سچ یا جھوٹ کا بھید

  • منگل 12 / مئ / 2015
  • 4263

پینٹا گون کی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ وہ معاہدے کے مطابق 2017 تک کیمیاوی ہتھیاروں کا ذخیرہ تباہ نہیں کر سکے گا، جبکہ ان پر اخراجات بھی 9 ارب ڈالر سے زیادہ آئیں گے۔ پینٹا گون کے اعلیٰ عہدیداروں نے ارکان کانگریس کے ساتھ ملاقات میں بتایا ہے کہ تباہی کے علاقوں کے اردگرد رہنے والے امریکی شہریوں کے تحفظ کے للئے کم از کم گیارہ بارہ برس درکار ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ ذخیرہ تباہ کرنے پر 15 ارب ڈالر اخراجات کا تخمینہ تھا مگر اب یہ اندازہ 25 ارب ڈالر ہے۔ یاد رہے کہ امریکہ کے پاس اس وقت 45 ہزار ٹن ہلاکت خیز کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں۔

ادھر سنڈے ایکسپریس میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی سیکریٹ سروس ایم آئی فائیو کو خطرہ ہے کہ پناہ گزینوں کے روپ میں برطانیہ آنے والے افراد خطرناک کیمیاوی اشیا بھی اپنے ساتھ لا رہے ہیں۔ سیکریٹ سروس کے ایجنٹوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ممکنہ دہشت گردی کی روک تھام کے لئے چوکس رہیں۔ اخبار نے آگے چل کر لکھا ہے کہ اس بات کا خطرہ انٹرنیشنل سپائی آپریشن میں یہ جاننے کے بعد سامنے آیا ہے کہ داعش اپنے کیمیائی و حیاتیاتی ہتھیار دہشت گردوں تک پہنچانے کے لئے ” اپنے لوگوں “ جو کہ پناہ گزینوں کے بھیس میں ہونگے،  کے ذریعے برطانیہ بھیج سکتے ہیں۔ اور یہ کہ داعش نے ان کو وارننگ دی ہے کہ اگر انہوں نے حکم عدولی کی تو ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ وغیرہ وغیرہ
 
سوال یہ ہے کہ برطانیہ کے اس ” سچ “ کا یقین کون کرے گا؟ آج دنیا کو اس بچے کا انتظار ہے جو برہنہ بادشاہ کو یہ بتا سکے کہ وہ برہنہ ہے۔ ترقی ، امداد اور خیر سگالی کے جتنے خوش نما لباس آج یورپ اور امریکہ نے پہن رکھے ہیں، وہ سب کے سب ہر چند کہیں ہیں کہ نہیں ہیں۔ اس لئے کہ انسانوں اور انسانوں میں تفریق کرنے والا نظام خواہ کتنی ہی کامیابی کا دعویٰ کرے اس وقت تک ناکام کہلائے گا جب تک کہ فلاح کا دائرہ پوری انسانیت کو یکساں طور پر اپنے گھیرے میں نہیں لے لیتا۔ اس کی مثال میں یوں دیتا ہوں کہ جراثیمی اور کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں دنیا آج کتنا جانتی ہے؟ ان ترقی یافتہ ممالک امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اور اٹلی وغیرہ نے اعلان شدہ تجربات کے علاوہ جراثیمی ، کیمیاوی اور ریڈیائی تابکاری کے کتنے خفیہ تجربات کئے ہیں؟ 
 
اپنی بات کے ثبوت کے لئے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ ایٹم اور ہائیڈروجن بموں سے کہیں زیادہ خطرناک وہ جراثیمی اور کیمیاوی ہتھیار ہیں جو امریکہ اور مغربی ممالک نے تیار کر رکھے ہیں۔ گزشتہ سال جون یا جولائی کے کسی شمارے ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ اس کی شاہد ہے۔ آپ کو یاد ہو گا (غالباً 1996) بھارت کے شہر سورت میں طاعون کی ہولناک وبا پھیلی تھی۔ یہ پھیلی نہیں پھیلائی گئی تھی تا کہ ٹیٹرا ساکلین بنانے والی ٹرانس نیشنل کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے اور یہ بھی ٹیسٹ کیا جا سکے کہ ضرورت پڑنے پر یہ بھی معلوم کیا جا سکے کہ طاعون یا کوئی دوسری وبا کامیابی کے ساتھ پھیلائی جا سکتی ہے یا نہیں؟
 
یہاں تک کہ ایڈز کے جرثومے کے بارے میں ایک امریکی سائنسدان ڈاکٹر ایلن جونیئر کا دعویٰ ہے کہ ایڈز کا وائرس بھی امریکی جراثیمی پروگرام کی پیداوار ہے۔ اسی ڈاکٹر ایلن جونیئر کی کتاب جو ایڈز کے ” سوداگروں “ کے بارے میں ہے، 1998 میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کے کچھ حصے نیو افریقن میگزین میں بھی شائع ہوئے تھے۔ لیکن نہ ڈاکٹر ایلن کی کتاب نے شہرت پائی اور نہ اس سے متاثر ڈاکٹر اوضو کی مایہ ناز کتاب کو پذیرائی مل سکی جس کے وہ مستحق تھے۔ ڈاکٹر ایلن نے لکھا ہے ” ایڈز کے وائرس کی پیچیدہ سالمی بناوٹ کی بنا پر یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یا تو اس وائرس کو بنایا گیا ہے یا انجینئرڈ کیا گیا ہے یا مکس کیا گیا ہے۔ یا پھر یہ کسی دوسرے مہلک وائرس یا کسی قدیم جرثومے کی پیداوار ہے۔“  ڈاکٹر اوضو کی ریسرچ ہے کہ باخبر امریکی سائنس دانوں کو یقین ہے کہ ایڈز وائرس جراثیمی ہتھیاروں کی تیاری کی امریکی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔
 
کچھ ایسا ہی دوسرے شعبوں میں ہو رہا ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت سائنس سفید فام کے قبضے میں ہے۔ ترقی کو جو مثبت مظاہر ہمیں اپنے چاروں طرف دکھائی دیتے ہیں ان سے کہیں زیادہ منفی مظاہر دنیا سے پوشیدہ رکھے جاتے ہیں۔ کبھی کسی رسالے یا کتاب میں کچھ چھپ بھی جاتا ہے تو اس بات کا بھرپور انتظام کیا جاتا ہے کہ بات جیسے تیسے ختم کر دی جائے اور افشائے راز کو شہرت کی کھلی فضا نصیب نہ ہو سکے۔
 
کالم ختم کرنے سے پہلے میں آپ کو 2001 میں چھپے والی روسی کتاب کا ایک پیراگراف سنانا چاہتا ہوں۔ ” غیر ملکی کتابوں کا اشاعت گھر “ کے ادارے کی شائع ہونے والی یہ کتاب روسی زبان سے اردو میں ترجمہ کی گئی تھی۔ اس میں لکھا تھا۔
 
امریکہ کی ریاست الباما میں 1971 کے مئی کے مہینے میں جراثیمی اسلحہ پروگرام کے تحت سوزاک کے چار سو غریب سیاہ فام امریکی مریضوں پر ایسے تجربات کئے گئے جن کا مقصد یہ پتہ لگانا تھا کہ سوزاک کا علاج نہ کرنے کی صورت میں مریض پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس زمانے میں اینٹی بائیوٹک دوائیں ایجاد ہو چکی تھیں لیکن سوزاک کے ان سیاہ فام مریضوں کو ان سے محروم رکھا گیا۔ یہاں تک کہ وہ سب مر گئے لیکن تجربہ کرنے والے کامیاب رہے کہ ان کا مقصد پورا ہو چکا تھا۔
 
سو دنیا کو آج اس بچے کا انتظار ہے جو برہنہ بادشاہ کو یہ بتا سکے کہ وہ برہنہ ہے۔
 
جب زندگی کو اپنے موافق نہ کر سکا
تو کشتئ حیات بھنور میں اتار دی