جمہوریت کا ثمر کیسے ملے!
- ہفتہ 02 / مئ / 2015
- 4028
دنیا کے تمام جمہوری ملکوں میں کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ ملتے ہیں ۔ نئی حکومت اسی بنیاد پر بنتی یا ختم ہوتی ہے کہ منتخب ہونے والوں نے کس حد تک اپنے وعدے پورے کئے ہیں۔ اسی طرح عوام جمہوریت کے ثمرات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
مگر ہمارے ہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے۔ حکومت اور سیاسی پارٹیاں عوام پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنے ورکروں اور حمائیتی خاندانوں پر تکیہ کرتی ہیں۔ برسراقتدار لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ووٹ اپنی کارکردگی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی طاقت کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرلیں گے۔ لہذاٰ حکومتیں چاہیے اپنے دور اقتدار میں جو بھی کارنامہ کرجایئں کسی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس اگلی بار دیکھا جائے گا کا ہی فارمولا چلتا رہا ہے ۔
ہم تاریخی پس منظر میں جائیں گے تو بہت وقت کا ضیاع ہوگا۔ قصہ مختصر ملک کی مختصر تاریخ میں سیاسی رہنما مختلف نعرے لگا کر کامیابی حاصل کرتے رہے۔ لیکن برسر اقتدار آنے کے بعد ان وعدوں کا پاس نہیں کیا گیا۔ کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی کہ عوام کی کیا خواہش ہے اور ان کی ضرورتیں کیسے پوری کی جا سکتی ہیں۔
یہ ایک المیہ ہے کہ کبھی بھی صاحبانِ اقتدار کو صحیح مشورے دینے والا کوئی نہیں ملا۔ بس ہر حکومتی مشیر کسی مداری کی طرح ڈگڈگی بجاتے رہے۔ سب اچھا ہے کی رپورٹ پر فیصلے ہوتے رہے۔ درباری اپنی روزی روٹی کے چکر میں عوام کی آہیں اور سسکیاں نظر انداز کردیتے اور یوں ہر حکومت اپنا وقت پورا کرتی رہی ہے اور عوام کی آہیں بددعاؤں میں بدلتی رہی ہیں۔
حکمرانوں نے کبھی یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ اگر وہ عوام کی خواہشات جان کر، ان کے مطابق منصوبے بنائیں گے تو اس سے لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا اور ان کے اقتدار کو بھی طول مل سکے گا۔ آنکھیں بند کرکے بھی کہا جا سکتا ہے کہ بجلی کی فراہمی ، سڑکوں اور سیوریج سسٹم کی بہتری جیسے کام ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ضروری ہے۔ بارشوں کے موسم میں گلی محلوں میں زندگی وبال جان ہو جاتی ہے۔ جابجا گٹر ابلنا شروع کردیتے ہیں اور گندے پانی کے جوہڑ بن جاتے ہیں۔ اس طرح عوام کی آمدورفت بھی متاثر ہوتی ہے اور بیماریاں بھی زور پکڑتی ہیں ۔ سڑکیں ویسے ہی تباہ حال ہیں اور پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے مزید برباد ہوجاتی ہیں ۔
لمحہ بھر کو سوچیں تو کیا یہ نہیں ہوسکتا تھا کہ پورے پاکستان کا سیوریج سسٹم اور سڑکوں کی مرمت کرلی جاتی ۔ یا پھر بجلی کی کمی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کی جاتیں۔ تاکہ لوگ سخت گرمی میں بجلی حاصل کرپاتے۔ اس سے عوام سکھ کا سانس لیتے اور یہ بھی ممکن تھا کہ ملک میں پھر سے روزگار کے مواقع پیدا ہونے لگتے۔
تعلیم ایک اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان کے بننے کے بعد تعلیم وہ واحد مسئلہ ہے جس کو ہم ہمیشہ سے غیر اہم سمجھ کر بھولتے آئے ہیں ۔ مگر تعلیمی شعبہ میں موجود کالی بھیڑیں اگر ہر سال کے بجٹ کو ہی بہتر انداز میں خرچ کریں تو ہم اس معاملہ میں بہتری آسکتی ہے۔ ناکام منصوبوں کی بجائے تعلیمی منصوبوں پر خرچ کرنا ذیادہ ضروری ہے۔
بعض دوست کہیں گے کہ میں نے دہشت گردی کی جنگ کو نظر انداز کیا تو آپ سب ہی جانتے ہیں کہ جمہوری حکومتوں نے تو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بیرون ملک سے خوب امداد لی مگر اقدام کوئی نہیں کیا۔ تاہم اب فوج کی کوششوں سے کچھ بہتری آئی ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے کام میں ٹانگ نہ اڑائیں۔ کیوں کہ اگر ہم نے ایک بار پھر ان کو روک دیا تو دہشتگردی جڑیں پکڑتی رہے گی۔
وقت دھیرتے گزرتا جا رہا ہے اور میٹرو بس کے لئے کھودی گئی سڑکیں تو ٹھیک ہو ہی جائیں گی مگر باقی ماندہ سڑکیں ، سیوریج کا نظام ، تعلیمی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے۔ ہمیں اس حکومت کے زیر سایہ بھی بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے مچھروں کے ساتھ نبرد آزما ہونا پڑے گا ۔ لگتا ہے کہ ان مسائل کے حل کے لئے ہمیں اگلی جمہوری حکومت کا انتظار کرنا پڑے گا ۔
ہم بحیثیت عوام بڑے دل والے ہیں۔ کارکردگی ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ہم تو زبان کی بنیاد پر بھی ووٹ دے دیتے ہیں، چاہے منتخب ہونے والے ہمیں ناکوں چنے ہی کیوں نہ چبوائے۔ اس لئے کسی جمہوری حکومت سے کارکردگی کا تقاضہ کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے آگاہ ہوں اور اس کا درست استعمال کریں۔