صرف بول کے صحافی ہی کیوں

  • منگل 19 / مئ / 2015
  • 5181

نیو یارک ٹائمز میں جب سے ایک پاکستانی کمپنی کے بارے میں خبر چھپی ہے کہ یہ کمپنی دنیا پھر میں بھاری معاوضہ لے کر جعلی ڈگریاں تقسیم کر رہی ہے، پاکستان کا میڈیا مسلسل یہ خبر نشر کر رہا ہے۔ کمپنی کے دفتر میں چھاپوں کو براہ راست دکھایا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اس میں کام کرنے والے عام ملازمین اور خواتین کو بھی گرفتار کر کے لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس طرح ان خواتین کی ذاتی زندگیوں اور ان خواتین کے خاندان کی زندگیوں کا جنازہ نکالا جا رہا ہے۔

کمپنی نے کیا کیا یہ تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا مگر پاکستان کا میڈیا اس خبر کو اس لئے تواتر سے نشر کر رہا ہے کیونکہ اس کمپنی  ایک چینل بول کے نام سے شروع کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ چینل ابھی شروع نہیں ہؤا۔ مگر شروع ہونے سے پہلے ہی وہ متنازعہ بن چکا تھا۔ کیونکہ بڑے بڑے چینلوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو بول نے بھاری معاوضے اور پر کشش مرعات دے کر اپنے ساتھ وابستہ کر لیا تھا۔ 

ہر کام کرنے والا چاہے وہ کوئی ڈاکڑ ہو، انجنئیر ہو یا صحافی ہو بہتر معاوضے اور بہتر مراعات کی خواہش رکھتا ہے۔ جہاں سے بھی اس کو یہ سب ملتا ہے وہ ادھر چلا جاتا ہے۔ یہ کام آج سے نہیں اس دور سے ہو رہا ہے جب اخبار میں کرنے والی صحافی زیادہ تر نظریاتی صحافی ہوتے تھے۔ اس وقت بھی بعض صحافی اچھی تنخواہ پر اپنے سے مختلف نظریات رکھنے والے اخبار میں چلے جاتے تھے۔ تو پھر آج اس پر اتنا شور شرابہ کیوں ہے؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پہلے اخبارات میں مقابلہ خبر کے حوالے سے ہوتا تھا آج مقابلہ سرمائے کے حوالے سے ہو رہا ہے۔ 

لہذا جیسے ہی بول نے صحافیوں کو ان چینلوں سے جہاں لوگوں کو پندرہ بیس ہراز پر رکھا جاتا تھا اور بعض کو تو تین تین مہینے تک تنخواہ نہیں ملتی تھی،  بھاری معاوضے دے کر اپنے ہاں ملازم رکھنا شروع کیا تو تمام چینلوں نے بول کے خلاف ایکا کر لیا۔ کبھی کہا گیا اس کے پیچھے فوج ہے۔ کبھی ریاض ملک کا نام لیا گیا۔ کبھی سی آئی اے کا نام لیا گیا۔ جیسے ہی کل نیویارک اخبار میں بول چینل کے مالکان کی کمپنی کے جعلی ڈگریاں بیچنے کی خبر نشر ہوئی ہے، پاکستانی میڈیا نے پھر سے بول کے خلاف اتحاد کر لیا ہے۔

اس دفعہ بول چینل کو جوائین کرنے والے صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کہ انھوں نے یہ چینل کیوں جوائین کیا۔ اور خاص طور پر چند صحافیوں کا نام لے کر کہا جا رہا ہے کہ یہ صحافیی تو بڑے بڑے سیکنڈل کی تحقیقات کر کے خبر دیتے تھے۔ انھوں نے اس چینل کو جوائین کرنے سے پہلے اس چینل کے مالکان کا ذریعہ آمدن کے بارے میں تحقیقات کیوں نہ کیں ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کے صحافی چاہے وہ اخبار میں کام کرتے ہوں یا کسی چینل میں، کیا وہ ملازمت شروع کرنے سے پہلے مالکان سے پوچھتے ہیں کہ آپ کا ذریعہ آمدن کیا ہے؟ اگر نہیں تو پھر بول کو
جوائین کرنے والے صحافیوں ہی اس سوال کا جواب کیوں دیں ۔ کیا یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بول کے علاوہ تمام چینلوں کے مالکان کا ذریعہ آمدن سو فیصد جائیز ہے۔

دوسری طرف بول جوائین کرنے والے اکثر صحافیوں نے آج یہ کہا ہے کہ اگر تحقیقات میں ثابت ہو گیا کہ بول کے مالکان غیر قانونی کاموں میں ملوث پائے گئے ہیں تو وہ اسی لمحے بول کو چھوڑ دیں گے۔  کیا دوسرے چینلوں میں کام کرنے والے صحافی ایسا بیان دینے کو تیار ہیں ؟

پاکستان کی صحافت پہلے ہی خطرات میں گھری ہوئی ہے۔ چاہے وہ خطرہ سیاسی غنڈہ گردی سے ہو، ریاستی تشدد سے ہو، مہذبی شدت پسندی سے ہو یا مالکان کی طرف سے معاشی خطرہ لاحق ہو۔ ایسے حالات میں صحافیوں کو اپنے کام اور پیشے کے لئے ایک ہونا چاہئیے۔