جرمنی میں اسلام اور مسلمانوں کی بحث
- منگل 05 / مئ / 2015
- 4793
مشرقی اور مغربی جرمنی کے دوبارہ اتحاد کے 25 سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے مطالبہ کیا ہے کہ جرمنی میں مقیم مسلمانوں کو ’’جرمنی کی بنیادی اقدار‘‘ کے مطابق زندگی گزارنی چاہئے۔ جرمنی اس مسئلہ پر انحراف برداشت نہیں کرے گا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ جرمنی کے مسلمانوں کو کسی ذہنی تحفظ کے بغیر جرمنی کی اقدار، دستور، قانون اور آئین سے ہم آہنگ ہونا چاہئے‘‘۔
ایک دوسری تقریب سے خطاب میں جرمن صدر نے اسی بات کو دہراتے ہوئے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ ہمیں جرمنی کو سمجھنے کیلئے ایک واضح مؤقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ جرمنی سے تعلق صرف پاسپورٹ کا حصول، مذہب یا فیملی تک محدود نہیں ہے۔ بلاشبہ عیسائیت کا جرمنی سے اہم تعلق ہے۔ اسی طرح یہودیت کا بھی یہاں سے تعلق ہے۔ ہماری عیسائی یہودی مشترکہ تاریخ ہے۔ لیکن اب اسلام بھی جرمنی سے تعلق رکھتا ہے اور اسے بھی یہاں خاص مقام حاصل ہے۔
جرمن صدر کے یہ ریمارکس اس عوامی مباحثے کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں تارکین وطن کے کردار پر بات کی گئی تھی۔ ان تارکین میں بہت سے دو دہائیاں گزر جانے کے باوجود ’’گیسٹ آر بائیڈر‘‘ یعنی مہمان ورکر یا ملازم تصور کئے جاتے ہیں، جن کی جائے پیدائش یا نسل دوسرے ممالک میں ہونے کی وجہ سے ایک دن واپس جانا پڑتا ہے یا جانا ہوتا ہے۔ جرمنی کے دانشور مسلمانوں پر یہ الزام لگاتے ہیں (جو ایک حقیقت بھی ہو سکتا ہے) کہ وہ جرمن ویلفیئر سٹیٹ (فلاحی ریاست) کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ لوگ اس جرمن معاشرہ سے ہم آہنگ نہیں ہوتے، ضم ہونا تو دور کی بات ہے اور ان لوگوں کی وجہ سے جرمنوں کی انٹیلی جنس کم ہو رہی ہے۔
اس کے باوجود جرمنی کی شمالی مغربی ریاست میں یورپ میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف جذبات کے توڑ کیلئے آئندہ سال سے اسکولوں میں اسلام کی تعلیم دی جائے گی تاکہ جرمنی میں مقیم مسلمان اپنے بچوں کو اسلامی تعلیم سے آراستہ کر سکیں۔ ان اسلامی تعلیمات کو باقاعدہ اسکولوں کے نصاب کا حصہ بنایا جا رہاہے۔ شمالی مغربی ریاست لوئر سیکسوکے 142 اسکولوں میں اس وقت تجرباتی طور پر اسلامی تعلیمات کی تدریس جار ی ہے اور ان اسکولوں میں لگ بھگ 2ہزار طلبا اسلامی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
دوسری طرف انتہا پسند مسلمانوں کی ایک مسجد کو جرمن حکام نے مقفل کر دیا ہے۔ ہیمبرگ کی ایک مسجد جہاں 9/11 کے حملوں کے بعد اکثر بعض ’’مشتبہ حملہ آور‘‘ یا انتہاپسند یہاں نماز ادا کرنے کیلئے آیا کرتے تھے۔ جرمن حکام نے یہ باور کرتے ہوئے کہ انتہاپسند مسلمانوں کا اس مسجد میں دوبارہ آنا جانا شروع ہو گیا ہے، مسجد کو سرے سے بند کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مسجد طیبہ کے زیرانتظام چلنے والے ثقافتی مرکز اور مدرسہ کو بھی تالا لگا دیا گیا ہے۔ یہ ثقافتی مرکز سخت گیر اسلامی نظریات کے حامل افراد کی بھرتیوں کا مرکز بن گیا تھا۔
وزارت داخلہ کے ترجمان فرینک ریسکریٹر نے ڈچ ٹی وی کو بتایا کہ مسجد طیبہ برسوں پہلے القدس مسجد سے موسوم تھی جہاں 9/11 میں شامل حملہ آور امریکہ منتقل ہونے سے قبل ’’ملاقاتیں‘‘ کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد سے انٹیلی جنس مسجد میں جاری سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی۔ انٹیلی جنس ایجنسی نے اپنی ایک رپورٹ میں واضح کیا کہ شہر کی یہ مسجد ایک بار پھر ’’جہادیوں‘‘ کی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مسجد کے ثقافتی فورم سے وابستہ افراد نے ازبکستان میں ایک انتہاپسند تربیتی کیمپ کا بھی دورہ کیا ہے۔ انٹیلی جنس حکام کے مطابق ازبکستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ کا دورہ کرنے والی گیارہ رکنی ٹیم اس مسجد میں تشکیل دی گئی تھی۔ ٹیم میں شامل بیشتر ارکان نومسلم جرمن تھے اور یہ لوگ ہمیشہ اکٹھے مسجد طیبہ میں نماز ادا کرنے آیا کرتے تھے۔ یہ سب نام نہاد جہاد میں شرکت کے خواہاں تھے۔ بیس پولیس کمانڈوز کی ایک ٹیم نے چھاپہ مار کر تمام پرنٹ میٹریل قبضہ میں کر لیا ہے، جس میں انتہاپسندی کا درس دینے والا مواد اور کمپیوٹر بھی شامل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جرمنی میں مسجد کو تالا لگانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔
جرمنی مں ان دنوں امریکہ کے ڈرون طیاروں کا بھی خوب چرچا ہے جو آئے دن دہشت گردوں اور انتہاپسندوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں کہ امریکی سی آئی اے کے نزدیک بغیر پائلٹ کا یہ طیارہ ایک ’’ معجزانہ ہتھیار‘‘ ہے۔ یہ ڈرون طیارے افغانستان میں تعینات بین الاقوامی حفاظتی فوج ایساف کی دہشت گردوں کے تعاقب کی مہم کا اہم ترین ہتھیار ہیں۔ جنہیں افغان سرحد کے پار یعنی پاک سرزمین شادباد کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پہلے سے کہیں زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ حملے پاکستانی علاقے میں کیے جا رہے ہیں اس لئے یہ پاکستان کی علاقائی سا لمیت و حاکمیت کی خلاف ورزی ہے، جس کا جواز صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب یہ ثابت کیا جا سکے کہ پاکستانی علاقے سے حملے کیے جا رہے تھے۔ پاکستانی حکومت یا تو ان حملوں کو روک نہیں سکتی یا پھر انہیں روکنا نہیں چاہتی تھی۔ جرمن عوام کو حکومت پاکستان کی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اگر ڈرون حملے غلط اور ناجائز ہیں تو پھر حکومت وقت امریکہ سے ڈرون جہازوں کی ٹیکنالوجی کیوں مانگ رہی ہے؟
تین مرتبہ دنیا کی ’’ طاقتور ترین خاتون ‘‘ کا اعزاز رکھنے والی جرمن چانسلر انجیلا مرکل جس کا تعلق سابقہ سوشلسٹ مشرقی جرمنی سے ہے اور جسے جرمنی کے علاوہ یورپین یونین پر ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے طاقتور ترین خاتون چنا گیا تھا، نے کہا کہ مسلمان اگر جرمنی میں رہنا چاہتے ہیں تو (میرے حساب سے یہاں جرمنی کی بجائے یورپ ہونا چاہئیے) انہیں ملک کے آئین و دستور کی پابندی کرنی ہو گی، شریعت کی نہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بہرحال اب جرمنی میں مسلمان بھی موجود ہیں لیکن اسلام کے حوالے سے یہ ضروری ہے کہ اسلامی اقدار اور جرمنی کے آئین و دستور میں تال میل ہو۔ جرمنی میں آئین کا اطلاق ضروری ہے، شریعت کا نہیں۔ انجیلا یہ بھی کہتی ہیں کہ جرمنی میں ایسے اماموں کی قطعی کوئی گنجائش نہیں جو جرمن زبان و ثقافت اور آئین و دستور سے نابلد ہوں۔ جرمنی میں ایسے پیش اماموں کی ضرورت ہے جنہوں نے جرمنی میں تعلیم حاصل کی ہو اور ان کی سماجی و ثقافتی جڑیں یہیں پیوست ہوں۔ جرمنی عیسائیت و یہودیت اقدار سے عبارت ہے اور یہ دونوں مذاہب صدیوں سے یہاں آباد ہیں۔
اس نقطہ نظر کا اظہار انجیلا مرکل نے ایسے وقت میں کیا ہے جب جرمنی میں لگ بھگ چالیس لاکھ پچاس ہزار مسلم آبادی کی یکجہتی دانشوروں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ اپنے نقطہ نظر کا برملا اظہار کرنے والے اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مسلمان فلاحی اقدامات سے استفادہ نہیں کرتے، مقامی افراد سے یکجہتی کے منکر ہیں، تعلیمی میدان میں بہت پیچھے ہیں، انتہاپسندانہ نظریات کے حامل ہیں اور ان کی جڑیں اپنے اپنے ملکوں میں ہیں اور یہ کہ بحیثیت مجموعی قدامت پسند ہیں۔
یہ بحث اس امریکی اور برطانوی تشویش کے پس منظر میں شروع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یورپی شہروں میں ممبئی طرز کے حملوں کی سازش تیار کرنے والے اور جرمنی میں رہنے والے انتہاپسندوں کی طرف سے دہشت پسندانہ حملے کا خطرہ ہے۔ یہ لوگ خاص طور سے برلن کے سنٹرل اسٹیشن کو ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں۔ جرمن حکومت نے بہرحال ایسے کسی فوری حملے یا خطرے سے انکار کیا ہے لیکن اس چھڑنے والی بحث میں جرمنی کے اعتدال پسند سیاستدان بھی میدان میں نکل آئے ہیں۔ ان میں کرسٹیان وولف کے قریبی ساتھی بھی شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ اپنی ساری جوانی جرمن معاشرہ کو دینے والے ابھی تک ’’ گیسٹ آر بائیڈر‘‘ یعنی ’’مہمان مزدور‘‘ ہیں۔ ان کو کبھی بھی جرمن نیشنل (100 فیصد) تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ایسی صورت میں ان کا رویہ سمجھ میں آتا ہے۔
ہم بھی گویا کسی ساز کا تار ہیں
چوٹ کھاتے رہے گنگناتے رہے