کراچی کا اندوہناک سانحہ
- جمعہ 15 / مئ / 2015
- 4547
کراچی میں 23 مئی کی بہیمانہ دہشت گردی کے بعد ملک کے عوام شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ تقریباً پچاس معصوم انسانوں کو ایک ایک کر کے سروں میں گولیاں مار کر ابدی نیند سلا دیا گیا۔ ہرعمر کے مردوں، عورتوں اور بچوں کے خون سے بلا امتیازغیرانسانی اور وحشیانہ ہولی کھیلی گئی۔
یہ پہلا سانحہ نہیں جس میں معصوم انسانوں کو عقیدہ کی بنا پر جاں بحق کیا گیا ہو۔ اسماعیلی برادری کا قتل عام عقیدہ کی بنیاد پر خون بہانے کے ایک لا متناہی سلسلے کی کڑی ہے۔ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح کے مسلک سے تعلق رکھنے والی اسماعیلی برادری اس سانحہ سے قبل بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکی ہے۔ اپنی امن پسندی، تعلیم دوستی اور عوام کو طبی سہولتیں بہم پہنچانے کے علاوہ دیگر کئی فلاحی کاموں میں اپنی مثال آپ اسماعیلی برادری پر ایسا ظالمانہ حملہ یقینا دل دہلا دینے والا ہے۔
عوام سکتہ کے عالم میں ہیں جبکہ حکومت، ریاستی ادارے اور ایجنسیاں بے بسی اور گوں مگوں کی کیفیت میں لاچاری کی منہ بولتی تصویر بنی نظر آتی ہیں۔ وزیر اعظم، آرمی چیف اور سیکورٹی ایجنسیوں نے دہشت گردی سے نمٹنے اور مکمل خاتمے تک ریاستی ایکشن جاری رکھنے کا عہد ایک بار پھر دہرایا۔ مگر عوام خصوصاً دہشت گردی کا نشانہ بننے والے افراد، گروہ، فرقے یا مذہبی اقلیتوں کا حکومت اور ریاستی اداروں کی صلاحیتوں اور وعدوں سے اعتماد متزلزل ہوتا نظر آ رہا ہے۔
پاکستان میں دہشت گرد اپنے شدت پسند مسلک کے علاوہ ہر مذہبی گروہ، عقیدہ، مسلک یا فرقہ سے تعلق رکھنے والے انسانوں کا خون بہانے کو جہاد تصور کرتے ہیں۔ ہر وہ فرد چاہے اسکا تعلق کسی بھی مکتبہ فکر سے ہو قابلِ گردن زدنی ہے جو دہشت گردوں کے تنگ نظرعقیدہ سے مختلف سوچ رکھتا ہے۔ پاکستانی مسیحی، ہندو، احمدی، اہل تشیع، بریلوی سنی، ان میں سے کو ئی بھی ان کے حملوں سے نہیں بچ سکا۔ دہشت گردوں نے ان سب کا خون بہایا ہے۔
اہل تشیع، اسماعیلی، احمدی، مسیحی، اور ہندو اگر مذہبی اقلیتیں تصور کی جاتی ہیں تو بریلوی سنّی تو ملک کی اکثریتی مسلکی برادی ہے۔ اہل سنت کی بزرگ ہستیوں کے مزارات بھی انتہا پسند دہشت گردوں کے نشانہ سے نہ بچ سکے۔ لاہور، راولپنڈی، سوات اور ملک کے دیگر حصوں میں صوفیا کرام کے مزارات کو بموں سے اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ عید میلاد النبی کے جلوس پر بھی گولیاں برسانے سے دریغ نہیں کیا گیا۔
مذکورہ مذہبی برادریوں اور مسلکوں سے متعلق عوام پاکستان کی آبادی کی واضح اکثریت ہیں۔ ان مسلکوں اور مذہبی برادریوں کے لوگ ہمیشہ سے امن، دوستی اور بھائی چارے کی فضا میں ملک میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اور ان میں کبھی ایسا شدید اختلاف پیدا نہیں ہؤا جسے مسلح تشدد سے حل کرنے کی ضرورت پیش آئی ہو۔ آج بھی ان عقیدتی گروہوں میں بھائی چارے کی پرامن فضا نہ صرف برقرار ہے بلکہ عقیدوں کے احترام کا باہمی جذبے میں بھی کمی نہیں آئی۔
متشدد اورتنگ نظر نظریات رکھنے والے چند اقلیتی گروہ پاکستان کے عوام کے طرز زندگی، انکے مذہبی نظریات، مسلک اور عقیدہ کو بزور بندوق بد لنے پر تلے ہوئے ہیں کیونکہ عوام انکے متشددانہ نظریات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
مذہب کے نام پر دہشت گردی پاکستان تک محدود نہیں۔ یہ خبریں عام ہیں کہ مسلم ممالک کے علاوہ کئی ملکوں میں یہ گروہ اپنا نیٹ ورک قائم کرچکے ہیں۔ یہ گروہ کسی ملک میں کسی ملک کی پراکسی وار لڑتے ہیں یا یہ کسی ملک کا امن و امان برباد کرنے کے کئے کسی ملک کا آلہ کار بن جاتے ہیں۔ یہ کبھی امریکہ، سعودی عرب اور پاکستان کے آلہ کار بن کر سوویت یونین کے خلاف اعلان جہاد کرتے ہیں۔ کبھی افغانستان یا بھارت کے مذموم عزائم کی تکمیل کی خاطر پاکستان کی ریاست، حکومت اور معاشرے کو تباہ کرنے کے لئے اس کے خلاف جہاد شروع کرتے اور دہشت گردی کا بازار گرم کر دیتے ہیں۔
آج پاکستان کی ریاست، حکومت، معاشرہ اورعوام متشدد مذہبی گروہوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی زد میں ہیں۔ ایک عرصہ سے مسلسل جاری دہشت گرد کارروائیاں، کسی طاقت کی پشت پناہی سے پاکستانی ریاست کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنے کی کوشش کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ریاستی اداروں پرعوام کے اعتماد کا اٹھ جانا بھی دہشت گردوں کی پاکستانی ریاست کو ناکام بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
حکومت پر تنقید کرنا جمہوریت کی روح ہوتی ہے اور حکومتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ لینا اپوزیشن کے جمہوری فرائض میں شامل ہوتا ہے۔ مگر جب ریاستی یکجہتی، استحکام اور سالمیت کا سوال پیدا ہو جائے توعوام اور تمام سیاسی جماعتیں اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی سالمیت اور یکجہتی کو یقینی بناتے ہیں۔ اس لئے اسماعیلی برادری پر ظالمانہ خونی حملے کے بعد اندرون و بیرون ملک پاکستانیوں کو دہشت گردی کے خلاف حکومت اور فوجی قیادت کے عزم وعہد پر نہ صرف اعتماد کا اظہار کرنا چاہئے بلکہ کھل کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوجی کاروائی کا مکمل ساتھ دینا چاہئے۔
دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کے بغیر پاکستان میں نہ امن و امان قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ملک ترقی کی جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ جبکہ عوامی خوشحالی کا خواب اور منزل بہت دور کی بات ہے۔