جادو کی بنسری

  • منگل 26 / مئ / 2015
  • 7869

ایک عجیب بستی تھی جس میں صرف عجیب لوگ رہتے تھے۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے دور بہت دور اونچے پہاڑوں سے گھری اس بستی تک جنات کی پہنچ نہ تھی اور وہ اونچے پہاڑوں پر بنی قدرتی غاروں میں ہی محصور تھے۔

ان پہاڑوں سے اترنے والے دروں پر آدم خور دیو آباد تھے جو ہر دم ’’ آدم بو ۔ آدم بو‘‘ کرتے انسانوں کی تلاش میں رہتے اور جہاں موقع ملتا انہیں چٹ کر جاتے۔ ان کے حریف جنوں کو انسان کھانے سے تو کوئی دلچسپی نہ تھی البتہ انسانی گردنیں مروڑنا انکا مقبول مشغلہ تھا جس کی تکمیل کی راہ میں یہ دیو سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ تو صاحبو! ان دونوں کا ہدف انسان ہی تھے۔ دیو تو انہیں کھاتے تھے اور جن مارتے تھے اور وہ بھی صرف مشغلے کے طور پر۔

نیچے بستی والوں کی گزر بسر کھیتی باڑی پر ہوتی۔ کچھ کاروبار کرتے تو کچھ مزدوری۔ کچھ غریب تھے کچھ امیر۔ چند آقا تھے بیشتر غلام۔عورتیں غلام در غلام جن پر لازم تھا کہ وہ دن میں کم از کم ایک مرتبہ اپنے مجازی خداؤں کی خوشنودی کے لئے خود کو ان سے زدوکوب کروائیں۔ بس سب کے سب اپنی زندگی سے مطمئن تھے اور آس پاس کی بستیوں سے بےخبر و لا تعلق زندگی گزارے جاتے تھے اور ان کا راجہ ایک چھتاور درخت کے نیچے بیٹھا چین کی بنسری بجاتا تھا ۔

ایک دن اس بستی پر سورج طلوع ہؤا تو اسکا رنگ سیاہ تھا اور جوں جوں یہ اوپر اٹھتا جاتا بستی گہرے اندھیرے میں ڈوبتی جاتی تھی۔ اب تو بستی والے بہت پریشان ہوئے اور دوڑے اپنے راجہ کی طرف کہ اس سے مدد کے لئے کہیں۔ چھتاور درخت کے قریب پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ انکے راجہ کی لاش درخت کے سب سے اوپر والے تنے سے ٹنگی ہوا میں جھولتی ہے اور اسکے نیچے ایک جادوگر بیٹھا راجہ کی بانسری بجاتا ہے جس میں سے ہر سُرکے سا تھ سانپ اور بچھو اور مکڑے اور ہزارپا نکلتے ہیں اور رینگتے ہوئے ہر جانب بڑھنے لگتے ہیں۔

جادو گر نے انہیں دیکھا تو اپنے پیلے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے بولا۔
کیا لینے آئے ہو یہاں ! دیکھتے نہیں میں بنسری بجا رہا ہوں۔
ان میں سے ایک جو انکا نمائندہ تھا، ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا اور عاجزی سے بولا۔
سرکار ! یہ آپ کیسی بانسری بجاتے ہیں کہ سارے میں اندھیرا چھائے جاتا ہے۔ دیا کیجئے۔ سورج نہ نکلا تویہ جن اور دیو پہاڑوں سے اتر کر ہمیں کھا جائیں گے اور یہ بستی ویران ہو جائے گی۔
جادو گر اپنی چھڑی گھماتے ہوئے بولا۔
بستی ویران ہوتی ہے تو ہو جائے۔ بنسری تو میں بجاتا ہی رہوں گا۔

جب بستی والوں نے بہت منت سماجت کی تو جادو گر نے بنسری نہ بجانے کے لئے ان کے سامنے چند شرائط رکھ دیں ۔
بستی والوں نے شرائط کی پوتھیوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا لیکن وہ اسے پڑھنے سے قاصر رہے۔
یہ کون سی زبان ہے ؟
ان میں سے ایک نے جو دیکھنے میں خاصہ معزز اور معتبر دکھائی دیتا تھا ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
جادوگر پہلے تو ہنسا۔ پھر ناراض ہوتے ہوئے بولا۔
اب تم اگرمعزز ہو کر بھی اتنے جاہل ہو کہ ان پوتھیوں کی زبان تک نہیں سمجھ سکتے ، تو میں تمہیں زبان سکھانے سے تو رہا۔ ہاں ! ان میں جو کچھ لکھا ہے، اس پر عمل ضرور کروں گا۔ کہو منظور ہے۔ اور جسے منظور نہیں اسکا ناشتہ آج میں سب سے پہلے کروں گا۔
سبھی معززین بیک آواز بولے۔
منظور ہے عالیجاہ ۔۔ منظور ہے۔

جادو گر پھر ہنسا، اور پوتھی میں لکھی پہلی شرط پڑھتے ہوئے بولا۔
اس میں لکھا ہے کہ بستی والے ہر ہفتے مجھے ایک لنگڑے آدمی کا نذرانہ پیش کریں گے، جو میری ہفتے بھر کی خوراک کے لئے کافی ہو گا۔ کہو منظور ہے !!!
سب معززین نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا، اور کسی کو لنگڑا نہ پا کر بولے۔
منظور ہے عالم پناہ ۔۔ منظور ہے۔

بستی میں لنگڑے آدمی تھے ہی کتنے۔ یہی کوئی پان سات۔ چند ہی ہفتوں میں ذخیرہ ختم ہو گیا تو جادوگر نے بستی کے معزز اور معتبر لوگوں کو پھر بلا بھیجا۔
پھر انکی جانب دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا۔
بستی پر سورج چمک رہا ہے ناں۔ کوئی شکایت تو نہیں!
سبھی معززین احترام سے جھکتے ہوئے بولے۔
نہیں عالی جاہ ! سب ٹھیک ہے ۔ دیا ہے آپکی۔
اب جادوگر نے پہلو بدلا اور پوتھی سے دوسری شق پڑھتے ہوئے بولا۔
جیسا کہ تم سب جانتے ہو ، لنگڑے تو ختم ہو گئے۔ لیکن بھوک تو مجھے اب بھی لگتی ہے۔ اب میں کیا کروں!
ایک معزز ، جو ان سب کا نمائندہ تھا، رکوع میں جاتے ہوئے بولا۔
ہمیں علم ہے حضور۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر ہفتے ہم ایک آدمی کی ٹانگ توڑ کر اسے آپ کے حضور پیش کر دیا کریں گے۔
جادو گر پہلے تو ہنسا۔ پھر منہ بناتے ہوئے بولا۔
نہیں ! مرغ مسلم کی طرح مجھے آدم بھی مسلم ہی چاہیئے۔ ایک ٹانگ سے میری بھوک نہیں مٹتی۔

اب تو بستی والے بہت پریشان ہوئے۔ لنگڑا کرنے کے بعد جس آدمی کو وہ کندھوں پر اٹھا کر لائے تھے اسے زمین پر پھینکتے ہوئے پوچھنے لگے کہ حضور پھر کیا کیا جائے۔
جادو گر جان بچ جانے والے لنگڑے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
جا ! پہلے تو جا کر اپنی ٹانگ کا علاج کروا۔ اور جانے سے پہلے یہ بتا کہ اب اپنے دستر خوان کی زینت میں کسے بناؤں۔

لنگڑے کا جی چاہا کہ وہ معززین کو باری باری دستر خوان پر لانے کا مشورہ دے۔ لیکن ڈرتا تھا کہ جادوگر نے اگر اسکی بات نہ مانی تو یہ طاقتور معززین کہیں اسکی دوسری ٹانگ بھی نہ توڑ دیں۔ سر کھجاتے ہوئے بولا۔
حضور ! اندھوں کا ناشتہ کر لیا کریں۔ ویسے بھی سورج چمکے نہ چمکے انہیں فرق ہی کیا پڑتا ہے۔
جادوگر خوش ہوتے ہوئے بولا۔
ہاں یہ بات تونے بہت اچھی کہی اے دانشمند عارضی لنگڑے۔ پس اسے میرا فیصلہ سمجھا جائے۔ کہو منظور ہے!
معززین نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا کہ ان میں کوئی اندھا تو نہیں ہے۔ سب کو بینا پا کر فوراٌ ہی بول اٹھے!
درست فیصلہ ہے عالی جاہ۔ منظور ہے منظور ہے!

دن یونہی گزرتے جا رہے تھے۔ لنگڑے، اندھے، بہرے، کبڑے، ناٹے ، سبھی آہستہ آہستہ جادوگر کے دستر خوان کی زینت بن چکے تھے، اور بستی کے معززین خوش تھے کہ بستی آفات سے محفوط ہے اور اس پر سورج آب وتاب سے چمکتا ہے۔

دن یونہی گزرتے جاتے تھے کہ ایک روز بستی میں بنسری کی آواز پھر سے سنائی دینے لگی اوراسکے ساتھ ہی سورج کا چہر بھی سیاہ پڑنے لگا۔
معززین پگڑیاں اور دستاریں سنبھالتے دوڑے چھتاور درخت کی جانب کہ جا کر جادوگر کو اسکا پیمان یاد دلائیں اور پوچھیں کہ اب وہ کیوں بنسری بجاتا ہے۔ لنگڑے۔ لولے۔ اندھے۔ کمزور۔ اپاہج تو سب اسکے شکم میں اتر گئے۔اب اور کس ذائقے کی خوراک چاہتا ہے۔

معززین چھتاور درخت کے سائے میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ بنسری البتہ ہوا میں لہراتی بجے جاتی ہے اور درخت کے سب سے اوپر کے تنے پر جادوگر کی لاش جھولتی ہے۔
اب تو وہ بہت حیران ہوئے اور پریشان بھی۔

ان میں سے ایک ، جو دانش میں ارسطو و لقمان کے شاگردوں کا ہم پلہ تھا، ہمت کر کے اونچی آواز میں بولا۔
اے بنسری والے نادیدہ ہاتھ تو کس کا ہے اور دکھائی کیوں نہیں دیتا۔ لازم ہے کہ تو ایک چہرہ اور منہ بھی رکھتا ہو گا کہ بنسری تو بجتی ہی منہ سے ہے۔ پس ظاہر ہو کہ ہم تجھے دیکھ کر جان سکیں کہ تو چاہتا کیا ہے۔
بنسری کی تان اچانک نامکمل سُر پر ٹوٹی اور اسکا رخ معززین کی جانب ایسے ہو گیا جیسے کوئی انگلی لہرا کر انہیں تنبیہ کر رہا ہو۔

ایک گمبھیر آواز فضا میں بلند ہوئی۔
سنو اے بستی والو۔ اور غور سے سنو ۔ تم مجھے دیکھ نہیں سکو گے کہ میں نے سلیمانی ٹوپی اوڑھ رکھی ہے، جو مجھے اور میرے ہاتھوں کو نادیدہ بناتی ہے۔ یہی میری طاقت کا راز ہے۔ تمہارا محبوب جادوگر بھی مجھے نہیں دیکھ سکا تھا۔ سو اب اوپر ٹنگا ہے۔

معززین خوف سے تھر تھر کانپتے ہوئے بولے۔
خوش آمدید حضور ! لیکن آپ چاہتے کیا ہیں! آپ کی بنسری نے ہماری بستی کو پھر سے اندھیروں میں ڈبو دیا ہے۔ ہم برباد ہوئے جاتے ہیں۔ رحم سرکار!
تو سنو !ایک کڑک دار آواز میں کوئی دھاڑا۔ میں سامری ہوں اور مجھے ناشتہ چاہیئے۔ پر بنسری بجانا میں بند نہیں کروں گا۔
معززین ہاتھ باندھ کر گڑگڑائے۔
سرکار ناشتہ تو ضرور کیجئے۔ حکم دیں کہ آپ کو کس طرح کی خوراک چاہیئے۔ اندھے، لولے ،لنگڑے، اپاہج۔۔ ہر طرح کی ڈش حاضر کر دی جائے گی ۔ پر بنسری نہ بجائیے۔ اس طرح تو ہم اندھیروں میں ڈوب جائیں گے۔
نادیدہ سامری کی آواز پھر بلند ہوئی۔
مجھے توملا جلا گوشت پسند ہے۔ سوٹ بوٹ والے ہوں یا جبہ و دستار پوش۔ دھوتی والے ہوں یا نیکر والے۔ مجھے تو سب کے جسم میں غذایت دکھائی دیتی ہے۔ سو تم سب میری نظر میں برابر ہو۔ مکسڈ گرل بنا کر کھاؤں گا۔

معززین پر سکتہ طاری ہونے لگا۔ سبھی ایک دوسرے کویوں دیکھ رہے تھے جیسے آخری مرتبہ دیکھ رہے ہوں۔ اچانک آواز پھر بلند ہوئی۔
اور ہاں! بنسری تو میں بجاتا رہوں گا۔ تمہارے مفاد میں ہے یہ۔ یقین جانو کل کو روشنی تمہیں گوارا نہ ہوگی اور تم اندھیروں کو ترسو گے۔ بس اب جاؤ۔

معززین لڑکھڑاتے قدموں سے گھروں کو لوٹ گئے۔ اب ہر ایک کے دل میں یہی دھڑکا تھا کہ نجانے کب اسکی باری آجائے۔
دن گزرتے گئے۔ سامری جادوگر، مکسڈ گرل بنانے کے لئے جب الاؤ روشن کرتا تواندھیرے میں ڈوبی بستی اچانک روشن ہو جاتی۔ ایسے میں سامری کی نظروں سے اوجھل رہنے کیلئے، سبھی چوہوں کی طرح کونوں کھدروں، غاروں، کھڈوں اور کسی آڑ میں چھپنے کی کوشش کرنے لگتے ۔ جو چھپنے میں ناکام رہتے ، پکڑے جاتے، اور بھون کر کھا لئے جاتے۔

پس بستی میں اب تو سبھی اندھیروں کی دعا کرتے اور روشنی سے ایسے ڈرتے تھے جیسے پانی سے کتے کا کاٹا۔

لیکن مس! جب لوگ پہلے جادوگر سے بات کرنے گئے تھے، تو اتنے سارے لوگوں نے مل کر اس کی بانسری چھین کیوں نہ لی؟
کلاس میں بیٹھی ایک پیاری سے بچی نے سوال کیا۔

اس سے پہلے کہ مس، بچی کے سوال کا جواب دیتیں ، چھٹی کی گھنٹی بجنے لگی۔۔ ٹن ٹن۔۔ ٹن ٹن۔۔ ٹن ٹن۔۔۔