پاکستان کا بے نام شہری
- اتوار 24 / مئ / 2015
- 5098
دو برس ہونے کا آئے میں لاہور میں ملک کے ممتاز کالم نگار اور ادب شناس وجاہت مسعود کے ساتھ محو گفتگو تھا۔ اچانک وجاہت نے پوچھا: ’’مسعود منور کیسے ہیں ‘‘ میں نے بتایا کہ وہ بخیر ہیں۔ وجاہت نے کہا : ’’ انہیں بتا دیجئے کہ لاہور انہیں بھولا نہیں ہے‘‘۔
جس لاہور کو مسعود منور نے لگ بھگ اڑتیس برس قبل چھوڑ دیا تھا، وہ اب بھی انہیں اس لئے یاد نہیں کرتا کہ بقول غالب:
غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
روئیے زار زار کیا کیجئے ہائے ہائے کیوں
بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسعود منور نے علم و ادب کے گہوارے اس شہر سے دور ہوتے ہوئے بھی اپنی فنکاری اور تخلیق کاری سے ایسے ایسے گل کھلائے ہیں کہ ان کی مہلک جغرافیائی حدوں کو پھلانگتی ہر دبستان مہکاتی اور ہر ادب شناس کو حیران کرتی ہے۔
اس کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ دس بارہ برس کے دوران پاکستان میں جس اہل قلم سے بھی میری ملاقات ہوئی ہے ، اس میں مسعود منور کا ذکر ضرور آیا ہے۔ ان کا ذکر ان کے کام کی وجہ سے آتا ہے اور ہم اس لئے اہم ہو جاتے ہیں کہ ہمارا بسیرا بھی اسی دیس میں ہے جہاں کی فضاؤں میں مسعود منور سانس لیتا ہے اور اردو و پنجابی ادب میں نئے نئے اضافے کرتا ہے۔ انہوں نے جس ادبی سفر کا آغاز لگ بھگ پچاس پچپن برس پہلے کیا تھا ، وہ اب بھی اسی تندہی اور ذوق و شوق سے جاری رہے۔ ان کا قلم نت نئے رنگ بکھیرتا ، نئے جہان تلاش کرتا اور نئی راہیں تراشتا پوری جولانی اور رفتار سے مصروف عمل ہے:
کیوں، جہالت کا جل رہا ہے دیا
چل اے درویش ، پھونک مار، بجھا
مسعود منور ایک خالص ادیب ہے۔ یہ خالص کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ ادیب اب اس قدر مظلوم لفظ ہو چکا ہے کہ اس کے ساتھ بکاؤ ، جعلی ، وقتی ، مفاد پرست اور نہ جانے کون کون سے لاحقے لگائے جا سکتے ہیں۔ ان میں اب تارکین وطن ادیب کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ادیبوں کی یہ قسم ایک ایسے سمجھوتے کا نام ہے جو لاہور جیسے ادبی مراکز کے نمائندوں اور ادب نے مل جل کر ان لوگوں کے ساتھ کر لیا ہے جن کی جیب میں پاؤنڈ ، ڈالر یا کرونر کی صورت میں ہارڈ کرنسی موجود ہے اور وہ اس کے زور پر ادیب بھی بن سکتے ہیں ، کتاب بھی چھپوا سکتے ہیں اور اسے متعارف کرنے کے لئے سکہ بند مگر بکاؤ ادیبوں کو کرائے پر بھی لا سکتے ہیں۔
میری ان باتوں سے ہرگز یہ اخذ نہ کیا جائے کہ میں کسی شخص یا گروہ کے خلاف بات کر رہا ہوں یا اس بات سے انکار کا گناہ کر رہا ہوں کہ یورپ یا دیگر ملکوں میں آ کر آباد ہونے والوں میں اہل علم و دانش کی کمی ہے۔ یا وہ اچھا شعر ، افسانہ یا ناول و ڈرامہ نہیں لکھ سکتے۔ لندن میں ساقی فاروقی ، ہیوسٹن میں احمد مشتاق اور ترانبی TRANBY میں مسعود منور کے رہتے ، یہ حوصلہ کس میں ہو سکتا ہے۔ لیکن میں آپ کو خود پر بیتا ایک قصہ سنانا چاہتا ہوں۔
یہ اسی کی دہائی کے اوائل کی بات ہے۔ اردو کے ممتاز شعرا فارغ بخاری اور شہرت بخاری ان دنوں میں لندن میں مقیم تھے۔ اردو کے صاحب طرز شاعر افتخار عارف کے گھر ضیافت کے بعد ہم لوگ رات گئے ایک ہی گاڑی میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ اس دوران برطانیہ میں مقیم شاعروں کا ذکر چل نکلا تو ان دونوں بخاریوں میں سے ایک نے برجستہ کہا کہ : ’’ اگر آپ اسی وقت گاڑی روک کر کہیں کہ مشاعرہ ہو رہا ہے تو چار پانچ سو شاعر ابھی اکٹھے ہو جائیں گے۔ لیکن آپ کو ایک بھی شعر سننے کو نہیں ملے گا ‘‘۔
شاعروں کی یہ کثرت اور فراوانی اردو ادب کے لئے تو شاید اچھی بات ہے مگر ان زود نویسوں کا ذکر چل نکلا تو مسعود منور کے بارے میں بات نہیں ہو سکے گی۔ اس لئے اس قصہ کو یہیں سمیٹتا ہوں وگرنہ ہم 1987 میں مشاعرہ کا اہتمام کرتے ہوئے برطانیہ کے ایک عصا بردار شاعر کا سامنا بھی کر چکے ہیں جو ڈنڈے کے زور پر ایک ایسے مشاعرے میں اپنا ’’کلام لطیف ‘‘ سنانے پر بضد تھے جس کی صدارت کیفی اعظمی نے کی تھی۔ اور ہم وہ منظر بھی دیکھ چکے ہیں جب جون ایلیا کو اوسلو میں قیام کے دوران مقامی شاعروں کے ایک گروہ نے یوں گھیر لیا کہ وہ شاعری سے توبہ کرنے کا اعلان کرنے پر مصر تھے۔
ان قصوں سے آگے بڑھتے ہوئے میں یہ اعتراف کرتا چلوں کہ مسعود منور کے ادبی رتبے اور مقام اور شاعری پر گفتگو کرنے کے لئے میں مناسب یعنی کوالیفائیڈ شخص نہیں ہوں لیکن جس طرح وطن سے دور رہتے ہوئے سرسوں کے ساگ کی کمی دور کرنے کے لئے بروکلی کو گھوٹ کر شوق پورا کر لیا جاتا ہے اسی طرح اوسلو میں ہونے کے ناطے میری باتیں ہی مسعود منور کی پہچان کروانے کے لئے کافی سمجھی جائیں۔
مسعود منور کی شعر گوئی اور قلمی سفر کے حوالے سے میں تین باتوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ ان تینوں کو جاننا مسعود منور کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے۔
مسعود منور نے بھری جوانی میں لاہور کو خیر آباد کہا۔ تب وہ نہ صرف یہ کہ زندگی میں پاؤں جمانے یعنی روزگار کا کوئی مناسب اور قابل بھروسہ ذریعہ تلاش کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے تھے بلکہ شاعر اور ادیب کے طور پر بھی خود کو منوانے کے لئے تگ و دو میں مصروف تھے۔ لیکن ان کے پاؤں میں بقول قتیل شفائی بھنور بند ھے تھے جو انہیں صحرا نوردی پر مجبور کر رہے تھے۔ انہوں نے افغانستان اور بھارت کا سفر کیا اور وہاں کے اہل علم و فکر سے اکتساب بھی کیا۔ اس سفر کی وجہ سے اگر انہوں نے امرتا پریتم اور خشونت سنگھ جیسے گرانڈیل ادیبوں کی صحبت سے استفادہ کیا تو برصغیر کے کونے کونے کا سفر کر کے اپنے مشاہدے میں اضافہ بھی کیا۔ یہ صحبتیں اور کوچہ گردی ان کا ایسا اثاثہ ہے جس نے ان کی قدر و قیمت اور ان کی تحریر کی آب و تاب میں گراں مایہ اضافہ کیا ہے:
بہت وشال ہے یہ غم مرا، خدا کی طرح
میں پس رہا ہوں تہہ آسماں ، حنا کی طرح
میں تاج دیکھ رہا ہوں ، خیال میں مسعود
گزر گیا ہے پرندہ کوئی ہما کی طرح
اس حوالے سے دوسری بات یہ ہے کہ برصغیر سے انہیں ناروے تک ایک پناہ گزین کے طور پر سفر کرنا پڑا۔ اس سفر نے انہیں وہ کسک اور چبھن عطا کی جو کسی خیال کو پختہ کرنے اور شعور کو بالیدگی دینے کے لئے ہلکی آنچ کا کام کرتی ہے۔ یہ آنچ تخلیق کار کو ستاتی اور پریشان کرتی ہے لیکن اس کا قلم لفظوں کے موتی بکھیرنے لگتا ہے:
پھر شب دشت میں چمکے کف پا کے چھالے
پھر تری بات سناتے ہیں سنانے والے
مسعود منور کو جاننے کے لئے تیسری اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے وطن سے ہجرت ہی نہیں کی بلکہ اس مرکز کو بھی الوداع کہا جہاں ان کی ذہنی اور روحانی تربیت ہوئی تھی۔ ہجر کا یہ تجربہ ان کی شاعری میں دو طرح سے ظاہر ہوتا ہے۔ ایک نئے معاشرے میں پیش آنے والے حالات کا تجربہ اور پھر اپنے وطن کی فضاؤں سے دوری کا احساس جو آہستہ آہستہ ایسے شعری تجربہ میں بدل گیا جس میں مسعود منور نے زبان اور خیال کی کئی حیرت انگیز منزلیں عبور کیں۔
ہجرت کے بعد کیا تاثر ابھرتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
بیسوا زادے نہ تھے، ہم پر ستم ڈھایا گیا
اوسلو کے ہر کلب میں ہم کو نچوایا گیا
حوریان ناروے کے وصل کی قیمت نہ پوچھ
خاکروبوں میں ہمارا نام لکھوایا گیا
کالے پانی سے کڑا تھا منجمد آب سفید
پہلے دستانے دئیے پھر بان بٹوایا گیا
’’یاولا پاکیس‘‘ لکھ کر قبر کے تعویز پر
جیتے جی ہم کو میان برف دفنایا گیا
یاد کر مسعود وہ لاہور کی شہ زادیاں
جن کے غمزوں کا قصیدہ عمر بھر گایا گیا
لیکن یہ ان دنوں کا قصہ ہے جب مسعود منور نئے نئے اس ملک میں آئے تھے۔ تجربوں ، مشاہدوں اور ذہنی پرداخت و قلبی واردات کا یہ سفر انہیں اب اس مقام پر لے آیا ہے کہ وہ یہ کہنے پر آمادہ ہیں:
زندگی میری خدا کے فضل سے آسان ہے
میں ہوں یورپ کا مسلماں یہ میرا ایمان ہے
ناروے کی وادیوں میں لب پہ ہے ذکر و درود
جس جگہ میں رہ رہا ہوں، وہ میرا پاکستان ہے
انٹیگریشن INTEGATION کے حوالے سے ہونے والی بحث میں اس قطعہ سے زیادہ اچھی مثال پیش نہیں کی جا سکتی۔ دیگر مغربی ملکوں کی طرح ناروے میں بھی نئے آنے والوں کے معاشرہ کا حصہ بننے کے حوالے سے مختلف خیال سامنے آتے رہتے ہیں۔ مقامی معاشروں کے بعض نمائندوں کو یہ گلہ رہتا ہے کہ تارکین وطن مقامی طور و طریقے سیکھنے میں بخل سے کام لیتے ہیں جبکہ تارکین وطن کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ اصرار برقرار رہتا ہے کہ انہیں اپنے بعض خصائص اور رسوم و رواج کو قائم رکھنے اور ان پر کاربند رہنے کا پورا حق حاصل ہے۔ اس تگ و دو میں بعض اوقات یوں بھی لگتا ہے کہ اس معاشرے میں آنے والے نئے لوگ علیحدہ گروہ کے طور پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وہ مقامی معاشرہ سے دوری پر ہیں اور اسی طرح مقامی مزاج کی نمائندگی کرنے والے ان لوگوں سے فاصلہ رکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں مسلمانوں اور اسلام کے حوالے سے شروع ہونے والی نئی بحث نے بھی اس صورتحال کو پیچیدہ اور مشکل بنایا ہے۔ ایسے میں شاعر کے تخیل کی پھلانگ اور اس کے مشاہدے کی پختگی امید کی روشنی کے طور پر رونما ہوتی ہے کیوں کہ:
سات افلاک تلک اڑتا ہوں بند آنکھوں سے
اب فقط نیل گگن ہے میرے پیمانے میں
افلاک کی رفعتوں کی خبر لانے والا یہ شاعر اپنے گرد و نواح سے پوری طرح آگاہ ہے اور اس کا سماجی شعور مسلسل متحرک ہے۔ تب ہی تو وہ یہ نعرہ مستانہ بلند کر پاتا ہے:
رب بھی میرے خیال کا بت ہے
میں مسلمان بت پرست ہوں یار
مسعود منور عصر حاضر کے ان شاعروں ادیبوں میں شامل ہیں جن کا مطالعہ وسیع اور نظر عمیق ہے۔ وہ مسلسل لکھتے ہی نہیں بدستور پڑھتے بھی رہتے ہیں۔ اس طرح وہ نئے تجربوں اور معاملات کو اپنے وسیع مطالعہ کی کسوٹی پر پرکھتے اور اپنا راستہ بناتے شعر و نثر کے نئے تجربے کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک ترقی پسند اور مزدور دوست انسان ہیں لیکن اس سماجی و سیاسی نظریہ کو انہوں نے اپنے مسلمان ہونے کے لئے تہمت نہیں بننے دیا۔ بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے ملا کی توجیہات کو اپنے عقائد کی بنیاد بنانے سے انکار کیا ہے۔ تاہم اس مشکل اور جاں گسل تجربے میں انہوں نے صرف نعرہ زن ہو کر خود کو منوانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے احساسات کو اپنے مطالعہ اور گہرے شعور کے ذریعے ایسی سند فراہم کی ہے جسے مسترد کرنا آسان نہیں ہوتا۔ مسعود منور کے کلام کو محض شاعرانہ شگفتگی یا مجذوب کی بڑ قرار دے کر آگے نہیں بڑھا جا سکتا۔ وہ اپنے خیالات کی سند ساتھ رکھتا ہے اور اپنی قوت دلیل سے اسے ثابت کرنے کا حوصلہ بھی:
کیا عبادت ہے ، کہاں کی درویشی
یہ تماشا ہے بہر حور و قصور
مولویت بھی دنیا داری ہے
اچھی تنخواہ اور سر میں غرور
آگہی کے اس سفر میں انہوں نے صرف فکر و نظر کی وسعتوں اور بلندیوں ہی کو سر نہیں کیا ہے بلکہ زبان و بیان کے نئے تجربے بھی کئے ہیں۔ پنجاب سے شروع ہونے والا سفر انہیں کرہ شمالی کے ملک ناروے تک لے آیا ہے۔ لیکن اس سفر کو انہوں نے رائیگاں نہیں جانے دیا۔ سائنسی ترقی نے جو نئے الفاظ اور اشارے سب زبانوں کو عطا کئے ہیں ، مسعود منور کے ہاں بھی ان کا بخوبی استعمال دیکھا جا سکتا ہے لیکن وہ بدستور اس بنیاد سے جڑے ہوئے ہیں جہاں انہوں نے آنکھ کھولی تھی اور شعور کی سیڑھی پر دھیرے دھیرے بڑھنا شروع کیا تھا۔ یہ شعر دیکھئے:
فیڈ آؤٹ ہوئے کردار سبھی میری طرح
اب کوئی نام نہیں عشق کے افسانے میں
ہم سے تعمیر کی زحمت نہیں ہوتی مسعود
زور جتنا ہو لگا دیتے ہیں پچھتانے میں
ادب کے حوالے سے میں ایک بات بلا خوف تردید کہتا ہوں کہ وقت ہی کسی تخلیق کو جانچنے کا سب سے بڑا پیمانہ ہے۔ کوئی ناقد اپنے عصری ادب کے بارے میں رائے ضرور دے سکتا ہے۔ تخلیق کار کے رویے اور احساس کو سمجھنے کی کوشش کر سکتا ہے لیکن کھرا ادب وہی ہو گا جو سو سال بعد بھی خود کو قائم رکھے گا۔ اور ہزار سال بعد بھی زندہ رہ جانے والا حرف ، تحریر یا شعری و نثری تجربہ دراصل ایک ایسی معرکتہ الآرا تخلیق ہو گی جو زمانوں پر جست بھرتی یوں پڑھنے والوں کی نگاہوں کو سیراب کرے گی کہ بے اختیار کہا جائے گا:
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
ورنہ ایک نامور اردو ادیب اور ناقد کے بقول شاعروں اور شاعری کی حیثیت تذکروں میں درج ایک تعارفی سطر سے زیادہ نہیں ہوتی۔
سو سال بعد زندہ رہنے والا ادب وہ ہو گا جو اپنے عہد کا نمائندہ ہو گا اور ان تکلیفوں ، پریشانیوں ، کامیابیوں اور تجربوں کی عکاسی کر سکے گا جس سے اس عہد کا انسان گزر رہا تھا۔ مسعود کی شاعری میں اس خوبی کو دیکھا جا سکتا ہے:
نہیں ہم جانتے کتنے مرے ہیں رب کے گرجوں میں
مری آنکھوں پہ پٹی ہے ، تمہارے دل پہ تالا ہے
یا پھر:
ہم نے تخلیق سے تخریب کا گر سیکھ لیا
ہم نے بنائے ہیں چراغ ، اپنا ہی گھر پھونکنے کو
خودکشی والی لکیریں ہیں سبھی ہاتھوں میں
ہم نے دیواریں اٹھا رکھی ہیں سر پھوڑنے کو
یا ہمارے سماج کی یہ تصویر ملاحظہ ہو:
جنت سچ دی پردے داری
دورخ اک غداری
رب اک وکن والا سودا
مذہب دنیا داری
وچ مسیتاں کھلیاں ہٹیاں
گاہکی لمی ساری
منبر تے چڑھ مال کما وے
ملا کھرا وپاری
مسعود منور نے شاعری میں ہی اپنے عہد کا غم رقم نہیں کیا۔ وہ ایک شاعر ہونے کے علاوہ گہرا سیاسی اور سماجی شعور بھی رکھتے ہیں اور اس کا اظہار اپنی تحریروں میں کرتے رہتے ہیں۔ سال بھر قبل انہوں نے بطیحا کے نام سے کاروان کے لئے ہفتہ وار کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ کالم سیاسی ریا کاری ، سودے بازی ، گمراہی اور فریب کاری کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت سینکڑوں کالم نگار اپنی تحریر کا جادو جگا رہے ہیں لیکن چند ہی کالم فارم ، موضوع اور متن کے اعتبار سے مسعود منور کے بطیحا کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ ان کی نثر کی کاٹ آپ اس ٹکڑے میں محسوس کر سکتے ہیں جو میں نے چند روز قبل ان کی فیس بک پر دیکھا تھا:
’’ رات خواب میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے سنا: ’’ جو خود کھاؤ وہ اپنے عوام کو کھلاؤ ، جو خود پہنو وہی اپنے عوام کو پہناؤ ، جس طرح کا رہن سہن اور سکونت خود اختیار کرو ویسی سہولتیں عوام کو بھی بہم پہنچاؤ ورنہ ، ورنہ ، ورنہ اے حکمرانو ! مسلمان ہونے کادعویٰ نہ کرو کیونکہ صرف اپنا خاندانی الو سیدھا رکھنے والے حکمران نمرود نما مردود ہوتے ہیں۔‘‘
آج کے مہمان خصوصی مسعود منور ہمہ صفت انسان ہیں۔ وہ ہر صنف میں اظہار کر سکتے ہیں اور مختلف علوم کے علاوہ زبان و بیان پر مکمل دسترس رکھتے ہیں۔ اسی لئے وہ برملا یہ دعویٰ کر سکتے ہیں:
چشم بینائے حسیناں! مجھ سے رہنا ہوشیار
جس کو پھیلایا ہے رب نے ، عشق کا وہ دام ہوں
اپنے بارے میں مجھے مسعود کچھ کہنا نہیں
شٰث ہوں، ہابیل ہوں ، حام ہوں اور سام ہوں
رموز جہان کا یہ شناور البتہ اب بھی جستجو میں ہے:
میں روز بوڑھوں میں بچے تلاش کرتا ہوں
عجیب خبط ہے سچے تلاش کرتا ہوں
اس کی یہ تلاش جاری ہے اور اس جہد میں زندگی کے ورق پلٹتے اور ان تجربوں سے اردو ادب اور اس کے قاری کو سیراب کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کی یہ خواہش اور خواب زندہ جاوید ہے کہ :
زمیں سے جنگوں کی یادگاریں ہٹائی جائیں
تمام سڑکوں کے دونوں جانب شفیق زیتون کی قطاریں لگائی جائیں
کبوتروں فاختاؤں اور قمریوں کے نغموں کا وقت آیا
گلاب پرچم اٹھا کے نکلو کہ میٹھے گیتوں کا وقت آیا
انہوں نے اپنی کتاب ’’صدا سبز سرگم‘‘ میں اپنا تعارف کرواتے ہوئے لکھا ہے کہ : ’’ میں پنجابی ہوں ، گاؤں کا باسی ، میرے اندر کچے کمرے، کھلے دالان ، برآمدے اور ویہڑے ہیں۔
میں نے نظمیں نہیں لکھیں، اپنا شجرہ لکھا ہے۔ اپنے وجود کا نسب نامہ مرتب کیا ہے۔ اپنے وطن کی سرحدیں اونچی کی ہیں۔ یہی میرا اثاثہ ہے‘‘۔
یہ شخص جو ہمارے ساتھ بیٹھا ہے اور جس کے اندر پنجاب اور پاکستان بستا ہے، آج ناروے میں اپنا گھر بنائے ان فضاؤں کو یاد کرتا ہے جہاں اس نے آنکھ کھولی اور سفر زندگی میں اپنا پہلا قدم اٹھایا تھا۔ جہاں اس نے محبت کے نغمے گنگنائے اور جس دھرتی پر آباد لوگوں کو انصاف دلوانے کے لئے دربدر ہوا۔ آج وہ ناروے کا شہری ہے لیکن اس شہر کو نہیں بھولتا جس نے اس کی تہذیبی پرداخت کی تھی۔
اہل لاہور اگر تم مسعود منور کو نہیں بھولے تو یہ نمانا بھی ہر سانس میں تمہیں یاد کرتا ہے۔ اس کی سانسوں میں پنجاب کی سوندھی مٹی کی خوشبو بسی ہے۔ لیکن مکروہ سیاست نے ہمارے ملک کے معاملات کو یوں گھیر لیا ہے کہ اس دنیا کا شہری ، محبت کی راگنی الاپنے والا شاعر ، سب انسانوں سے محبت کرنے والا فنکار ، نیا وطن تلاش کرنے کے باوجود بے وطن ہے۔ کوئی نہیں جو اس کی مدد کر سکے۔ کوئی نہیں جو نادرا کے کمپیوٹروں کے تکنیکی جنگل میں یہ فیڈ کر سکے کہ اسے لاہور والے نہیں بھولتے، اردو والے پہچانتے ہیں اور پنجابی والے دلارتے ہیں۔
اسے پہچانو یہ تمہارے ہی ملک کا بے نام شہری ہے۔
(یہ مضمون پاکستان فیملی نیٹ ورک کے زیر اہتمام 23 مئی کو مسعود منور کے اعزاز میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں پڑھا گیا)