فوج اور ایم کیو ایم

  • اتوار 03 / مئ / 2015
  • 4384

آپ اس کو جیسے بھی لیں جو بھی کہیں مگر آج تک پاکستان کی کسی سیاسی پارٹی میں اتنی جرات نہیں ہوئی کہ وہ فوج کے کرتوتوں کو اس طرح بیان کرے۔ اور انہیں بیان کرنے کے لئے وہی الفاظ استعمال کرے جس کے وہ مسحق ہیں ۔

فوج بھی آج تک وہی کرتی آئی ہے اور کر رہی ہے جس کا الزام اب وہ ایم کیو ایم پر لگا رہی ہے:

1: بھتہ لینے کا الزام ۔۔۔ کیا فوج بھتہ نہیں لیتی اور جب کوئی حکومت بھتہ دینے سے انکار کرتی ہے تو وہ اس حکومت کو “ قتل “  کر دیتی ہے۔ یا اس حکومت کے وزیر اعظم کو کوپھانسی دے دی جاتی ہے۔

2:  ایم کیو ایم اپنے ہی لوگوں کو قتل کرا دیتی ہے ۔۔۔  کیا فوج نے جن لوگوں کو اپنے مقصد کے لئے بنایا ہوتا ہے، مقصد پورا ہونے کے بعد ان کو قتل نہیں کراتی؟  ارد گرد نظر ڈالیں آپ کو سینکڑوں افراد اور تنظیمیں قتل کی گئی نظر آئیں گی۔  جن کو فوج نے اپنے کام پورا ہونے کے بعد قتل کر دیا۔

3:  ایم کیو ایم لاشوں کو بوریوں میں بند کر کے پھینک دیتی ہے ۔۔۔  کیا فوج ایسا نہیں کرتی۔ بلوچستان کے گندے نالےاور سڑکوں کے کنارے مسخ شدہ لاشوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ماما قدیر کا بلوچستان سے کراچی اور پھر کراچی سے اسلام کا لانگ مارچ انہی مسخ شدہ لاشوں کے خلاف احتجاج تھا۔ حامد میر پر قاتلانہ حملہ اور سبین محمود کا قتل اس احتجاج میں اپنی آواز ملانے کی سزا ہے۔

4:  ٹارچر سیلوں میں تشدد کیا گیا ۔۔۔  کیا فوج اپنے ٹارچر سیلوں میں لوگوں پر تشدد کر کے انہیں قتل نہیں کرتی۔ نذیر عباسی ملیریا بخار میں مبتلا ہو کر تو نہیں مرا تھا۔ اس کو فوج نے ہی ٹارچر کر کے ہلاک کیا تھا۔ حسن ناصر پیٹ میں درد اُٹھنے کی  وجہ سے تو نہیں مرا تھا۔ اس کو اسی فوج نے لاہور کے شاہی قلعہ میں ٹارچر کرکے مارا تھا۔

5:  ایم کیو ایم گلیوں بازاروں میں فائیرنگ کر کے لوگوں کو قتل کرتی ہے ۔۔۔  کیا فوج نے ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران سندھ میں ہیلی کاپٹر سے فائیرنگ کر کے لوگوں کو قتل نہیں کیا تھا۔

الطاف حیسن بیان دے کر لڑتا ہے پھر معافی مانگ کر ہتیھار پھینک دیتا ہے۔  کیا فوج نے یہ بیان نہیں دئیے تھے کہ ہم کھیتوں، گلیوں، محلوں اور سڑکوں میں لڑیں گے۔ پھر ہتھیار کس نے پھینکے؟  اگر کوئی فوج کو ان کے یہ کارنامے یاد کرا رہا ہے تو اتنا غصہ کس بات پر ہے۔

نوٹ:  اس مضمون کو ایم کیو ایم اور الطاف حسین کے حق میں قطعی طور پر نہ لیا جائے۔ ایم کیو ایم ایک فاشسٹ تنظیم ہے۔ وہ یہ سب کرتی ہےجو چارج شیٹ میں لکھا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا فوج بھی وہی نہیں کرتی رہی ہے اور اب بھی کر رہی ہے ۔

یہ دو دوستوں میں مفادات کی لڑائی ہے ۔۔