عالمی ضمیر کے لئے چیلینج

  • اتوار 17 / مئ / 2015
  • 5329

مصر کے پہلے منتخب صدر مرسی اور اخوان الامسلیمون کے 105 اراکین کو فوجی آمر کی قائم کردہ نام نہاد عدالت نے 16 مئی کو سزائے موت دینے کے فیصلے کا اعلان کر دیا۔ صدر مرسی اور ان کے ساتھیوں کو ڈکٹیر حسنی مبارک کے خلاف 2011 کی عوامی بغاوت کے دوران جیل توڑنے کے مضحکہ خیز الزام کے ثابت ہونے کے جرم میں سزائے موت کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ حسنی مبارک کے طویل آمرانہ اقتدار کے خاتمے کے بعد مصری عوام نے تاریخ میں پہلی بار جون 2012 کو محمد مرسی کو مصر کا صدر منتخب کیا تھا۔ بعد ازاں اسوقت کے فوجی سربراہ اور موجودہ مصری آمر جنرل سیسی نے مصر کے پہلے منتخب صدر کا جون 2013 کو تختہ الٹ کر اقتدار پر ناجایز قبضہ کر لیا اور صدر مرسی کو پابند سلال کر دیا تھا۔

فوجی آمر نے صدر مرسی کو گرفتار کرنے کے بعد ان پر ناجائز اور جعلی مقدموں کی بھر مار کر دی۔ دہشت گردی، جاسوسی، قتل جیسے بے بنیاد مقدمات قائم کرنے کے علاوہ حسنی مبارک کے خلاف 2011 کی عوامی تحریک کے دوران جیل توڑنے کے الزام میں بھی مقدمات بنائے گئے۔  صدر مرسی کو موت کی سزا جیل توڑنے کے اس الزام میں سنائی گئی ہے۔ اس  سے قبل ایک نام نہاد عدالت انہیں بیس سال کی سزا سنا چکی ہے۔

فوجی آمرجنرل سیسی کےاقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرنےاورعوام کو ان کی منتخب حکومت سے محروم کرنے کے بعد سعودی عرب، خلیجی ریاستوں، امریکہ اوراسکے یورپین حواریوں نے حسب روایت فوجی آمر کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ عرب جمہوری بہار کا نعرہ ترک کرکے فوجی آمرانہ حکومت کی نہ صرف حمائت کرنا شروع کر دی بلکہ اس کی امداد کےلئے ڈالروں کی بارش شروع کر دی۔ خصوصاٌ سعودی عرب نے جنرل سیسی کی غیر جمہوری اور غاصب حکومت کو اربوں ڈالروں کی امداد سے نوازنا شروع کر دیا اور یہ نوازشات ابھی تک جاری ہیں۔ یہاں یہ دہرانے کی ضرورت نہیں کہ سعودی عرب کو جمہوریت اور عوامی حاکمیت کی روشنی کی کرنیں ایک آنکھ نیہں بھاتیں۔

عوامی جمہوری لہر کو کچلنے کے لئے فوجی آمر یت نے اقتدار سے محروم کئے گے صدر اور اسکی جماعت کے راہنماوں کے خلاف ناجائز اور جھوٹے مقدمات بنانا شروع کر دئے۔ ہزاروں سیاسی کارکن کو بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات کے تحت جیلوں میں ڈالا جا چکا ہے۔ سینکڑوں سیاسی کارکنوں کو سزائے موت دینے کے فیصلے سنائے جا چکے ہیں اور بیسیوں کو تختہ دار پر لٹکایا جا چکا ہے۔

سوال یہ ہے کیا ایسے ظالمانہ ہتکنڈے مصری عوام کی جمہوری خواہشات کو ہمیشہ کےلئے کچلنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ شاید ایسا ممکن نہیں۔ طویل آمریت کے بعد 2011 کی جمہوری تحریک نے مستقبل کی عوامی تحریکوں کے لئے راستے کھول دئے ہیں۔ ایسا نظر آ رہا ہے کہ مصری عوام ماضی جیسے آمرانہ خوف کی گرفت سے باہر نکل چکے ہیں۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ جب صدر مرسی اور ان کے ساتھیوں کو سزائے موت سنائی گئی تو نام نہادعدالت اور اسکے ظالمانہ فیصلے کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

مصر میں ڈکٹیڑشپ کے خلاف جتنی کھلی مزاحمت آج کی جا رہی ہے شاید مصری مزاحمتی تحریک میں اسکی مثال نیہں ملتی۔ باوجود کہ اخوان الامسلمون نے جمال ناصر، سادات اور حسنی مبارک کے خلاف مزاحمتی عمل جاری رکھا مگر اسکو اس قدر عوامی مقبولیت کبھی حاصل نہ ہو سکی جتنی عوامی تایئد آج مل رہی ہے۔ 

2011 کی جمہوری تحریک کے نتیجہ میں پہلی منتخب حکومت کا قیام ایک بنیادی تبدیلی ہے جو مصر میں مستقبل میں اٹھنے والی جمہوری تحریکوں کے لئے مشعل راہ بن سکے گی اورعوام کو حوصلہ اورہمت دینے کا موجب بنے گی۔ مصر میں جمہوری تحریک کی کامیابی آنے والے حالات میں مشرق وسطی کے بادشاہوں اور سلطانوں کے خلاف تحریکوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔

اس لئے سعودی عرب کی قیادت میں عوام دشمن سلطانوں نے مصری جمہوری تحریک کے خلاف محاذ بنا رکھا ہے۔ انہوں نے جنرل سیسی کی دہشت گرد اور عوام دشمن حکومت کا  عوامی تحریک کو کچلنے، عوامی راہنماوں کو قتل کرکے راستے سے ہٹانے کے مذموم عزائم کا بھر پور ساتھ دنیے کا عہد کر رکھا ہے۔ امریکہ اور اسکے مغربی حواریوں کی مصری آمر پر مہربانیاں بھی کچھ کم نہیں۔ جنرل سیسی کی سیاسی راہنماوں کے خلاف غیر انسانی اور ظالمانہ کاروایئاں رکوانے کے کئے کوئی عملی کردار نہیں ادا کیا جا رہا۔ ان ممالک کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی عملاٌ مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ترکی کے علاوہ دیگر مسلم ممالک نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

مصر کی موجودہ صورت حال عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ آج ہر جمہوریت پسند فرد، تنظیم، صاحب رائے دانشوروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ عالمی ضمیر کو جگانے کے لیے اپنا کردار دا کرے۔ مصری عوام، مصری جمہوری تحریک، صدر مرسی اور انکے حامیوں کے  ساتھ بہیمانہ ریاستی جبر کے خلاف آواز بلند کرے۔