واجب القتل ہاتھ

  • جمعہ 15 / مئ / 2015
  • 4706

پاکستان میں جب بھی غیر مسلموں کو بموں سے، گولیوں سے یا ان کو آگ میں جلایا جاتا ہے۔ ان کے سر تن سے جدا کئے جاتے ہیں۔ ان کی بستیوں کو خاکستر کیا جاتا ہے۔ ان بستیوں کے گھروں کو باہر سے تالے لگا کر اندر بیٹھی حاملہ خواتین کو ان کی کوکھ میں پلنے والے بچوں سمیت جلایاجاتا ہے۔

تو

کچھ عرصہ کے لئے ان قاتلوں کو قتل پر اکسانے والے اپنے فتویٰ زدہ حجروں میں چھپ جاتے ہیں ۔ ایک دو کو باہر رہنے دیتے ہیں جو ان واقعات کی مذمتی بیان دے دیتے ہیں۔ سول سو سائٹی کے لوگوں کی چیخیوں سے جب سوشل میڈیا بھرنے لگتا ہے تو پھر ہلکے ہلکے ان واقعات میں “ را “ کی شمولیت کے ثبوت آنے شروع ہو جاتے ہیں۔  یہ بتانا شروع کیا جاتا ہے کہ اس دہشت گرد واقعہ میں جو اسلحہ استمعال ہؤا ہے وہ صرف “ را “ ہی استمعال کرتی ہے۔

جب ایک دو سابق فوجی تجزیہ نگار اس واقعہ میں “ را “ کے شامل ہونے کے ثبوت کی تسبیح ہاتھ میں پکڑے ٹی وی کی سکرینوں پر بیٹھ جاتے ہیں تو ساتھ ہی فتویٰ کے حجروں میں چھپے فتویٰ باز بھی باہر نکل آتے ہیں۔ اور آتے ہی یہودی، امریکی “ را “ اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف ریلیاں نکالنا شروع کردیتے ہیں۔ کچھ ہی دیر بعد مدرسوں اور مذہبی اجتماع میں اپنے من پسند فرقہ کے کافر ہونے کا فتویٰ دینا شروع کردیتے ہیں ۔ لوگوں کو قتل پر اکسان کا سلسلہ پھر شروع ہوجاتا ہے۔

مگر

کل میں ایک مولانا کا فیس بک پر بیان پڑھ کر حیران رہ گیا انھوں نے کہا کہ ہمارا اسماعیلی شیعوں سے کو ئی جھگڑا نہیں ہے۔ کیوںکہ یہ بند کمرے میں اپنی عبادت ( یعنی کافرانہ عبادت ) کرتے ہیں۔ اس ملک میں کیا کیا نہیں ہوتا یہاں گڈ طالبان اور بیڈ طالبان کی ٹرم استمعال ہوئی۔ اور اب “ بند کمرے کے کافر “ اور“ کھلے عام کافر “ کی ٹرم سامنے آئی ہے ۔۔۔۔ آج صبح میں نے فیس بک پر اپنے چند دوستوں کا نام لکھ کر کہا کہ ان سمیت تمام غیر مسلموں کو میرا صبح کا سلام ۔۔۔ 

کچھ لوگوں نے مجھ سے ان بکس میں پوچھا کہ میں نے یہ کیوں لکھا۔  اصل میں میں نے ایک فتویٰ پڑھا کہ غیر مسلموں کو سلام علیکم کہنا غیر شرعی ہے۔ اور کہنے والا مرتد اور واجب القتل ہے۔ میں نے یہ پیغام اس لئے لگایا تھا کہ جان سکوں کہ لوگ اس بارے کیا رائے رکھتے ہیں۔

میرے ایک دوست نے لکھا اس حالت میں صرف مصافحہ کر لیں۔ میں نے کہا جی ہاں اس طرح تیرا صرف ہاتھ ہی واجب القتل ہو گا۔