دھاندلی کی پہیلی

  • جمعرات 14 / مئ / 2015
  • 4700

حکمران جماعت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے کشمکش جاری ہے۔ باقی تمام پارٹیاں خود کو نہ تو غیر جانبدار رکھ رہی ہیں نہ ہی کوئی جانبدارانہ رویہ مکمل طور پر اپناتی ہیں۔ یہ بات سمجھنا ہرگز مشکل نہیں کہ سیاسی پارٹیاں اس وقت دونوں طرف کھیل رہی ہیں۔

یعنی اگر پاکستان تحریک انصاف کے الزامات ثابت ہو جاتے ہیں اور حکومت ختم ہو جاتی ہے تو باقی سیاسی پارٹیاں بھی اسے اپنی فتح سے تعبیر کرتے ہوئے آگے بڑھ کر کہیں گی کہ ہم نے بھی تو پہلے دن سے یہی کہا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ اور اگر فیصلہ حکمران جماعت کے حق میں ہو گیا تو تمام سیاسی پارٹیاں ماسوائے پاکستان تحریک انصاف ، یہ کہتے ہوئے حکومتی ٹرین میں سوار ہو جائیں گی کہ دیکھا ہم نے تو پہلے دن سے ہی کہا تھا کہ ہم جمہوریت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اب اس بات سے شاید کسی کو کوئی غرض ہی نہیں رہی کہ اس وقت جمہوریت کی حیثیت نام نہاد اشرافیہ کے محلات کی باندی سے ذیادہ نہیں ہے۔

جوڈیشل کمیشن جس طرح سماعت کر رہا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ اونٹ جلد ہی کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ جائے گا ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک فریق اونٹ کی پشت پر سوار ہو گا تو دوسرا بیٹھنے والے اونٹ کی کروٹ کے نیچے ۔مذاکرات کے متعدد دور ہوئے لیکن ہر دفعہ بات ایک ہی نقطے پر آ کر رک گئی کہ دھاندلی کی تعریف واضح نہیں ہو پا رہی ۔ کفر ٹو ٹا خدا خدا کر کے ، کہ جوڈیشل کمیشن قائم ہوا تو الزامات باقاعدہ ایک فورم تک پہنچ گئے۔ جوڈیشل کمیشن کی کاروائی کے دوران ہی NA-125 کے بارے میں الیکشن ٹربیونل کے فیصلے نے ایک نئی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ حیران کن طور پر ٹربیونل کے فیصلے میں بھی دھاندلی کو سرے سے غائب کر دیا گیا ہے۔ اور مکمل طور پر انتخابی عملے پر مدعا ڈال دیا گیا ہے۔

یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ انتخابی عملہ جو غیر جانبدار ہوتا ہے (کبھی کبھار) وہ کیوں کر کسی ایک ہی فریق کے حق میں غفلت کا مرتکب ہو گا؟ دل یہ بات ماننے کو ہرگز تیار نہیں کہ صرف انتخابی عملے کی غفلت کی بناء پر ایک ایم این اے اور ایک ایم پی اے سے جیتی ہوئی نشست واپس لے لی جائے؟ اگر یہ کوئی چھوٹی موٹی غفلت ہی تھی تو پھر تو سرزنش کر کے فیصلہ صادر کر دیا جاتا۔ اس کے لئے ایک وفاقی وزیر کو ہٹانا کیوں ضروری سمجھا گیا۔ اور اگر انتخابی عملے کی طرف سے غفلت بڑے پیمانے پر سرزد ہوئی تو پھر یقیناًاس غفلت کے تانے بانے کسی ماہر اور گھاگ کھلاڑی تک ضرور پہنچتے ہوں گے۔

دوسرا پہلو یہ ہونا چاہیے تھا کہ انتخابی عملے کی غفلت سے فائدہ و نقصان اگر دونوں فریقوں کو ہوا ہے تو پھر تو اسے غلطی سے تعبیر کر کے درگزر کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر انتخابی عملے کی غفلت سے صرف ایک ہی فریق کو فائدہ پہنچا تو یہ نقصان پانے والے فریق اور ایک عام پاکستانی کی نظر میں غلطی کے بجائے مجرمانہ چشم پوشی ہی کہلائے گی ۔ اور اس سے یقیناًیہی تاثر ابھرے گا کہ انتخابی عملہ مامور ہی ایک مخصوص پارٹی یا فرد کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔انتخابی عملے کی لاپرواہی، کوتاہی یا مجرمانہ چشم پوشی کا فیصلہ تو اس وقت ہی ہو پائے گا جب عام انتخابات میں فرائض سر انجام دینے والے انتخابی عملے کو بھی عدالت میں طلب کیا جائے۔ اب یہ کیس اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے اس لئے یہ فیصلہ عدالت عظمیٰ ہی کرے گی ۔

NA-125 کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے اور بعض تجزیہ کار یہ بھی کہنے میں مصروف ہیں کہ خواجہ سعد رفیق کو ریلوے کا مشیر بنانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ اسی لئے کیا گیا ہے کہ اس معاملے کو جلدی نہ نمٹایا جائے۔ اس لئے کچھ بعید نہیں کہ اگلے عام انتخابات کے قریب آنے تک حکومت اس معاملے کو طول دیتی رہے۔ اور دھاندلی کی تعریف ہونے کا مسلہ بھی جوں کا توں قائم رہے۔ اس معاملہ میں سننے میں آیا ہے کہ انتخابی عملہ غفلت کا مرتکب ہوا، کچھ لوگوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالے، ضروری دستاویزات میسر نہیں تھی۔ لہذا جیتنے والے امیدوار اور ووٹر کا اس میں کیا قصور۔ لیکن سمجھ نہیں آتا کہ انتخابی عملے نے غفلت لاپرواہی میں کی یا کسی کے کہنے پر یہ کارنامہ سرانجام دیا گیا۔ اگر کسی نے ایک سے زیادہ مرتبہ ووٹ ڈالا تو کیا وہ خود ہی باہر سے دوبارہ واپس ووٹ ڈالنے آیا یا کسی کے بلوانے پر واپس آیا۔ ضروری دستاویزات اگر غائب ہیں تو کیا یہ بھی لاپرواہی سے غائب ہوئیں یا کسی کہ کے اشارے پر ایسا ہوا۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو دھاندلی کی تعریف میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی اس لفظ کی تعریف کرنا چاہے تو۔

جوڈیشل کمیشن میں عام انتخابات کے دوران پنجاب سے ممبر الیکشن کمیشن کے نمائندے کے بیان نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ جس میں سب سے اہم نکتہ اضافی بیلٹ پیپرز کی چھپائی ہے ۔ جس کے بارے میں کہا گیا کہ کئی آر اوز نے اضافی بیلٹ پیپرز کے لیے درخواستیں دیں جن کی کوئی مناسب تحقیق کیے بنا اضافی بیلٹ پیپرز دے دیے گئے۔ اب ایسا کیوں کیا گیا اس کا فیصلہ عدالت کرے گی ، لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حکمران جماعت کے لئے NA-125 کے فیصلے کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اس وقت کے پنجاب سے ممبر الیکشن کمیشن کے بیان سے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ کم و بیش ایک حلقے کے 93ہزار ووٹ ناقابل تصدیق ٹھہرے۔ وجہ ناقص سیاہی کو قرار دیا گیا۔ تو جناب ناقص سیاہی کیوں استعمال کی گئی ۔ کس کے کہنے پہ استعمال کی گئی۔ ان سوالات کا جواب ڈھونڈنا اب کمیشن کا کام ہے۔

دھاندلی کی تعریف کرنا شاید اب نہ تو سیاسی جماعتوں کے بس میں رہا ہے نہ ہی ایک عام ووٹر کے کیوں کہ اس کا فیصلہ کرنا اب جوڈیشل کمیشن کا کام ہے ۔ اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ جوڈیشل کمیشن کا جو بھی فیصلہ ہو گا انہیں قبول ہو گا۔ یہ خوش آئیند ہے کہ جوڈیشل کمیشن پر سب جماعتوں کا اعتماد ہے۔

انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں؟ غفلت برتی گئی یا نہیں؟ کسی کا مینڈیٹ چرایا گیا یا نہیں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے چند دنوں میں سامنے آ جائیں گے ۔ یہ واویلا کہ جوڈیشل کمیشن بنانے پر اصرار، دھرنا دینا، یا دھاندلی کا شور مچانا جمہوریت پر وار ہے سرا سر غلط ہے۔ ہاں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جو سوالات اٹھ رہے ہیں ان کے جوابات مل جانے سے جمہوریت ضرور مضبوط ہو گی۔ جمہوریت کی مضبوطی ہی ہر فیصلے کی بنیاد ہونی چاہیے۔ کیوں کہ اسی طرح وطن عزیز ترقی کی راہ پرگامزن ہو سکتا ہے۔