برطانیہ کے عام انتخابات، ایک جائزہ
- منگل 05 / مئ / 2015
- 5109
19ویں صدی تک برطانیہ میں ووٹ کا حق صرف صاحب ثروت لوگوں کو ہی حاصل تھا۔ یہ اشرافیہ صرف 3 فی صد تھے ۔ اس میں عام شہریوں کو ووٹ کا حق حاصل نہ تھا اور صرف زمین و جائیداد کے مالک ہی اس کا استعمال کر سکتے تھے۔ پھر 1918میں 21سال کی عمر کے لوگوں کو ووٹ کا حق دے دیا گیا لیکن 30سال کی عمر کی شرط عورتوں پر لاگو تھی ۔ پھر 1969میں ہر عمر کے افراد ووٹ دینے کا حق دیا گیا۔برطانیہ کی جمہوریت 800سال پر محیط ہے ۔تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ موجودہ برطانوی پارلیمنٹ کا نظام عوامی امنگوں کے مطابق نہیں رہا ۔
برطانیہ کی تین بڑٖی پارٹیوں میں سب سے زیادہ پرانی کنزرویٹو پارٹی ہے جس کی بنیاد 1834 میں رکھی گئی تھی ۔ لیبر پارٹی کی بنیاد 1900 میں رکھی گئی۔ لبرل پارٹی کی تاریخ تو پرانی ہے اور اب یہ لبرل ڈیموکریٹس کہلاتی ہے ۔ موجودہ شکل میں یہ 1988 میں سامنے آئی تھی۔ چوتھی UKIP دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی ہے۔ اس کی بنیاد 1993 میں رکھی گئی۔ لبرل ڈیموکریٹس کی بنیاد اگرچہ 1988 میں رکھی گئی تھی مگر اس کی جڑیں برطانوی سیاسی تاریخ میں بہت گہری ہیں ۔ اس کی مادر جماعت لبرل پارٹی 1630 میں چارلس دوم کے دور میں وگ پارٹی کے نام سے موجود تھی۔
وگ پارٹی اشرافیہ کی جماعت تھی جو بادشاہ کے اختیارات میں تخفیف اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافہ کی حامی تھی۔ یہ پہلی بار 1830 میں برسر اقتدار میں آئی ۔ وگ پارٹی کے روشن خیال اراکین پر مشتمل لبرل پارٹی پر قائم ہوئی۔اس کے بعد وہ تیس سال اقتدار میں رہی۔ پہلی جنگ عظیم میں اس پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی ۔ اس کا ایک بڑا حصہ لیبر پارٹی سے جا ملا ۔ 1974 کے انتخابات کے بعد وزیر اعظم ہیتھ نے لبرل پارٹی کو ٹوری پارٹی کیساتھ مخلوط حکومت بنانے کی پیشکش کی ، لیکن یہ نہ ہو سکا۔ 1979کے انتخابات میں لیبر پارٹی کی شکست کے بعد اس کے چار وزیروں نے علیحدہ سوشل ڈیمو کریٹ پارٹی کا اتحاد قائم کیا۔ اس اتحاد نے 25فی صد نشستیں حاصل کیں اور 2مارچ 1988کو یہی اتحاد انضمام میں بدل گیا اور اس طرح ایک نئی جماعت لبرل ڈیموکریٹس وجود میں آئی۔
برطانیہ کی تاریخ کے یہ 55ویں الیکشن ہونگے جو ہر پانچ سال بعد ہوتے ہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کا ایوان650پارلیمنٹیرینز پر مشتمل ہوتا ہے۔ حکومت سازی کے لئے 226نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ 2010کے الیکشن میں کنزرویٹو یعنی ٹوری پارٹی نے 307نشستیں حاصل کی تھیں جبکہ لیبر پارٹی نے258اور لبرل ڈیموکریٹس نے 57 نشستوں پر کامیابی حاصل کیں ۔ ٹوری پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹ نے مل کر پچھلی حکومت بنائی تھی۔ اس بار بھی یہ ممکن ہے کہ کوئی سی بھی دو پارٹیوں کے اتحاد سے حکومت بنے گی۔البتہ اس بار UKIPکے لیڈر نائجل فراج بھی کافی سیٹیں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ پچھلے بلدیاتی انتخابات میں انہوں نے غیر معمولی سیٹیں حاصل کی تھیں ۔ یہ دائیں بازو کی انتہا پسند سیاسی جماعت ہے ۔اس کا بنیادی مطالبہ ہے کہ برطانیہ میں مقیم امیگرنٹس کو برطانیہ سے نکال دیا جائے کیونکہ یہ سفید فام لوگوں کا ملک ہے۔ برطانیہ کی تمام سیاسی پارٹیاں اس پارٹی کو انتہا پسند کہتی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت ہے گزشتہ دو دہائیوں سے اس جماعت نے ترقی کی ہے اور اب یہ اس الیکشن میں بہتر پوزیشن لے کر حیران کر نے کی پوزیشن میں ہے۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حالیہ انتخابات برطانیہ کی تاریخ کے سب سے غیر متوقع انتخابات میں سے یہ ایک ہو سکتے ہیں۔ کاروباری دنیا کے لئے لیبر کی پالیسیاں بیان کرتے ہوئے اس کے لیڈر ایڈ ملی بینڈ نے خبردار کیا ہے کہ وزیر اعظم کا یورپی اتحاد کی رکنیت کے متعلق ریفرنڈم کا وعدہ، دراصل برطانوی اثرو رسوخ کے لئے ایک غیر معمولی خطرہ ہو سکتا ہے۔ نائب وزیر اعظم اور لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما نک کلنگ نے کہا کہ انتخابی مہم میں ان کی جماعت مدلل طریقے سے اصولوں کی بات کرے گی۔ ان انتخابات میں معیشت اور سرکاری اخراجات میں کٹوتیاں ، برطانیہ کی یورپی اتحاد کی رکنیت، این ایچ ایس کا مستقبل اور امیگریشن جیسے موضوعات انتخابی مہم میں توجہ حاصل کریں گے۔
میرا تجزیہ اور جائزہ یہ ہے کہ پچھلی حکومت کی طرح اس الیکشن میں بھی کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی ۔ نئی حکومت مخلوط ہی ہوگی۔ البتہ اس بار لیبر پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ پچھلی حکومت کی ناقص کار کردگی سے کچھ لوگ ناراض ہیں۔ خاص کر ایشیائی عوام تو اس بار کھل کر لیبر پارٹی کا ساتھ دیں گے ۔ اس ملک میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ ان کا رول بھی انتخابات میں بڑا اہم ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ لیبر پارٹی ایشیائی باشندوں کے لئے ان کے مسائل کا حل ہے جبکہ ٹوری پارٹی کی سخت پالیسی ہے ۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا یہ خواب کہ وہ اس بار ملک کو بدل دیں گے شاید خواب ہی رہے گا ۔
وزیر اعظم نے لیبر پارٹی کے ایڈ ملی بینڈ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے برسراقتدار آنے سے معیشت کے بحران کاخطرہ ہے۔ اس بار ان دو بڑی پارٹیوں نے اپنے مینو فیسٹو میں عوام کو غیر معمولی فائدہ پہنچانے کے وعدے کئے ہیں ۔ ہر جماعت NHS سروسز بہتر بنانے کی دعویدار ہے ۔ ایسا دکھائی دیتا کہ یہ مسئلہ اس انتخابات کا اہم ترین موضوع ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم نے بیان دیا کہ ہم الیکشن جیت کر 10لاکھ افراد کو سستے مکانات دیں گے اورقانون بنائیں گے لوگوں کو 30 گھنٹے سے کم کام کرنے پر ٹیکس فری کی سہولت ہو گی۔ مزید یہ کہhousehold benefit capکو 16326,000 سے کم کر 16323,000سالانہ کر دیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ تیسری بار وزیر اعظم نہیں بننا چاہتے۔
حالیہ سروے کے مطابق دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ جن علاقوں میں ایشیائی باشندوں کی اکثریت ہے وہاں لیبر پارٹی کے نمائندے ہی جیتیں گے۔ سکاٹ لینڈ میں یہ بڑی پارٹیاں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔ پچھلے سال سکاٹ لینڈ کی آزادی کے لئے ہونے والے ریفرنڈم میں سکاٹش نیشنل پارٹی کو مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ عام انتخابات میں یہی پارٹی جیتے گی۔ گزشتہ انتخابات میں کئی مسلم امیدوار سکاٹش نیشنل پارٹی کے ٹکٹ پر کھڑے ہوئے تھے ۔ اس بار ٹوری پارٹی نے 15مسلم امیدوار کھڑے کئے ہیں اور اتنے ہی لیبر پارٹی کی طرف سے بھی امید وار ہیں ۔ اب مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد ہو گئی ہے کوئی سیاسی جماعت مسلمانوں کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ پارلیمنٹ کے 60حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹر فیصلہ کن ثابت ہونگے ۔ ان حلقوں میں مسلمانوں کی تعداد 50فی صد سے زائد ہے۔
اس وقت برطانیہ میں مسلم آبادی کی تعداد گزشتہ مردم شماری کے مطابق 27 لاکھ 70 ہزار ہو گئی ہے ۔ پچھلے عام انتخابات میں مسلمانوں اور دوسری نسلی اقلیتوں کے ووٹو ں کی تعداد 168حلقوں میں جیتنے والے اراکین پارلیمنٹ کے دوٹوں کی تعداد سے زیادہ تھی ۔ اس لحاظ سے آپریشن بلیک ووٹ کا کہنا ہے کہ مسلم ووٹ 60 نشستوں کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔ مسلم ووٹ کی اہمیت کے پیش نظر اس بار تینوں بڑی سیاسی جماعتوں نے ملکر42مسلم امیدوار کھڑے کئے ہیں ۔
مسلم نوجوانوں میں گرین پارٹی مقبول ہے اورگرین پارٹی کو مسلم نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں۔ برطانیہ کے یہ انتخابات اس لحاظ سے مسلمانوں کے لئے بے حد اہم ہیں کہ اس بار پہلی مرتبہ مسلم منشور پیش کیا گیا ہے۔ یہ منشور مسلمان تنظیم Mend کے سربراہ سفیان غلام اسماعیلی کے ذریعے تیار ہؤا ہے۔ اس وقت برطانیہ میں مسلم آبادی کی تعداد اس سطح پر پہنچ گئی ہے کہ ان کو در پیش مسائل کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کے منشور کے خاص خاص پوائنٹس یہ ہیں:
(1) ملازمتوں اور روزگار میں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خلاف اقدامات کئے جائیں ۔ مسلم طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے لئے شرعی قرضے دیئے جائیں۔
(2) میڈیا میں مسلمانوں کے خلاف منافرت پھیلانے کے سد باب کے لئے مؤثر قانون وضع کئے جائیں اور اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ قرآن پاک و دہشت گردی اور معصوم لوگوں کے قتل کے حق میں نہیں ہے۔
(3) برطانیہ کی خارجہ پالیسی اخلاقی قدروں پر مبنی ہونی چاہئے۔
(4) آزاد فلسطین کے قیام کی حمایت اور 2017تک ارض فلسطین پر اسرائیل قبضے کے تسلط کے خاتمے کا وعدہ کیا جائے۔
Mend کا یہ منشور برطانوی معاشرہ میں مسلمانوں کے سیاسی اور اقتصادی انضمام میں مدد گار و دستاویز ثابت ہو گا ۔