متحدہ یورپ اور برطانیہ
- بدھ 13 / مئ / 2015
- 5225
برطانیہ میں عام انتخابات میں کامیابی کے بعدوزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پہلی بار مکمل طور پر کنزرویٹو پارٹی کے ارکان پر مشتمل کابینہ کی تشکیل پر غور و خوض کرتے ہوئے اپنے اس عزم و عہد کو دہرایا کہ وہ یورپی یونین اور برطانیہ کے تعلقات میں اہم تبدیلیاں لانے کی کوشش کریں گے ۔
انہوں نے اپنی الیکشن مہم میں ذکر کیا تھا کہ وہ آئندہ متحدہ یورپ کیساتھ رہنے کے متعلق اور اس سے علیحدگی کا فیصلہ کریں گے۔ اب اس سوال پر ریفرننڈم ہوگا کہ اب اس یورپین یونین کیساتھ رہنا چاہئے یا علیحدہ ہو جانا چاہئے۔ برطانیہ کو 2017 میں یورپین یونین کی صدارت بھی ملے گی۔ آئندہ سال میں ڈیوڈ کیمرون نے ریفرنڈم کا عزم اور وعدہ بھی کیا ہے۔جرمنی اور فرانس کے انتخابات بھی 2017میں ہونگے جس میں کہ تمام سیاسی طاقتیں یورپی یونین کو دوبارہ تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف ہو ں گی۔ یورپ کے بعض ممالک بھی 2017 کے دوران اپنی پالیسی کی وضاحت کریں گے ۔ برطانیہ کی متحدہ یورپ سے علیحدگی کی بات کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس ملک میں چند برس کے دوران امیگرینٹس کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس وجہ سے یہاں روزگار کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بیروزگاروں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ باہر سے آنے والوں نے کم ریٹ پر کام کرنا شروع کر دیا ہے اور غیر قانونی ذرائع بھی استعمال کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ اس لئے مقامی باشندوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس صورت حال میں برطانیہ کے لوگ نقل مکانی پر بھی مجبور ہو رہے ہیں۔
دنیا سات براعظموں پر مشتمل ہے۔ یورپ کا شمار دو چھوٹے براعظموں میں ہوتا ہے۔ اس کا کل رقبہ 3.93million مربع میل ہے ۔ اس براعظم میں کم و بیش پچاس ممالک ہیں۔ 23زبانیں یورپین کمیونٹی کی آفیشل زبانیں سمجھی جاتی ہیں۔ براعظم یورپ کی گزشتہ تین صدیوں کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اٹھارویں صدی میں 44جنگیں ہوئیں اور انیسویں صدی میں یہ تعداد 52 تھی ۔ بیسویں صدی نے تو سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔دنیا نے دو عالمی جنگیں مشاہدہ کیں اور اس کے علاوہ مزید 72 جنگیں وقوع پذیر ہوئیں جن میں کروڑوں افراد لقمہء اجل بن گئے ۔ اتنے ہی زخمی ہوئے اور لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ۔ ایسا لگتا تھا کہ پورا بر اعظم خون کی ہولی کھیل رہا ہے ۔ جس وقت یہ جنگی بازار گرم تھا تو دوسری طرف دانشوروں کی اقلیت اتحاد یورپ کے خواب دیکھ رہی تھی ۔
گزشتہ صدی میں برطانیہ نے استعماری آباد کاری کا آغاز کیا۔ اور 17ممالک کو زیر نگیں کر لیا ۔ فرانس، ہالینڈ، پرتگال اور سپین نے بھی کالونیاں بنائیں۔ ساری دنیا سے دولت لوٹ کر یورپ میں لائی گئی ۔ افریقہ میں مشہور ہے کہ عیسائی ہمارے براعظم میں تبلیغ دین کے لئے آئے اور بائیبل کے لاکھوں نسخے یہاں چھوڑ گئے مگر ہمارا سارا سونا چاندی اور معدنیات ساتھ لے گئے۔ اس صدی نے یہ بھی دیکھا جس تیزی سے یہ استعماری طاقتیں پھیلی تھیں اسی طرح ان کی بساط لپیٹ دی گئی ۔
نیپولین بونا پاٹ نے 1801میں ریاست متحدہ کا مبہم سا خیال پیش کیا تھا۔ پھر 1816میں فرانس کے دو انقلابی لیڈروں سائمن سینٹ او ر اگسٹینا ٹیری نے ایک مقالہ لکھا جس میں متحدہ یورپ کا ڈھانچہ پیش کیا۔1847میں سب سے پہلے ریاست ہائے متحدہ یورپ کے الفاظ victor Hugo نے استعمال کئے۔ دو عالمی جنگوں نے یورپ کو معاشی طور پر تباہ کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد متحدہ یورپ کا نعرہ پھر بلند ہؤا۔ William PennاورGeorge Washingtonنے امریکہ سے متحدہ یورپ کے تصور کا ساتھ دیا۔1949میں یورپین کونسل قائم ہو گئی اور پھر 1951میں کوئلہ اور فولاد کی کمیونٹی قائم کی گئی۔ بالآخر 1958میں یورپین اکنامک ک تعاون کا قیام عمل میں آیا۔ 1993میں ماسٹر کٹ (Mastritricht-treaty)کے تحت یورپین پارلیمنٹ نے جنم لیا ۔ اس وقت سے 27یورپی ممالک اس میں شامل ہو چکے ہیں۔ اس پارلیمنٹ کے تین دفاتر ہیں اور 732نشستوں پر مشتمل پارلیمنٹ ہے۔
1999میں یورو کرنسی زون قائم ہؤا جن سے ان کے ممبر ممالک کی کرنسی یورو ہو گئی۔ یہ اس صدی کا ایک عظیم سنگ میل تھا۔جس کے ذریعہ سے ریاست متحدہ یورپ کا عملی نقشہ ابھر رہا ہے۔ ان تمام ممالک کی مجموعی آبادی 500 ملین ہے جو دنیا کی آبادی کا7.3فی صد ہے۔ ان ممالک کی مجموعی پیداوار 17.6 ٹریلین امریکی ڈالر ہے جو ساری دنیا کا بیس فی صد ہے۔ یہ پیداوار ان ممالک کے باشندگان کی قوت خرید کی عکاس ہے۔ اس اتحاد میں شامل سب ممالک خود مختار ہیں۔ یہ اتحاد نہ صرف اس کے اراکین کے لئے سودمند ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس براعظم کو اپنی مضبوطی اور اثر رسوخ قائم رکھنے میں معاون ہو گا۔
اگرچہ اس اتحاد کے فوائد بھی ہیں لیکن یونہین کے سوال پر مختلف ملکوں میں مخالفانہ مباحث کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ اب برطانیہ میں اس معاملہ پر ریفرنڈم اس مزاج کی نشاندہی کرتا ہے۔