کنار چناب کا شیشم ۔۔۔ مسعود منور

  • سوموار 25 / مئ / 2015
  • 5080

سعید انجم مرحوم نے مسعود منور کے ناروے آ جانے کی خبر دی تو ہم روایتی کہانیوں کی کسی کردار کی طرح پہلے تو خوش ہوئے ، اور پھر اداس۔
خوشی اس بات کی تھی کہ وہ زندگی بچا کر وہاں سے نکل آیا جہاں علم و فن ،حق و انصاف، اورشخصی آزادیوں کی بات کرنے اور جبر و استحصال کے خلاف سینہ تانے کھڑے دلاوروں میں ایک وہ بھی تھا۔ اور کسی وقت بھی اسکی زبان خاموش کی جاسکتی تھی۔ خوشی یہ بھی تھی کہ اب یہاں اوسلو میں بھی ایسی محفلیں سجائی جا سکیں گی جن میں کم از کم ایک فرد تو ایسا ہوگا جو اپنے عہد کے نمائندہ ادیبوں اور دانشوروں کا ہمجولی ہے اور جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکے گا۔

اور دکھ اس بات کا تھا کہ باغ وطن سے ایک اور چہچہاتے پرندے کو اپنا گھونسلہ چھوڑ کر انجانی بستیوں کی جانب ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔

یہ وہ دور تھا جب ضیاالحق کے نافذ کردہ کالے قوانین کے سامنے کے سامنے سر نہ جھکانے والے یہ نہیں سوچتے تھے کہ اسکا انجام کیا ہو گا۔ جو سوچتے تھے ، بیشک انہوں نے رفعتیں پائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کے لئے بھی آرام و آسائش کی زندگی چھوڑ گئے۔
لیکن جو قلم کو وقت کی امانت سمجھتے رہے، وہ اذیت خانوں میں سڑے، جلاوطنی کے عذاب سے گزرے، اپنی زمین سے کٹے، جان سے گئے، اندر ہی اندر گھٹ گھٹ کر مرتے رہے، لیکن وطن میں طلوع ہوتی سہانی صبح کے خواب دیکھنے انہوں نے چھوڑے نہیں۔

مسعود منور انہی دیوانوں میں سے ایک ہے جو ابھی تک ان خوابوں کے سراب میں مبتلا ہیں اور نجانے کب تک رہیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ جو مٹی آج غاصبوں، قاتلوں ، لٹیروں اور منافقوں کے جوتوں کی دھول بنا دی گئی ہے، وہ مٹی مسعود منور کے لئے آج بھی اتنی ہی مقدس ہے جتنی اس وقت تھی جب وہ اپنی سانسوں میں اسکی سوندھی سوندھی باس لے کر اسے الوداع کہنے پر مجبور ہؤا تھا:
ہم نے اُس خاک کو بھجوائے ہیں بوسے مسعودؔ
جس کی تکریم ہے اُس ملک جفا میں ہم کو

آج پاکستان کا معاشرہ جس مکمل ابتذال کا شکار ہے ، اسکے اسباب اس دور میں تلاش کئے جا سکتے ہیں جب ایک آمر نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے فکری آزادیوں کو بزور شمشیر کچلنے کا آغاز کیا تھا تاکہ ملک میں ایک ایسے عقیدے کا نفاذ کیا جا سکے جسکا فروغ اسکے سر پرستوں کے مفاد میں تھا۔
اس مکروہ عمل سے ، ادیب ، شاعر ، فنکار اور فکرو عمل کی آزادی پر یقین رکھنے والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی اور منافقت کی اس یلغار کے آگے سینہ سپر ہو گئے۔

یہ کون لوگ تھے۔
یہ فیض تھے، فراز تھے، منیر تھے، امجد تھے ، جالب تھے اور ایسے ہی بہت سے دوسرے باضمیر فنکار، شاعر، ادیب، سیاسی ورکر، اور دانشور۔
ان میں سے ایک نام مسعود منور کا تھا، جو سرپھروں کے اس قبیلے کاہی ایک فرد تھا ۔ اور جس کے شب وروز ان کے درمیان ہی گزرتے تھے۔ ہنستے کھیلتے، روٹھتے منتے، علمی ادبی بحثیں کرتے، شعروفن کی باریکیاں سمجھتے سمجھاتے اور روزگار کے غموں کو سہتے، نمٹتے، بہلاتے۔

حالات اس سے پہلے بھی کچھ ایسے نہ تھے کہ انہیں آئیڈیل قرار دیا جا سکتا ۔ آمروں کی بازی گریاں پہلے بھی دیکھی جاچکی تھیں۔ تاہم سیاسی، ادبی، نظریاتی بحثیں ہر سطح پر جاری رہتی تھیں۔ جبر کا بھی ایک ضابطہ اخلاق تھا، اور ابھی سوچ کے حلال ۔ حرام ہونے کا اختیار بھی پیشہ ور خدائی فوجداروں کے ہاتھ میں نہ آیا تھا۔
مسعود منور کا لاہور، علم و فن کا گہوارہ تھا۔ پاک ٹی ہاؤس کے درودیوار زندہ آوازوں سے گونجتے تھے۔ حلقہ ارباب ذوق سے نکل کر شاعروں، ادیبوں، مفکروں، اور خواب دیکھنے والوں کی ٹولیاں مال روڈ اور لاہور کی گلیوں میں رات گئے تک مٹر گشت کرتے چہکتی رہتی تھیں۔ جہاں مسجدیں بھی آباد تھیں اور رندوں کے حجرے بھی۔ جہاں درسگاہوں میں ، ترقی پسند، رجعت پسند، سوشلسٹ،  لا دین،  کٹڑ مذہبی، آزاد خیال،  سیکیولر، لبرل،  شانہ بشانہ بیٹھے علمی ادبی بحثیں کرتے تھے اور کوئی کسی کو قتل کرنے یا زندہ جلا دینے کی دھمکیاں نہیں دیتا تھا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ابھی سیکیولر ازم کا ترجمہ لادینیت بھی نہیں ہؤا تھا۔ اور اگر ہو چکا تھا تو لوگ اسے اتنی سنجیدگی سے نہ لیتے تھے۔

مسعود اسی لاہور میں زندہ ہے۔
یہ میری یادوں کی تاریخ میں لکھا ہے کہیں
کبھی لاہور بھی لاہور ہؤا کرتا تھا
آج یہ سب دیومالائی قصہ یا خواب دکھائی دیتا ہے۔
اور اسی دیومالائی قصے کا ایک کردار مسعود منور بھی تھا۔ اور اس کا خواب بھی بیس کروڑ دوسرے مسعود منوروں کی طرح آج چکنا چور ہو چکا ہے۔

جلا وطنی کے سفر میں مسعود ان راستوں سے بھی گزرا جہاں سے ہجرت کرتے ہوئے ایک پوری نسل اپنی زمین سے کٹ کر ادھر آئی تھی۔ اور پھر اس سفر میں نگر نگر گھومتا کبھی وہ امرتا پریتم سے ملتا ہے اور وارث شاہ سے پوچھے گئے سوال کا جواب اسے پہنچاتا ہے، تو کبھی ساحر کی باتیں اسکی زبان سے سنتا ہے۔ گھنے پیڑوں اور مندروں کے سائے میں گیان دھیان کرتے سنتوں، بھکشوؤں، سادھؤں سے ست کی حقیقت جانتا ہے، تو کبھی جوگیوں ، درویشوں، فقیروں کے ساتھ چلتا ہؤا ان آستانوں کی جانب نکل جاتا ہے، جہاں سلوک کی منازل طے کرنے والے آرام کرتے ہیں۔ اور یونہی چلتے چلتے جان جاتا ہے کہ راستہ کوئی بھی ہو ، جاتا اسی منزل کوہے جدھر سب جاتے ہیں۔

ایک فنکار کی سوچ اسکے عہد سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔اسکی تخلیق ان ساعتوں کی عکاس ہوتی ہے، جو اس عہد میں اس نے گزاری ہوتی ہیں۔ اس کا ہر پل، ہر گھڑی اسکے لئے انبساط یا دکھ کی وہ سانس ہوتی ہے ، جو وہ خود کو زندہ رکھنے کے لئے لینے پر مجبور ہے۔ کبھی چاہتے ہوئے۔ کبھی نہ چاہتے ہوئے۔
مسعود کے ساتھ جو گزری وہ تو آج کے ایک حساس فنکار کی کہانی ہے جو بے وطن ہؤا۔

در بدر کی خواری اورایسے سانحے میر اور غالب کے ساتھ بھی گزرے جب انہوں نے اپنے مسکن دلی کو تقریباٌ سو سال کے وقفے سے بار بار خون میں نہاتے اور اجڑتے دیکھا، کبھی نادر شاہ کے ہاتھوں۔ کبھی ابدالی کے ۔ کبھی کمپنی بہادر کے ہاتھوں ۔
کبھی بہادرشاہ ظفر کی جلا وطنی ، جودو گز زمین کو ترستا رہا ۔

اور پھر جب مسعود منور ناروے آ گیا اورایک صبح ہم اور سید مجاہد علی، سعید انجم کے ساتھ اس کے ڈیرے پہنچے تو اسکی مسکراہٹ نے ہمارا استقبال کیا۔ لیکن اسکی ذہانت سے روشن آنکھوں میں وہ افسردگی بھی دیکھی جا سکتی تھی جو اپنوں سے بچھڑنے پر نہ چاہتے ہوئے بھی ان میں اتر آتی ہے۔
برف ، پردیس، جدائی کی قیامت مسعود
دائرے درد کے خم لے کے کہاں نکلیں گے

اس پہلی ملاقت سے قبل ہی مسعود کا غائبانہ تعارف ہمارے ایک دوست شاہد ندیم نے ہم سے کروایا تھا۔ مسعود بھی شاہد کے ساتھ پاکستان ٹی وی میں کام کرتا تھا۔ اور ٹی وی کا ہر شعبہ اسکے زور قلم کا معترف تھا۔ یہ بات خود شاہد نے بتائی تھی کہ موضوع کا تعین ہوتے ہی مسعود کا قلم سرپٹ دوڑنے لگتا ہے اور وہ لمحوں میں سکرپٹ تیار کرکے سامنے رکھ دیتا ہے۔ لیکن اس روانی سے لکھنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کا مطالعہ بہت وسیع ہو، تاکہ وہ موضوع سے انصاف کر سکے۔ اور یہ بات تو طے ہے کہ مسعود کا مطالعہ بے حد وسیع ہے۔ ادب، شاعری، فلسفہ ، تاریخ ، مذاہب، تصوف ، سیاست، اور ایسے ہی کتنے اور موضوعات ہیں جنکا بیان اور حوالے اسکی تحریروں میں ملتے ہیں اور خوب ملتے ہیں۔

کبھی وہ سنت کبیر کے دوہوں میں بھگتی تلاش کرتا منصور اور رومی تک جا پہنچتا ہے اور تصوف کی گتھیاں سلجھانے لگتا ہے ، تو کبھی شعرو ادب کی۔ کبھی وارث اور بلھے شاہ کے ساتھ ہیر کے کھوج میں نکل جاتا ہے، تو کبھی فرید کا دامن تھامے ریگزاروں میں سسی کو تلاش کرنے لگتا ہے۔اور پھر اگلے ہی لمحے عالمی سیاست یا تارکین وطن کے مسئلے پربحث کرنے لگتاہے۔ یقین جانئے ایسے جناتی علم رکھنے والے شخص سے بات کرتے ہوئے بھی محتاط رہنا پڑتا ہے کہ کہیں وہ آپ کی بناسپتی علمیت کا بھانڈا ہی نہ پھوڑ دے۔

شاید یہ مسعود منور کا المیہ بھی ہو کہ بات کرے تو کس سے کرے۔ اور کس معیار کی بات کرے کہ اس دیار میں اسکی زبان سمجھنے والا کوئی ہو بھی۔
اور اگر بات سمجھنے والا نہ ہو تو دانائے رازاپنے آپ سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ اور خود کلامی کرتے کرتے اپنے اندر ہی اندر اترتے چلے جاتے ہیں اور ایسے مکالمے کا آغاز ہوتا ہے جو سر بستہ راز کھولنے لگتا ہے۔
مسعود بنیادی طور پر ایک شاعر ہے اور بڑا شاعر ہے۔

شاعری کو روح کی زبان بھی کہا جاتا ہے، جو زندگی کی حقیقت اور اسکے خارجی حسن سے روشناس کرانے کے ساتھ ہی ساتھ اندر پھونکی گئی انسانیت کا احساس بھی دلاتی ہے۔ ایک ادیب یا شاعر جو اپنی ذات سے مخلص ہوتا ہے، اپنے فن سے بھی اسی طرح مخلص ہوتا ہے، اور اسکی تخلیق سطحی یا بے مقصد نہیں ، بلکہ ایک کمٹمنٹ لئے ہوتی ہے۔

مسعود کی شاعری ہماری سمجھ کے مطابق صرف خارجی عوامل ہی کی عکاس نہیں ہے بلکہ اس میں وہ صدائیں بھی شامل ہیں جو اندر کی گہرائیوں سے اٹھتی ہیں اور جنکا منبع تلاش کرنے میں شاعر برسوں اپنے خیالات کے پر پیچ راستوں پر بھٹکتا رہتا ہے۔ اور یہی روح کے اندر جھانکنے کا وہ پیہم عمل ہے جو اسکی تخلیقی قوتوں کو زاد راہ فراہم کرتا ہے۔
لیکن منزل کوجاتے ان راستوں کا کھوج لگانا کچھ اتنا آسان نہیں۔

اس مقصد کے لئے کبھی الہامی کتابوں سے راہنمائی حاصل کرنی پڑتی ہے تو کبھی اہل کشف و عرفان سے۔ کبھی عاصیوں کی صحبت سے تو کبھی معصوم بچوں کے بادشاہ کو ننگا قرار دینے والے سچ سے۔
لیکن یہ سب کچھ کرنے سے پہلے اپنی انا کا حصار توڑتے ہوئے اپنے اندر جھانک کر خود کو تلاش کرنا پڑتا ہے، جو شاید سب سے مشکل اور پیچیدہ مرحلہ ہے۔ ہو سکتا ہے ہم غلط ہوں، لیکن مسعود آج اسی مرحلے سے گزرتا دکھائی دیتا ہے، جس کا احساس اسکی گفتگو اور کلام میں واضح تر ہوتا جا رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جبرو خوف کے عالم میں پرندے بھی اپنے ٹھکانوں سے کوچ کر جاتے ہیں۔ یا پھر جب موسم بدلتے ہیں تو قدرت کی عطاکردہ جبلت انہیں اڑا کر ہزاروں میل دور خوشگوار وادیوں میں لے جاتی ہے۔اور پھر یہی جبلت جب انہیں بتاتی ہے کہ اجڑے گلستانوں میں بہار لوٹ آئی ہے تو وہ اپنے مرکز کو پلٹ آتے ہیں۔
زندگی کے اس سفر میں ہزاروں اپنی جان سے جاتے ہیں۔ کچھ طاقت پرواز کھو بیٹھتے ہیں۔ کچھ راستے میں ہی تھک کر دم توڑ دیتے ہیں۔ لیکن ان میں اپنی مٹی سے جڑے آشیانوں کو پلٹ جانے کی خواہش کبھی دم نہیں توڑتی۔

تو پھر کیا عجب کہ جبر کے عالم میں اپنے ٹھکانے سے اجڑنے والے مسعود منور کو بھی اپنا وہ آشیانہ اور چمن کی ڈالیاں یاد آتی ہیں جن میں کبھی وہ جھولا کرتا تھا۔
اسکا بار۔۔۔ اسکا چناب ۔۔۔ اسکی سوہنیاں۔۔ اسکا لاہور۔۔۔ اسکا پاکستان ۔۔۔ جسکی مٹی کی خوشبو اسکی سانسوں میں بسی رہتی ہے۔ یاد آتی ہے ۔ بار بار بلاتی ہے۔۔
یہ جانتے ہوئے بھی کہ ۔۔ جو جس جگہہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا۔۔ وہ ان قریوں کی سیر کو جانا چاہتا ہے جو اسکی یادوں میں آباد ہیں:
اب بھی آباد ہیں وہ عشق کے قریئے مسعود
جن کے رستے میں مجھے ہجر کے دیہات ملے

لیکن جب وہاں جانے کے سب راستے بند ہو جائیں، جہاں کوئی جانا چاہتا ہے ، تو پھر اندر کے راستے کھل جاتے ہیں، اور کعبہ وہیں بنا لیا جاتا ہے جہاں جبیں رکھ دی جائے۔
اور یوں بھی وحدانیت پر یقین رکھنے والے دنیاوی حد بندیوں کو نہیں مانتے۔
ہر ملک ماست ، کہ ملکِ خدائے ماست

اب دریائے درامن ہی میں مسعود کو چناب دکھائی دیتا ہے اور اسکے کنارے چہکتی مسکراتی ناریں۔۔ سوہنیاں۔
اب حجرہ شاہ مسعود ہی اسکا بار ہے۔ جسکے آنگن میں اسکا گاؤں آباد ہے۔ لاہور بستا ہے۔ پاکستان زندہ ہے۔
وہ جب چاہے کھلی یا بند آنکھوں سے اسکی سیر کر لیتا ہے۔
اور ہمیں یقین ہے کہ جب بھی وہ پاکستان گیا، اسکی گلیوں میں گئے وقتوں کا سراغ لگاتے، کنار چناب کا یہ شیشم، اپنے درامن اور تھران بی کے لئے بھی ویسے ہی مونجھا ہو جائے گا جیسے آج وہ پاکستان کے لئے ہوتا ہے۔

مسعود کہتا ہے:
یہ مرا زندگی نامہ ہے سر شہر فراق
اب کوئی وصل کا مضمون نہ باندھا جائے۔

مسعود صاحب !
آپ کچھ بھی کہتے رہیں۔ وصل کے مضمون تو ہم باندھتے ہی رہیں گے۔

(23 مئی 2015 کو اوسلو میں مسعود منور کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریب میں پڑھا گیا)