مغربی بنگال میں پھیکا پڑتا بھگوا رنگ

  • منگل 05 / مئ / 2015
  • 5389

ایک طویل عرصہ سے بی جے پی اور اور ٹی ایم سی کے اعلیٰ عہدیداران کے درمیان نوک جھونک اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کھیل جاری تھا۔ حالیہ دنوں اس کا ایک پڑاؤ کولکاتا کارپوریشن اور میونسپلٹی الیکشن کے نتائج کی شکل میں مکمل ہوگیا ہے۔ نتائج نے بی جے پی کے بھگوا رنگ کو کافی حد تک پھیکا کیا ہے۔

بی جے پی طویل عرصہ سے مغربی بنگال میں پیر جمانے میں مصروف ہے لیکن فی الوقت ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس نے کولکاتا کارپوریشن اور 91میونسپلٹیوں کے انتخابات میں اپوزیشن کا صفایا کردیا ہے۔ 91میونسپلٹیوں میں سے 71میں ترنمول کانگریس کو واضح اکثریت ملی ہے۔کارپوریشن کے 144وارڈوں میں سے ترنمول کانگریس نے 113 سیٹیں حاصل کی ہیں۔ بایاں محاذ محض 16 وارڈوں میں ہی سمٹ کر رہ گیا ہے۔ اور بی جے پی 7 اور کانگریس 5وارڈوں میں ہی کامیاب ہوسکی ہے۔موجودہ کامیابی کا اگر 2010سے موازنہ کیا جائے تو اس وقت کے کارپوریشن انتخابات میں ترنمول کانگریس کو 95سیٹیں حاصل ہوئی تھیں ۔بعد میں کانگریس کے 8 کانسلر ترنمول کانگریس میں شامل ہو گئے تھے۔اس طرح ترنمول کانگریس کو دس سے گیارہ سیٹوں کا فائدہ ہوا ہے۔دوسری جانب بائیں محاذ کو نصف سے زائد سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔بڑی کامیابی کے بعد ممتا بنرجی نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہم اس جیت کو بنگال کے عوام کے نام کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نیپال میں زلزلہ کی وجہ سے کارکنوں کوجشن منانے سے روک دیا ہے۔

کٹھمنڈو کے زلزلہ نے نہ صرف ترنمول کانگریس کے جشن کو روکا بلکہ بے شمار انسانوں اور ان سے وابستہ خوشیوں کو ختم کر دیا ہے۔ زلزلہ میں لاکھوں انسان متاثر ہوئے ہیں۔ ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین اور بچے موت کا لقمہ بنے ہیں اوربڑی تعداد میں عمارتیں زمیں دوز ہوئیں ہیں۔زلزلہ کے بعد نیپال میں بے شمار کیمپ لگے ہوئے ہیں جہاں مریضوں کا علاج جاری ہے۔انسانوں پر آئی قدرتی آزمائش کے وقت تقاضا ہے کہ ہرفردبلا لحاظ مذہب و ملت ، انسانوں کو انسان جانتے ہوئے مدد کے لیے ہاتھ بڑھائے ۔شاید یہی و ہ جذبہ خدمت خلق ہے جس کے نتیجہ میں ملک عزیز ہندوستان کی معروف مسلم و غیر مسلم تنظیمیں حتی المکان بچاؤ اورراحتی کاموں میں مصروف عمل ہیں۔اور ان کوششوں کی ہر سطح پر پذیرائی بھی کی جا رہی ہے۔

الیکٹرانک میڈیا،پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا نے تباہی کی جو بھیانک منظر کشی کی ہے وہ حد درجہ قابل رنج وملال ہے۔حادثہ کے بعد حکومتِ نیپال جو ا گرچہ بہت مستحکم نہیں،متاثرین کی مدداور آباد کاری میں مصروف ہے۔ پڑوسی ممالک ، ہندوستان ،پاکستان اورچین بھی زلزلہ متاثرین کی مدد میں پیچھے نہیں رہے ۔ امریکہ و برطانیہ کے علاوہ دیگر ممالک بھی اس پریشانی میں متاثرین نیپال کے ساتھ ہیں۔

اس قدرتی آفت کے ذکر کے بعد آئیے ایک بار پھر مغربی بنگال کی طرف رخ کرتے ہیں۔ ستمبر2014 میں دس ریاستوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو 33میں سے صرف 12 سیٹیں ہی مل پائیں تھیں اس کے باوجود مغربی بنگال کی دو میں سے ایک نشست، یعنی 50فیصد پر بی جے پی کامیاب ہوئی تھی۔اور اسی وقت سے یہ کوششیں بھی جاری تھیں کہ آئندہ چاہے وہ کارپوریشن الیکشن ہوں،میونسپلٹی کے الیکشن ہوں یا پھر 2016کے اسمبلی الیکشن ،ہمیں ہر سطح پر پیش رفت کرنی ہے۔اسی امید پربی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے گزشتہ دنوں مغربی بنگال میں لگاتار دورے کئے ہیں۔اس کے باوجودحالیہ الیکشن کے نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ بی جے پی کا سورج جس تیزی سے ابھرا تھااسی تیزی سے ڈوبنے کے قریب ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پارلیمانی انتخاب کے وقت جس طرح بے شمار وعدے اور خوبصورت خواب عوام کو دکھائے گئے ، وہ اب چکنا چور ہوتے نظر آرہے ہیں۔لہذا عوام کیونکر بار بار صرف وعدوں اور خوابوں پر اعتماد کرتے ہوئے بی جے پی کو کامیابی سے ہمکنا کرے؟ بی جے پی سے عوام کے اعتماد کے اٹھ جانے کی واضح مثال گزشتہ دہلی اسمبلی الیکشن بھی ہیں۔جہاں ایک طرف کانگریس کا صفایا ہواتو وہیں بی جے پی کو بھی شکست فاش ہوئی۔اور اب بی جے پی کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ فی الوقت بی جے پی کہیں بھی ابھرتی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے۔ کانگریس بھی تاریخی شکست کے بعداپنے وجود کو برقرار رکھنے میں مصروف عمل ہے۔پارٹی کے وہ لیڈران جو عیش و عشرت کی زندگیاں گزارتے آئے ہیں، چلچلاتی دھوپ میں کہیں کسانوں کے حق میں نعرہ لگاتے ہوئے ،کہیں پیدل مارچ کرتے ہوئے تو کہیں بھوک ہڑتال ، مظاہرے اورو جلوسوں میں مصروف ہیں۔ اُن کی اس حالت کو دیکھتے ہوئے ،محسوس تو یہی ہوتا ہے کہ کسانوں کا مسئلہ اور بل اور آرڈیننس تو ایک بہانہ ہے۔ درحقیقت وہ اپنی بقا کی سعی و جہد میں مصروف ہیں۔ ممکن ہے اس طرح پھر وہی کانگریس جس نے زمینداری کے خاتمہ پرکارپوریٹس کو وجود بخشاتھا،آج بظاہر کارپوریٹس کی مخالفت کرتے ہوئے ،کسانوں کو ورغلا کراور عوام کو بے وقوف بنا کر،ایک بار پھروراثتی سیاست کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہو جائے۔

ٹھیک یہی معاملہ مغربی بنگال اور آسام میں بھی ہے۔ جہاں گزشتہ دنوں بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ سال آسام میں ہونے والے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی اگر اکثریت میں آئی تو وہ لازماً بنگلہ دیشی ہندومہاجرین کو ملک کی شہریت دلائیں گے ۔ساتھ ہی وہ تمام حقوق بھی جو آئین میں درج ہیں ۔وہیں آسام میں رہائش پذیر مغربی بنگال کے وہ مسلمان جو بنگالی زبان بولتے ہیں، ہر وقت شک کے دائرہ میں رہتے ہیں،اور کبھی بھی انہیں بنگلہ دیشی کے نام پرہراساں کیا جاسکتا ہے ۔اس کے باوجود یہ بے چارے مسلمان جائیں بھی تو کہاں جائیں؟کیونکہ یہاں ایک طرف کانگریس ہے تو دوسری طرف ترنمول کانگریس ۔اور یہ دونوں ہی خوب اچھی واقف ہیں کہ مخصوص وقت کے بعد کیونکر اور کیسے مسلمانوں کا استحصال کیا جاسکتا ہے۔

اس استحصال کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ووٹ ڈالنا یا نہ ڈالنا آج تک ایک شرعی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ پھر یہی ممکن ہے کہ خدا کی جانب سے مسلط کئے گئے افراد، جو فیصلہ بھی صادر فرمادیں، وہی جھک کے قبول کر لینا چاہیے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کا بھلا ہو یا نہ ہو بی جے پی کا بھلا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ کیونکہ متاثرین ومشاہدین ہی نہیں پارٹی کے اندر بھی کارکنان حد درجہ پریشان ہیں۔جس کی تازہ مثال سابق مرکزی وزیر ارون شوری ہیں جنہوں نے وزیر اعظم نریندرمودی اور ان کے کام کاج کے طریقوں پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔

شوری نے نیوز چینل 'ہیڈ لائنس ٹوڈے' کے ایک انٹرویو میں کہا کہ مودی ملک کے اقتصادی نظام کو ٹھیک سے نہیں چلا پا رہے ہیں۔ انہوں نے مودی پر اقلیتوں پر ہونے والے زبانی حملوں پر آنکھ بند رکھنے کا بھی الزام لگایا ہے۔واضح رہے کہ ارون شوری اٹل بہاری واجپئی سرکار کے دوران قد آور لیڈروں میں شمار کیے جاتے تھے اور انہیں اطلاعات و نشریات کی وزرات کا عہدہ سونپا گیا تھا۔