دہشتگردوں میں تفریق کا شاخسانہ

  • ہفتہ 02 / مئ / 2015
  • 4456

تاریخ اس بات کی گواہ ہے جب بھی مجرموں یا دہشت گردوں میں اچھے اور برے کی تمیز کی گئی،ہمیشہ اس کے برے نتائج ہی سامنے آئے ہیں۔ ایک بدمعاش کو ختم کرنے کیلئے دوسرے بدمعاش کو شہ دینا، اس قسم کی معاونت کے نتائج بھی کبھی اچھے نہیں نکلتے بلکہ آنے والے وقت میں دوسرا بدمعاش طاقت کے نشے میں پہلے والے سے بڑا ناسور ثابت ہوتا ہے۔

اگر پاکستان کے حالات و واقعات، سیاست، امن و امان اور دہشت گردی و دیگر امور کا جائزہ لیا جائے تو اس میں سب سے بڑا خلل یہی نظر آتا ہے کہ ہماری پالیسیوں میں ہمیشہ سے ابہام نظر آتا ہے۔ ہم ایک دہشت گرد گروہ کا اثر و رسوخ کم کرنے کیلئے دوسرے گروہ کو سہارا دیتے ہیں اور زیادہ بڑے نقصانات اٹھاتے ہیں۔

نواز شریف کی موجودہ حکومت نے تحفظ پاکستان آرڈیننس پاس کیا۔ سکیورٹی فورسز کو کارروائیوں کے حوالے سے تحفظ فراہم کیا گیا۔ ان کے اختیارات وسیع کئے گئے۔ پھر ضرب عضب آپریشن شروع کیا گیا۔ اس کے نتائج ملک کے قبائلی علاقوں کی طرف دیکھنے میں آئے مگر کراچی اور بلوچستان اس کے ثمرات سے محروم رہے۔ اس طرح دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے تفریق پیدا کی گئی۔ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملوں کے بعد جیلوں میں موجود دہشت گردوں کو پھانسیاں دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ کالعدم لشکر جھنگوی، کالعدم تحریک طالبان ، عسکری اداروںیا فوجی قیادت پر حملوں میں ملوث دہشت گردوں کو فوری طور پر لٹکانا شروع کر دیا گیا ۔ ذاتی دشمنی یا جھگڑوں میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کو بھی لٹکایا گیا مگر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والے دہشت گردوں میں سے ایک کو بھی تاحال پھانسی نہیں دی گئی۔کیا طالبان یا لشکر جھنگوی کے ہاتھوں مارے جانے والے انسان زیادہ معصوم یا سچے پاکستانی تھے یا پھرکراچی میں ٹارگٹ ہونے والے شہری پاکستانی نہیں تھے؟۔ جب دونوں مرنے والے پاکستانی ہی تھے، دونوں ہی بے گناہ تھے تو پھر دونوں کے مجرموں میں تفریق کیوں؟۔

تفریق کا سلسلہ یہی ختم نہیں ہؤا۔ جب کراچی میں آپریشن تیز کیا گیا۔ رینجرز نے بھرپور ایکشن لیا ۔ تاہم دوسری جانب سے ایک تفریق یہ پیدا کی گئی کہ دہشت گرد گروپ کے سیاسی ونگ کو چھوڑنے اور جرائم میں ملوث ونگ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حالانکہ اس گروپ کی ساری سیاست ہی دہشت گردی یا عسکری ونگ کے بل بوتے پر چل رہی ہے۔اس گروپ کے سارے دہشت گرد سیاسی چھتری تلے ہی کام کر رہے ہیں۔ اگر کوئی دہشت گرد پکڑا جاتا ہے تو سیاسی سطح پر شور شرابہ شروع ہو جاتا ہے۔ ارکان قومی اسمبلی اور ارکان صوبائی اسمبلی تھانے تک پہنچ جاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سے لے کر آئی جی سندھ کو فوراً جگا لیا جاتا ہے۔ جب دہشت گرد گروپ اپنی سیاست اور عسکری ونگ کو الگ الگ ہینڈل نہیں کرتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے یہ تفریق کیوں پیدا کی گئی ہے۔

اس حوالے سے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس کو ہی دیکھ لیا جائے۔ سیاسی جماعت کے ایک سیکٹر آفس کے کارکنان سے لے کر اعلیٰ قیادت تک سب ہی اس کیس میں ملوث ہیں ۔ مگر ان افراد پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے انہیں آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔تمام افراد آزاد گھوم رہے ہیں۔ جو اصل مجرم ہیں، ان کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں ہے۔نائن زیرو سے اسلحہ پکڑا گیا ۔ نیٹو کا اسلحہ ملا، انتہائی مطلوب اور سزا یافتہ مجرم بھی پکڑے گئے مگر پھر بھی سیاسی طور پر مکمل آزادی حاصل ہے۔ اگر اتنی آزادی ایک گروپ کیلئے ہے تو پھر دوسروں کا کیا قصور ہے۔

اب تو طالبان کو بھی چاہئے کہ اپنا ایک سیاسی ونگ بنائیں۔ اپنے ارکان اسمبلی منتخب کرائیں اور پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں۔ ساتھ ہی اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں ، انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔ اگر کوئی خودکش حملے کا ماسٹر مائنڈ پکڑا جائے توارکان اسمبلی تھانے پہنچ جائیں ، ملزم کو از خود بے گناہ قرار دے کر ساتھ لے جائیں۔کالعدم لشکر جھنگوی ، سپاہ صحابہ اور سپاہ محمد کو بھی چاہئے کہ کراچی کی اس سیاسی تنظیم کا طرز عمل اپنائیں۔ ان کے کارکن ’’فرضی‘‘ مقابلوں میں مارے نہیں جائیں گے بلکہ عوام ان کے ساتھ ہو ں گے۔ تھانے دار سلام کریں گے، ان کے اصل کردار ہر قسم کی کارروائیوں سے محفوظ رہیں گے۔

اگر یہ باتیں ناگوار گزرتی ہیں تو وفا قی اور صوبائی حکومتوں کو سب سے پہلے دہرا معیار ترک کرنا ہو گا۔ سکیورٹی اداروں کو اچھے اور برے طالبان کی طرح اچھے اور برے دہشت گردوں کی تفریق ختم کرنا ہو گی۔ ایک دہشت گرد گروپ کو پوری طرح ختم کیا جائے۔ اس گروپ میں موجود لوگوں کو الگ الگ کیٹگری میں تقسیم نہ کیا جائے۔ چاہے کوئی سیاسی رہنما ہو یا کوئی ٹارگٹ کلر، سب کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہونی چاہئے ۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو مستقل اور دیرپا امن کے خواب مت دیکھیں۔ اور جیسا اور جہاں ہے کی بنیاد پر آپ بھی آنکھیں بند کر لیں۔