اعداد و شمار ہی بہتر وائٹ پیپر ہیں

  • سوموار 18 / مئ / 2015
  • 4631

کہتے ہیں مذہب آدمی کا انتخاب نہیں مجبوری ہے۔ بغیر مذہب کے کار جہاں چل سکتا ہے مگر دانشوری اور علمیت کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ مذہب کی قوت ہمیشہ مؤثر نہیں ہوتی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ برطانویوں کی نصف سے زیادہ تعداد مذہب کو نقصان دہ سمجھتی ہے۔ برطانیہ میں بھی ہالینڈ کی طرح پچاس فیصد سے زائد افراد خدا یا اس جیسی کسی ہستی پر یقین نہیں رکھتے۔

براڈ کاسٹر اور مصنف جان ہیمفریز نے بائیس سو افراد سے ایک سروے کیا ہے جس کے لئے اس نے شعبہ ہائے زندگی سے مختلف افراد کو چنا ہے۔ 46 فیصد کے خیال میں مذہب کے نقصان دہ اثرات پڑتے ہیں۔ 21 فیصد نے کہا ہے کہ وہ ” لادین “ ہیں۔ 16 فیصد نے کہا ہے کہ وہ کمیونسٹ ہیں۔ جبکہ 23 فیصد نے خدا کی ہستی کو تسلیم کیا اور 26 فیصد نے کسی ہستی کے وجود کا تو اعتراف کیا تاہم یہ بھی کہا کہ وہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ 43 فیصد نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی چرچ کا منہ نہیں دیکھا اور نہ ہی کبھی عبادت کی۔ 31 فیصد کے مطابق کبھی کبھار وقت ملے تو عبادت کی ہے جبکہ دس فیصد نے کہا کہ وہ ہر رات کو عبادت کرتے ہیں۔

جان ہیمفریز کی کتاب ” ان گاڈ دی ڈاﺅٹ “ کے کچھ حصے سنڈے ٹائمز میں شائع ہوئے ہیں جس کے مطابق مصنف کہتا ہے کہ عیسائیت کے پیروکار تو ہیں لیکن صرف 13 فیصد نے مذہبی اثرات کو فائدہ مند قرار دیا ہے۔ یہ تعداد ان سے بھی کم ہے جو ” ذاتی خدا “ پر یقین کا دعویٰ کرتے ہیں اور جب ہم پوچھتے ہیں کہ کون سا مذہب اپنے پیغام کو عام کرنے میں مؤثر ثابت ہو رہا ہے تو بہت سوں کے خیال میں وہ عیسائیت ہے۔ اور ان کی تعداد 28 فیصد ہے جبکہ 10 فیصد نے اسلام کو تیزی سے پھیلنے والا مذہب قرار دیا ہے۔ مصنف جس کی تربیت خود بھی مذہبی ماحول میں ہوئی ہے، خود کو مذہب کے حوالے سے ” شک و شبہ میں مبتلا “ قرار دیتا ہے۔

ایک دوسرے برٹش لائبریری کے لئے کئے گئے سروے میں 16 تا 20 سال تک کی عمر کے ہر پانچ میں سے تین افراد کا کوئی مذہبی عقیدہ نہیں۔ اس عمر کے 43 فیصد افراد نے اس پول میں بتایا کہ ان کا کوئی عقیدہ یا مذہب نہیں ہے۔ وہ اس کے بغیر بھی خوش ہیں۔ بیس سال اور اس سے زائد عمر کے لئے یہ تعداد 19 فیصد اور 65 اور اس سے زائد معمر لوگوں کے لئے 8 فیصد رہی۔ اس سروے میں 2030 افراد سے معلومات اکٹھی کی گئیں۔ برٹش لائبریری کے اس سروے کے مطابق مذہب سے دلچسپی نہ رکھنے والوں کی ایک تہائی تعداد نے عیسائی کہلانا پسند کیا ہے۔

ادھر میرے دیس ہالینڈ میں دین اسلام سے مرتد نوجوانوں کے ایک گروہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسلام کو ترک کرنے کے لئے اس مسئلے کو آسان بنائیں گے جس کے لئے وہ ایک مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ہالینڈ کے ایک مؤقر جریدہ نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ” سابق “ مسلمانوں کی ایک کمیٹی نے اپنے اس عزم کو دہرایا ہے کہ وہ آزادئ مذہب کے سلسلے میں تحریک چلائے گی۔ ایک خفیہ مقام پر برطانیہ کے دی ٹائمز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے مرتد مسلمانوں کی اس کمیٹی کے بانی احسان جامی نے کہا ہے کہ ہم عدم برداشت اور دہشت گردانہ خود کش حملوں کو مزید برداشت نہیں کر سکتے۔

اسی اثنا میں لیبر پارٹی ہالینڈ کے ایک کونسلر نے کمیٹی کی مہم کے آغاز پر اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اسلام کے خلاف نہیں بلکہ ریڈیکل اسلام کے خلاف ہیں۔ کونسلر نے کہا کہ مذہب میں ” اصلاحات “ کی دعویدار اس طرح کی تنظیموں کو ہم قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ تنظیمیں پورے یورپ بالخصوص برطانیہ اور جرمنی میں ہماری مہم میں حصہ لیں گی۔ ایک اور خاتون جس نے اسلام ترک کر دیا ہے اور جس کا نام لبنیٰ برادہ ہے، نے کہا ہے کہ ہم اسلام کے ساتھ کوئی محاذ آرائی نہیں چاہتے بلکہ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو جس طرح اسلام میں داخل ہونے کی اجازت ہے ، اسی طرح اسلام کو ترک کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہئے۔ مرتد ہونے پر انہیں قتل کی دھمکیاں نہیں ملنی چاہئیں۔ لیکن دھمکیاں رکنے والی نہیں کہ ” اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“۔

یورپ کے مسلم انتہا پسند گروہ اور تنظیمیں ، اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے والوں پر حملے کرنے اور انہیں قتل کرنے کی ایک مسلسل اور منظم مہم چلا رہی ہیں۔ یہ بات کسی اور نے نہیں بلکہ ” گھر کے بھیدی “ اور برطانیہ کے ایک انتہائی سینئر پاکستانی نژاد بشپ مائیکل نذیر نے پچھلے دنوں اخبارات کو بتائی ہے۔ بشپ نذیر نے کہا ہے کہ اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے والوں کو ایذا پہنچانے کے واقعات اتنے وسیع پیمانے پر ہو رہے ہیں کہ اب وہ وقت قریب ہے جبکہ عیسائیت قبول کرنے والوں کو ان کے رشتے دار اپنی عزت کے لئے قتل کرنا شروع کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں ہر سال کم و بیش ایک ہزار عیسائیوں کو ایذا پہنچائی جاتی ہے۔

انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیڈر اپنے پیروکاروں کو برطانیہ میں مذہب کی آزادی کے بارے میں کچھ نہیں بتاتے اور میں ان کے منہ میں اپنی زبان ڈالنے سے رہا لیکن میں چاہتا ہوں کہ وہ شہری آزادیوں کو پہچانیں جس میں لوگوں کو اپنے پسند کے مذہب و عقیدہ اختیار کرنے اور جب بھی وہ چاہیں اسے تبدیل کرنے کی اجازت ہو۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل کو بتایا کہ ان کی تنظیم بارناباس فنڈ نے مذہب تبدیل کرنے والوں کے خلاف بڑے پیمانے پر طعنے دینے ، انہیں دیکھ کر تھوکنے ، حملہ کر کے مار پیٹ کرنے ، ادھ موا چھوڑ کر فرار ہو جانے اور مذہب تبدیل کرنے والی خواتین کو اغوا کر کے پاکستان لے جائے جانے کے واقعات کا پتہ چلایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں تین ہزار مسلمانوں نے مذہب تبدیل کیا ہے جن میں دو ہزار ایرانی باشندے ہیں جبکہ بقیہ ایک ہزار میں پاکستانی و افغانی شامل ہیں۔

چلتے چلتے ایک اور خبر جس کے لئے میں کافی دنوں سے پریشان ہوں۔ ڈیوز بری کے مسلم اسکولوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہاں طلبا کو اخبار پڑھنے ، ریڈیو سننے یا ٹی وی پروگرام دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ برطانوی معاشرہ میں تشویش پائی جاتی ہے کہ برٹش مسلمان بچوں کی ایک پوری نسل کے والدین بہت کم انگلش بولتے ہیں اور برطانوی معاشرہ میں بہت کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ لوگ  ایک الگ تھلگ کمیونٹی میں پرورش پا رہے ہیں۔ وہ اس ملک کا اچھا شہری نہیں بن سکیں گے۔

آخر مسلمان ہی اچھا شہری کیوں نہیں بن پاتے؟ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے ............