سماجی سدھار کا طریقہ
- جمعہ 01 / مئ / 2015
- 4197
ہمیں ہر جگہ ایسے افراد نظر آئیں گے جو اپنے مسائل کا رونا روتے رہتے ہیں ۔ یہ الفاظ اس لئے کہہ رہا ہوں کیوں کہ مجھ سمیت کسی نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ آخر مسلسل اس رونا رونے کی وجوہات کیا ہیں۔ آپ نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہو گا جو آپ سے مانگتے نہیں لیکن وہ اپنے مسائل کو بیان کر تے رہتے ہیں۔ یہ مسائل ذاتی بھی ہو سکتے ہیں اور خاندانی بھی۔ بسا اوقات وہ یہ مسائل مسلسل بیان کرتے ہیں تا کہ ان کی مدد ہو سکے۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ ان لوگوں میں کچھ تو حقیقی معنوں میں ضرورت مند ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا یہ کاروبار بن چکا ہے۔ لیکن اس میں فرق کرنا بھی نہایت آسان ہے۔ جو لوگ حقیقی معنوں میں ضرورت مند ہوتے ہیں اور اپنے ناگزیر مسائل کی وجہ سے آپ کے ساتھ اپنی پریشانی یا دکھ بانٹ رہے ہوتے ہیں، ان کی آنکھوں میں دکھ کی نمی اور جھکا چہرہ آپ کو مکمل روداد سے آگاہ کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اور جن لوگوں کا یہ کاروبار ہوتا ہے ان کے چہرے پرایک کاروباری مظلومیت اور ان کی آنکھوں میں عیارانہ چمک واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اب ایک عام آدمی اس بات سے یقینان پریشان ہو جاتا ہے کہ کس کی مدد کرے اور کس کو انکار کردے ۔
بہت سے لوگوں کو میری اس بات سے اتفاق ہو گا کہ مدد کرنے میں بُخل یا شک سے کام نہیں لینا چاہیے۔ کیوں کہ مدد کرتے وقت آپ کی نیت صاف ہونی چاہیے ۔ اگلے بندے کی نیت کا حال خدا بہتر جانتا ہے۔ لیکن مدد کرنے کے ساتھ کچھ ایسا بھی ہونا چاہیے کہ جن لوگوں کا یہ کاروبار ہے ان میں شرم کا مادہ جگایا جا سکے اور جو لوگ ضرورت مند ہوں ان میں دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ ابھارا جا سکے۔
اسی قسم کا ایک کردار برینڈی کا ہے۔ وہ کافی عرصے سے بطور ویٹرس کام کر رہی تھی لیکن گزر اوقات ہی مشکل سے ہوتی تھی۔ وہ اپنے اکلوتے بیٹے سے ملنے کے لئے بے قرار تھی مگر اس کا کوئی سبب نہیں بنتا تھا۔ وہ یہی پریشانی اکثر اوقات دوہراتی رہتی۔ اسی ریسٹورنٹ میں ایک مستقل گاہک آتا تھا، جس کو اکثر اوقات برینڈی ہی چیزیں پیش کرتی تھی۔ اس گاہک کے کانوں میں بھی برینڈی کی آوازیں پہنچتی تھیں جن میں وہ اپنے بیٹے سے ملنے کی خواہش کرتی تھی۔ اس کے دل میں رحم پیدا ہؤا اور اس نے ایک دفعہ اچھی سروس کی بنیاد پر صرف9.53 ڈالر کے بل پر برینڈی کے لئے 200 ڈالر ٹپ دے دی۔ بل کی پشت پر یہ تحریر کر دیا کہ “ تمہاری اچھی سروس کے لیے شکریہ، میں اکثر تمہارے منہ سے تمہارے بیٹے کے بارے میں سنتا رہتا ہوں ۔ تم اس رقم سے بیٹے کو ملنے جا سکتی ہو “۔
اس تحریر اور ٹپ کے بارے میں ریسٹورنٹ کے منیجرنے اسے کچن میں جب آ کر بتایا تو برینڈی کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ ذرا غور کیجئے یہ آنسو ٹپ کے لیے نہیں تھے بلکہ اس جذبے کے لئے تھے، جس کا مظاہرہ اس گاہک نے کیا تھا۔ اب غور کیجئے کہ ہمارے معاشرے میں بھی برینڈی جیسے کردار بکھرے پڑے ہیں لیکن ہمارے ہاں اس نامعلوم گاہک جیسے افراد بہت کم ہیں۔ پاکستان میں اللہ نے لوگوں کو بے پناہ نوازا ہے لیکن اس کے باوجود پریشانیاں ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم برینڈی جیسے لوگوں کی مدد کرنے پر تیا ر نہیں ہوتے۔ جب آپ کسی کی مدد کرتے ہیں تو دل میں ایک انجانا سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر دولت مند اس سکون سے محروم ہوتے ہیں کیوں کہ وہ اپنی دولت کو رات دن دوگنا کرنے کے چکر میں رہتے ہیں لیکن دوسروں کی مدد نہیں کرتے ۔
اس نامعلوم شخص کے برینڈی کی مدد کرنے سے دو طرح کے رویے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ایک احساس دوسرا شکر گزاری۔ جس شخص نے برینڈی کی باتوں سے متاثر ہو کر 200ڈالر دئے اس نے یہ نہیں سوچا کہ برینڈی سچ کہہ رہی ہے یا جھوٹ۔ اس نے ازراہ ہمدردی اپنا فرض ادا کیا۔ کیوں کہ اس کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ برینڈی کی مدد کی جائے۔ یہ احساس پیدا ہونے سے معاشرے مثبت سمت میں تبدیل ہوتے ہیں۔ دوسرا رویہ شکر گزاری کا ہے۔ برینڈی کی آنکھوں کے آنسو اس کی شکر گزاری کا ثبوت ہیں ۔ فرض کیجیے اگر برینڈی نے جھوٹی کہانی گھڑی ہے تو بھی اس ٹپ دینے والے کی سخاوت سے وہ آئندہ جھوٹ نہیں بولے گی۔ کیوں کہ صرف دو سو ڈالر ٹپ شاید معنی نہ رکھتی لیکن بل کی پشت پر تحریر شدہ پیغام کا خلوص اسے آئندہ جھوٹ بولنے سے روکے گا۔ اگر برینڈی نے واقعی سچ بولا تھا تو وہ اس شخص کی نہ صرف تمام عمر شکرگزار رہے گی بلکہ وہ خود بھی دوسروں کی مدد کرنے میں آگے بڑھے گی۔
معاشرتی تبدیلیاں نعروں سے نہیں بلکہ مثبت سوچ سے آتی ہیں۔ اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں۔ کتنے ضرورت مند نظر آئیں گے ۔ ان میں سے بہت سے شاید مفاد پرست بھی ہوں گے ۔ لیکن جیسے اس نامعلوم شخص نے ہوٹل بل کی پشت پر پیغام تحریر کیا ، اسی طرح کے پیغامات اگر ہم مدد کے ساتھ دینا شروع کر دیں تو ایک دن ضرور ایسا آئے گا کہ نہ صرف ضرورت مند افراد کی ضرورتیں پوری ہونا شروع ہو جائیں گی بلکہ مفاد پرست ٹولہ بھی یقیناً شرمندہ ہوگا۔ آپ اپنے ارد گرد موجود ضرورت مندوں کے بارے میں یہ نہ سوچئیے کہ اس کو ہزار روپے چاہئیں اور آپ کے پاس دس روپے ہیں جو اس کی مدد کے لئے کافی نہیں ۔ آپ کسی بھی مثبت پیغام کے ساتھ اسے دس روپے دے دیں۔ ہو سکتا ہے وہ مثبت پیغام اس کی زندگی بدل دے ۔
ذرا سوچیں اگر ہم میں سے ہر کوئی کسی کی بھی مدد کرتے وقت خود نمائی کی بجائے دوسروں کی مدد کا پیغام دے تو ہمارے معاشرے میں کس طرح کی تبدیلی آ سکتی ہے۔ دوسروں کی مدد کیجئے اور ساتھ ہی انہیں مثبت پیغام بھی دیجئے جو نہ صرف ان کی بہتری کے لئے ہو گا بلکہ اس کے نتیجے میں پورا معاشرہ مثبت انداز میں پروان چڑھ سکے گا۔