آخرت سنوارتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں بہت ہی محترم امام کعبہ بھی تشریف لائے تھے اور لاہور میں تعمیر ہونے والی ایک عظیم الشان مسجد میں امامت بھی آپ نے فرمائی ۔ یہ مسجد خدمت خلق اور خدمت اسلام کے جذبے سے سرشار ایک بہت ہی نیک و پارسا شخص نے اپنی حق حلال کی کمائی سے بنوائی ہے۔

ہماری ضروریات کے بارے میں اپنے ان بھائیوں کے تفکرات کا اندازہ اسی بات سے لگا لیجئے کہ وہاں کے وزیر مذہبی امور بھی یہاں تشریف لائے اور آپ نے ملک میں آخرت سنوار مدارس کے ناظمین سے بنفس نفیس انکی ضروریات جاننے کی زحمت کی تاکہ برادر ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے صدقہ خیرات کی رقم ان میں تقسیم کی جا سکے۔

لیکن سنا ہے ضروریات اس قدر زیادہ تھیں کہ خطاب کے اختتام پر اپنی درخواستیں جمع کروانے والے علماء کرام و مشائخ عظام نے وزیر صاحب کو اپنے نرغے میں لیتے ہوئے جہاد کا سا سماں پیدا کر دیا، جس پر شاید وزیر صاحب کو اپنے مشیروں سے یہ کہنا پڑا ہو۔
’’ اوئے مینوں کتھے پھسا دتا جے۔۔‘‘

ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں اتنے بہت سے بھائی مل گئے۔ دوست البتہ کچھ کم ہیں۔ لیکن بھائیوں کے ہوتے ہوئے زیادہ دوستوں کی ضرورت بھی کیا ہے۔
کوئی بتاؤ کہ یہ چاہ یوسف کہاں ہے بھائی!
وہاں سے کیوں الٹی سیدھی صدائیں آتی رہتی ہیں۔