زندگی کی طرح تہذیبیں متحرک ہوتی ہیں!

  • سوموار 25 / مئ / 2015
  • 4113

فرانس میں حجاب یا برقعہ جو بھی کہہ لیں پر پابندی کا قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیرس میں اس نئے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے لگ بھگ 80 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ قانون پر عملدرآمد کے پہلے روز 2 برقع پوش خواتین کو گرفتار کر کے ان پر جرمانہ کیا گیا ہے۔ تاہم فرانسیسی پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین کو برقع پہننے کے جرم میں نہیں بلکہ مظاہرے میں شرکت پر گرفتار کیا گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت عوامی مقامات ، اسکولوں ، کالجوں ، دفتروں اور عدالتوں میں چہرہ چھپانے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ ایسا کرنے والے کسی بھی شخص (عورت یا مرد) کو پولیس اسٹیشن لے جا کر نقاب اتارنے کو کہا جائے گا۔ حکم عدولی پر ڈیڑھ سو یورو جرمانہ کیا جائے گا اور ایسے افراد جو خواتین کو چہرے ڈھانپنے پر مجبور کریں گے انہیں تیس ہزار یورو جرمانہ اور دو سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
 
اس خبر کے ساتھ ہی گریٹر مانچسٹر کے علاقے بری سے خبر آئی ہے کہ برقع پہنے ایک شخص نے جیولری کی دکان لوٹ لی۔ اس نے  برقع کے نیچے شاٹ گن  چھپائی ہوئی تھی۔ گریٹر مانچسٹر میں مسلم کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے اور خواتین میں روایتی برقع کا رواج عام ہو رہا ہے۔ فرانسیسی حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق کے دفاع اور مخصوص طریقہ کار کے خاتمہ کے لئے بل کی منظوری دے دی گئی ہے اور قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔ ادھر فرانس کے ہمسایہ ملک بیلجیئم کی حکومت نے برقع پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ برسلز کے میئر کونسلر نے احتجاجی پروگرام کے خلاف اقدام اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرے برسلز کے مکینوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہو گا اور ان کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہونگے۔ 
 
یہاں میں یہ بات بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بیلجیئم کی پارلیمنٹ میں ارکان کی اکثریت نے مسلم خواتین کی طرف سے برقع پہننے کی پابندی کی حمایت کر دی ہے۔ اس لئے پابندی کا قانون اب بیلجیئم میں بھی نافذ ہونے والا ہے۔ اس سے پہلے یہ خبر آ چکی ہے کہ بیلجیئم کے شمال میں ایک ٹاﺅن نے ان مسلمان خواتین کو جرمانہ کرنا شروع کر دیا ہے جو عوامی مقامات میں روایتی برقع اوڑھتی ہیں۔ اب تک پانچ خواتین کو ایک سو یورو تک جرمانہ کیا گیا ہے۔ برقع کو مقامی میئر نے ” تقسیم کرنے والا اور جبر کی علامت “ قرار دیا ہے۔ اس ٹاﺅن میں مسلمانوں کی آبادی لگ بھگ سات سو ہے۔ ماسک نامی اس ٹاﺅن میں ایک مراکشی خاتون جرمانے کا پہلا نشانہ بنی۔ ٹاﺅن کونسل کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ لباس (برقع) کمیونٹیز کو تقسیم کرتا ہے اور منافرت پر اکساتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ پانچوں خواتین جن کو جرمانہ کیا گیا ہے کوئی کام نہیں کرتیں اور سوشل سکیورٹی ، مراعات اور بینیفٹ لیتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو ہونے والا جرمانہ بھی حکومت ہی کو بھرنا پڑے گا۔ اس لئے یہ خواتین حکومت اور قوانین کو برا بھلا کہنے کے بجائے جرمانہ بھرنے کو ہر دم تیار ہیں۔
 
ابھی کچھ عرصہ پہلے یورپ ہی کے ملک اٹلی کے شمالی شہر نوارا میں ایک بازار میں مکمل برقع میں ملبوس خرید و فروخت کرنے والی ایک خاتون  کو اطالوی پولیس نے جرمانہ کر دیا۔ اٹلی میں اپنی نوعیت کا غالباً یہ پہلا واقعہ ہے۔  میرے ہمسایہ ملک جرمنی میں اکثریت اور اقلیت (مسلم) کے درمیان عوامی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ جرمنوں کی اس عوامی بحث میں تارکین وطن کے موضوعات شامل ہیں۔ لیکن سب سے اہم موضوع جس پر اکثر لڑائی جھگڑے تک نوبت پہنچ جاتی ہے یہ ہے کہ مقامی افراد تارکین وطن پر الزام عائد کرتے ہیں (یہ ایک المیہ ہے لیکن حقیقت بھی یہی ہے) کہ وہ جرمن معاشرے میں ضم ہو کر یا گھل مل کر رہنا ہی نہیں چاہتے اور یہ کہ وہ خود کو ملک کی عوامی زندگی سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔
 
یہ تو تھیں یورپی ممالک میں پابندیوں اور پیچیدگیوں کے معاملات جو کہ مذہبی نہیں سیاسی ہیں۔ اب ذرا یورپ سے ہزاروں میل دور آسٹریلیا کو دیکھتے ہیں۔ آسٹریلیا کے ایک اپوزیشن سینیٹ کے رکن کوری برنارڈی نے برقع کو آسٹریلیا کے مزاج اور کلچر کے خلاف قرار دیا ہے۔ کوری برنارڈی نے برقع کو غیر مہذب گردانتے ہوئے اسے عورت پر مرد کے ظلم کی نشانی بتایا ہے۔ اس نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ موٹر سائیکل سوار اپنی شناخت کروانے کے لئے اپنا ہیلمٹ ہٹاتے ہیں لیکن ایک برقع پوش یا نقاب پوش خاتون مذہبی اصولوں کے تحت نقاب ہٹانے سے انکار کرتی ہے کہ اس کا عقیدہ اسے ایسا کرنے سے روکتا ہے۔ کوری نے مضمون میں لکھا ہے کہ اگر میں سرتاپا خیمہ نما لباس میں آ جاﺅں تو مجھے کوئی پہچان نہیں سکے گا۔ کوری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آسٹریلیا میں برقع پر مکمل پابندی عائد کر دینا چاہئے اور آسٹریلیا میں آباد مسلم خواتین کو چاہئے کہ وہ آسٹریلیا کی اقدار اپنائیں۔
 
میرے حساب سے آج مسلم معاشرے میں جو پیچیدگیاں اور برائیاں در آئی ہیں۔ بدقسمتی سے ان پر کم توجہ دی گئی ہے۔ ان میں ایک پردہ ، حجاب ، جلباب یا برقع کا مسئلہ بھی ہے۔ اس موضوع بحث بنے ہوئے مسئلہ کو پوری طرح سلجھانا تو خیر ایک طرف ٹھہرا بہت کم اہل علم ہیں جنہوں نے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ کسی چیز کا جائز یا ناجائز کہہ کر الگ ہو جانا تو صرف فتویٰ ہے مگر آج کے دور میں کام فتوے سے نہیں چلتا۔ ضرورت ہے مشکلات کا حل تلاش کرنے کی۔ مشکلات کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایک شرعی حکم پر عمل کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس وقت ایسی راہ تلاش کرنا پڑتی ہے کہ اس حکم کا پورا پورا احترام باقی رکھتے ہوئے یا اس پر زیادہ سے زیادہ عمل کرتے ہوئے جو خامیاں رہ جائیں ان کو دور کیا جا سکے اور تعمیل حکم میں جو خلا رہ جائے اس کو پر کیا جا سکے۔
 
ایک بنیادی سوال جس نے میرے ذہن میں سر اٹھایا ہے یہ ہے کہ پردے کی غایت و غرض کیا ہے؟ اس پر میں بھی سوچتا ہوں ، آپ بھی سوچئے ............
 
خود تو بیٹھے کاغذ کی ناﺅ پر
تہمت لگا رہے ہیں ہوا کے دباﺅ پر