انتہا پسندی کیا اور کیوں (2)
- بدھ 29 / اپریل / 2015
- 6332
پاکستان کے حکمران ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ملک میں انتہا پسندی کے فروغ کے لئے مذہب کی بجائے منطق اور اصول کو دلیل بنانا ضروری ہے۔ جو زہر مذہب کے نام پر پھیلایا گیا ہے ، اس کا تریاق زیادہ مضبوط مذہبی سماج کھڑا کرنے سے تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے عقل کے ناخن لینے اور علم کی بصیرت عام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی نئی نسلوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ان کے اچھا یا برا مسلمان ہونے سے پاکستان عظیم یا زوال پذیر نہیں ہو گا۔ معاملات تب درست ہوں گے جب وہ یہ سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں گے کہ سب انسان برابر ہیں۔ ان کا عقیدہ انہیں خاص یا عام نہیں بناتا بلکہ وہ اپنے اعمال اور دوسرے انسانوں سے سلوک کے حوالے سے پہچانے جائیں گے۔
حاضرین آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک مشکل اور پیچیدہ بحث ہے۔ اس قسم کی بات کرنے پر الحاد کا فتویٰ یا گمراہ ہونے کا الزام لگانا بے حد آسان ہے۔ ہم نے گزشتہ چالیس برس میں پاکستان کی حد تک یہی کھیل کھیل کر خود کو تباہی کے اس کنارے تک پہنچا لیا ہے، جہاں سے واپسی کا صرف ایک راستہ ہے کہ ایک سے زیادہ لوگ بار بار یہ کہنے کا حوصلہ کر سکیں کہ مذہب کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھانے والے لوگ گمراہ نہیں ہیں بلکہ وہ اس معاشرے کو اس واحد راستے کا پتہ دے رہے ہیں جو پاکستانیوں اور مسلمانوں کو تقریبا یقینی تباہی سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ ہمارے لیڈروں اور ان کے فقہی اور مالی سرپرستوں کی اسی کوتاہ اندیشی کا نتیجہ ہے کہ ایک ماہ قبل جب سعودی عرب نے یمن میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے بمباری شروع کی اور فوج کشی کا ارادہ کیا تو حکومت سے لے کر پارلیمنٹ اور علما سے لے کر صحافیوں تک ۔۔۔ کہیں سے یہ آواز سنائی نہیں دی کہ ایک ملک اپنی فضائی برتری اور مالی قوت کی بنا پر ایک خود مختار ہمسایہ ملک پر حملہ آور ہے اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکت کا سبب بن رہا ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب کی حفاظت اور حرمین شریفین کی حرمت کے لئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے کی باتیں پارلیمنٹ کی قرارداد اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی تقریروں کا حصہ بنتی رہی ہیں۔ ان بیانات میں صرف دو مضحکہ خیزیوں کا ذکر آپ کو صورتحال سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے:
اول: سعودی عرب کی سالمیت کو یمن یا کسی بھی ملک سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ غریب ملک یمن کے قبائل تو خود ہی آپس میں لڑ بھڑ کر ہلکان ہو رہے ہیں۔ ان کے پاس اتنے وسائل اور فوجی قوت نہیں ہے کہ وہ سعودی عرب جیسے بڑے ، طاقتور اور بااثر ملک پر حملہ آور ہوں۔
دوئم: حرمین شریفین پر آخری حملہ خود سعود خاندان اور موجودہ بادشاہت کے بانی عبدالعزیز بن سعود نے 1924میں کیا تھا۔ ابن سعود نے باقاعدہ فوج کشی کے ذریعے شریف مکہ اور مدینہ منورہ کی حکومت ختم کی تھی۔
یمن کے سوال پر مصر اور ترکی کے بعد پاکستان کی طرف سے فوج بھیجنے سے معذرت کے بعد چند روز قبل سعودی عرب نے فضائی حملے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ایک ماہ کی بمباری کے دوران حوثی قبائل کی فوجی قوت کو تو زیادہ نقصان نہیں پہنچا لیکن ملک میں موجود القاعدہ اور داعش کے گروہ ضرور مضبوط ہوئے ہیں۔ ملک میں پیدا ہونے والے انتشار کے سبب داعش اور القاعدہ نے کئی جیلیں توڑ کر اپنے حامیوں کو رہا کروایا ہے اور ملک میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔
اس صورتحال میں بات بہرحال واضح ہو گئی ہے کہ فضائی حملے شروع کرنے سے پہلے سعودی حکمرانوں کے پاس کوئی فوجی منصوبہ نہیں تھا۔ وہ یہ باور کر رہے تھے کہ ان کے اشارے پر ان کی طفیلی ریاستوں مصر اور پاکستان کے خوشامدی حکمران بلا تامل اپنی فوجیں اس جنگ میں جھونک دیں گے۔ بہرحال یہ جائزہ لینا آج کا موضوع نہیں ہے لیکن میں یہاں یہ نکتہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک اچھی خبر ہے کہ سعودی عرب نے یمن میں جنگ بند کر دی ہے۔ وگرنہ وہ خود ایک ایسی جنگ شروع کرنے کا سبب بن سکتا تھا جو شام کی خانہ جنگی کی طرح پیچیدہ اور دشوار ہوتی۔ اس کے نتیجے میں صرف ان انتہا پسند قوتوں کو فائدہ حاصل ہوتا جو عقیدے کے نام پر جتھے بندی کر کے انسانوں کو ہلاک اور علاقوں کو مسمار کر رہی ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی دہشت گرد قوت داعش ، عراق میں امریکہ کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے مضبوط ہونا شروع ہوئی تھی۔ البتہ ایرانی رسوخ کے خوف کی وجہ سے 2011 میں جب شام میں بشار الاسد کی حکومت گرانے کے منصوبے کا آغاز ہوا تو اس مذہبی جنونی گروہ کو بھی دولتمند عرب ملکوں کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ ان ملکوں کا خیال تھا کہ یہ گروہ ان کے ہم عقیدہ ہیں، اس لئے دمشق پر قبضہ کرنے کے بعد بھی وہ ان کے دست نگر اور محتاج رہیں گے۔ یہ قیاس آرائیں درست ثابت نہ ہوئیں۔
داعش نے گزشتہ برس چندہ ماہ کے اندر اس قدر فوجی قوت حاصل کر لی کہ جنگ زدہ شام کے وسیع علاقوں کے علاوہ عراق کے بہت سے علاقے پر بھی قبضہ کر لیا۔ عراق کے سنی قبائل بغداد میں نورالمالکی کی شیعہ نواز حکومت کے مظالم سے تنگ آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے اس ابھرتی ہوئی سنی قوت کا ساتھ دیا۔ اب یہ گروہ دولت اسلامیہ کے نام سے اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کر چکا ہے اور اس کے مظالم ، سفاکی اور دہشت گردی کی مثالیں زبان زد عام ہیں۔
انتہا پسند گروہ کی یہ کامیابی دنیا بھر میں عقیدہ کے نام پر جنگ جویانہ رویوں کو فروغ دینے کا سبب بن رہی ہے۔ داعش نے عسکری کامیابیوں کے علاوہ ٹھوس پروپیگنڈا مشینری تیار کی ہے۔ اس طرح وہ دنیا بھر کے مسلمان نوجوانوں کو زہر آلود کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
کوتاہ نظر عرب لیڈر اب تک داعش یا دولت اسلامیہ کو اپنے لئے خطرہ نہیں سمجھتے۔ اگرچہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں امریکہ کی سرکردگی
میں اس عالمی اتحاد کا حصہ ہیں جو دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے لیکن ان ملکوں کے مطلق العنان بادشاہ ایران کو اپنے لئے زیادہ بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ داعش کے ساتھ ان کے فقہی نظریات ملتے ہیں۔ سعودی عرب اور داعش ایک جیسے معاشرے تعمیر کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ اس لئے سعودی حکمرانوں کو لگتا ہے کہ اگر یہ گروہ اپنی جنگ کا رخ دمشق ، بغداد اور تہران کی طرف رکھیں تو بالآخر اس کا فائدہ انہیں ہی ہو گا۔ حالانکہ داعش یا کسی بھی دوسرے انتہا پسند گروہ کے لئے یہ صرف عقیدے کی جنگ نہیں ہے۔ یہ اقتدار اور طاقت کا معرکہ ہے۔ اس لئے ایران جیسے مستحکم اور مضبوط ملک پر حملہ آور ہونے سے قبل اس بات کا امکان غالب ہے کہ وہ کسی کمزور عرب ریاست کو اپنا نشانہ بنائیں تا کہ اس کے وسائل سے وہ مزید قوت اور اہمیت حاصل کر سکیں۔
طاقت کی خواہش اور سخت گیر عقائد کو عام کرنے کی جدوجہد میں ان سب ملکوں ، لیڈروں اور گروہوں نے عالم اسلام کے تمام مسلمانوں کے لئے نہایت خطرناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ یہ لوگ اپنے ملکوں میں غیر محفوظ اور غیر ملکوں میں مشکوک ہو چکے ہیں۔ شاید اسی قسم کی حالت کے بارے میں آنس معین نے کہا تھا:
وہ جو پیاسا لگتا تھا ، سیلاب زدہ تھا
پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا
اس انجام سے بچنے کے لئے ہر مسلمان کو اپنے گرد و نواح میں پھیلے ہوئے حالات کا ادراک کرتے ہوئے تبدیلی او ر انتہا پسندانہ نظریات اور سوچ کو مسترد کرنے کے لئے کام کرنا ہو گا۔ (آخری قسط)
(یہ مضمون 25 اپریل کو اوسلو میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے موضوع پر منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں پڑھا گیا تھا۔ اس سیمینار کا انعقاد پاکستانی تارکین وطن کی دو تنظیموں وژن فورم اور پاکستان فیملی نیٹ ورک نے کیا تھا)