حمام میں سب ننگے

  • جمعہ 22 / مئ / 2015
  • 4124

2012 میں ایک نجی ٹی وی چینل کی آف لائن ریکارڈنگ حریف چینلز کی طرف سے نشر کر دی گئی تو " میڈیا گیٹ سکینڈل " کا آغاز ہؤا۔ یہ ویڈیو ریکارڈنگ لیک ہونے کے بعد ایک طوفانِ بد تمیزی برپا ہو گیا۔ ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس وقت یہ نجی چینل تیزی سے ترقی کرتے ہوئے ایک ایسی سمت میں جا رہا تھا جہاں وہ تمام مقابل چینلز کو پیچھے چھوڑ دیتا۔ لیکن ایسا نہیں ہونے دیا گیا۔ اخلاقی طور پہ ہر کوئی اس بات پر متفق تھا کہ آف لائن گفتگو کو نشر کر دینا کسی بھی صورت شائستگی اور اخلاقیات کے دائرے میں نہیں آتا لیکن اس کے باوجود نجی ٹی وی چینل کے دونوں اینکرز کو اس چینل سے نکال دیا گیا۔

اس کے بعد الزامات کا ایک نہ رکنے والے سلسلہ شروع ہو گیا۔ جو آج تک جاری ہے۔ جب یہ ویڈیو لیک ہوئی تو کسی نے اس طرف توجہ نہیں دی کہ یہ حرکت کرنے والے کون تھے اور ان کے مقاصد کیا تھے۔ صرف اینکرز پر تابڑ توڑ حملے شروع کر د ئے گئے۔ یہ نہ جانا گیا کہ اس سکینڈل کا سکرپٹ کہاں لکھا گیا۔ اس پر عمل کرنے کے لیے کردار کیسے چنے گئے۔ اور ان کرداروں کو کیا ضمانت دی گئی۔ ان سوالوں کا جواب کسی نے ڈھونڈنے کی زحمت ہی نہیں کی ۔

اگر ان سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کی جاتی تو کچھ بعید نہیں تھا کہ اس حمام کا کچا چھٹا سب کے سامنے آ جاتا جو یقیناًنہ تو " اشرافیہ " کے حق میں تھا نہ ہی میڈیا کے " مہانوں" کے حق میں تھا۔ لہذا صرف ایک چینل پر لعن طعن کرکے معاملہ بظاہر ختم ہو گیا۔ اسی کھینچا تانی کے دوران جون 2012 میں ہی 19 نامور صحافیوں اور اینکرز کی ایک لسٹ میڈیا کی زینت بنی ۔ اس لسٹ میں ایک معروف کاروباری شخصیت کی طرف سے مبینہ طور پر صحافیوں کو رقوم دی گئی تھیں۔ اس تنازعے کو ان صحافیوں اور اینکرز کی جانب سے تردید کے بعد ختم تصور کر لیا گیا ۔ حیران کن بات یہ تھی کہ اس فہرست میں رقم، اس کی ادائیگی کا طریقہ کار، دیگر سہولیات، بینک کا نام اور اکاؤنٹ نمبر تک درج تھے۔ لیکن اس معاملے پر بھی دھول پڑ گئی یا مٹی ڈال دی گئی۔

ستمبر2013 ء میں ایک بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز میں ایک سٹوری شائع ہوئی جس میں مستقبل قریب میں شروع ہونے والے ایک میڈیا گروپ کا نام لے کر اس کا تعلق ایک انڈر ورلڈ ڈان اور پاک فوج کے ساتھ جوڑا گیا۔ اس سٹوری میں کراچی کے ایک معروف کاروباری شخصیت کو بھی نشانہ بنایا گیا اور ان کا تعلق بھی جرائم کی دنیا کے ساتھ جوڑا گیا۔ اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ نیا میڈیا گروپ جرائم کی دنیا سے سامنے آ رہا ہے۔پاکستان کی طرف سے شدید احتجاج اور اس سٹوری کا ذریعہ سامنے لانے کے پریشر کے بعد ہندوستان ٹائمز نے ایک اندرونی تحقیق کی جس میں یہ حیران کن انکشاف ہؤا کہ اس تمام سٹوری کے پیچھے پاکستان کا ایک میڈیا گروپ ہے۔ ہندوستان ٹائمز سے C.N نے ان کا ساتھ دیا(تحقیقاتی رپورٹ میں ہندوستان ٹائمز کے سینئر عہدیدار کے نام کے بجائے صرف پہلے حروفC.N.ظاہر کیے گئے )اور اس سٹوری کا مقصد صرف نئے ابھرنے والے میڈیا گروپ اور کراچی کی ایک کاروباری شخصیت کو نیچا دکھانا تھا۔ یہ سٹوری پہلے ہی کم و بیش تین مہینے پہلے پاکستان میں شائع ہو چکی تھی۔ اندرونی تحقیقات اور حقائق کے سامنے آنے پر ہندوستان ٹائمز نے اس معاملے پر نہ صرف صفائی پیش کی بلکہ یہ سٹوری بھی ہٹا دی ۔ اور معافی بھی مانگی ۔

اپریل 2014 میں سینئر صحافی حامد میر پر ہونے والے حملے کے بعد کم و بیش دو گھنٹے قومی سلامتی کے اہم ادارے اور اس کے سربراہ کے نام و تصویر کے ساتھ خبریں چلاتے ہوئے انہیں ملزم ٹھہرایا جاتا رہا ۔ اس مقوع پر یہ بھی نہ سوچا گیا کہ اس کے نتائج عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف کس حد تک نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ حکومتی کاروائی کے بعد معافی تلافی ہو گئی اور اس معاملے کو بھی چوہدری شجاعت صاحب کے " مٹی پاؤ فارمولے" کے تحت بھلا دیا گیا۔

ابھی " بول " کا آغاز نہیں ہوا لیکن اس کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس بات میں ہرگز دو رائے نہیں کہ اگر "ایگزیکٹ" پاکستان کے وقار کے منافی کسی بھی کام میں ملوث ہے تو اسے سخت سزا دی جائے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیو یارک ٹائمز اور اس کے نمائندے کے کردار کو جانچنا بھی ضروری ہے۔ ڈکلن والش(DECLAN WALSH) کو مئی 2013 میں ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر پاکستان سے نکال دیا گیا تھا ۔ ایگزیکٹ کے معاملے میں صرف جعلی ڈگریاں بیچنا ہی اصل جرم ہے تو جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے کسی میڈیا گروپ کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ جرم ثابت ہونے سے پہلے کردار کشی کا سلسلہ شروع کردے۔ جرم ثابت ہو جائے تو قرار واقعی سزا دینا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ اس امر کی طرف بھی توجہ دینا ضروری ہے کہ کہیں میڈیا گروپس اس معاملے کو مستبقل قریب میں آنے والے چینل بول کے خلاف تو استعمال نہیں کر رہے۔

میڈیا گیٹ اسکینڈل، مبینہ سہولیات لینے والوں کی لسٹ، ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ، صحافی پر حملہ اور ایگزیکٹ و بول میڈیا نیٹ ورک سمیت ہر معاملے کی غیر جانبدرانہ تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داران کا تعین کر کے انہیں سزائیں دی جائیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ کسی کو کلین چٹ اور کسی کو چارج شیٹ دے دی جائے۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا حمام ہے جس میں سب ہی ننگے ہیں۔