مذہب کے نام پردہشت گردی
- بدھ 27 / مئ / 2015
- 4336
عقائد کا اختلاف تو دنیامیں ہر وقت رہا ہے ۔ انسان کلی طور پر آزاد ہے ۔ اسکا جو دل چاہے وہ اس کے مطابق اپنا عقیدہ اپنائے۔ مگر یہ حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنے عقائد جبراٌ کسی پر ٹھونسنے کی کوشش کرے۔ اگر یہ طریق اختیار کیا جائے تو ایک نہ ختم ہونے والا فساد کا سلسلہ شروع ہو جا ئے گا۔
اختلافات کو دور کرنے یا سچائیوں کو پھیلانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ امن و سلامتی کے ماحول میں ہر تعصب سے پاک ہو کر ایک دوسرے تک اپنے خیالات کو پہنچایا جائے اور دیانتداری سے ایک دوسرے کے نقطہء نظر کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس میں یہ بات ضروری ہے کہ شدید ترین مخالف کے معاملہ میں انصاف کا معاملہ ہاتھ سے نہ چھوڑا جا ئے۔ اور جہاں نظام عدل کی یہ حالت ہو کہ انسانی حقوق کے ادنیٰ تقاضے بھی پورے نہ ہورہے ہوں وہاں اس کے نتائج انتہائی ہولناک ہو سکتے ہیں۔پس اگر انسانی زندگی کی سطح پر عدل و انصاف میںآزادانہ مرضی کا عنصر داخل کر دیا جائے اور انسان خدا تعالیٰ کے دئے ہوئے اس اختیار کا غلط استعمال کرنے لگے تو وہ ترقی کی جانب سفر نہیں کر سکتا بلکہ زوال اس کا مقدر بنے گا۔
انسانی تاریخ تو کشت و خون سے لبریز ہے۔ تاریخ کا ابتدائی دور ہمیں بتاتا ہے کہ قابیل نے ہابیل کو قتل کیا تھا۔ اسدن سے لیکر آج تک اس قدر خون ناحق بہایا گیا ہے کہ اگر اسکو جمع کیا جائے تو آج روئے زمین پر بسنے والے تمام انسانوں کے کپڑے اس خون میں رنگے جا سکتے ہیں۔ حیرت کا مقام یہ ہے کہ اس سب کے باوجود انسان کے خون کی پیاس نہیں بجھی۔ قابیل و ہابیل کا قتل ناحق تو قرآن کریم اور بائیبل نے ہمیں عبرت دلانے کے لئے محفوظ کر دیا ہے اور یہ ذکر اس دن تک محفوظ رہے گا جب تک انسانی تاریخ صفحہء ہستی سے مٹ نہ جائے۔انسان تو پہلے بھی ظالم تھا اور آج بھی ہے۔ اب تو مذہبی جماعتیں بھی یہی نمونہ پیش کر رہی ہیں۔چاہے وہ عراق ہو ، شام ، مصر ، یمن اور افغانستان ۔ خاص کر ہمارا پیارا وطن پاکستان تو اسکی لپیٹ میں بری طرح گھرا ہؤا ہے۔
ہمارے ملک میں انفرادی قتل کی مثالیں لا تعداد اور بے شمار ہیں۔ یہ خون کبھی عزت و ناموس کے نام پر کئے جاتے ہیں تو کبھی خدا کے نام پر۔ مذہب کی آڑ لیکر مذہبی لیڈر اور سیاستدان پاکستان میں خونی انقلاب کی باتیں کر رہے ہیں۔ موجودہ اور پچھلی حکومتوں کے دور میں اقلیتوں کو خاص طور پر ٹارگٹ کیا گیا ۔ ان میں شیعہ عیسائی اور دیگر تمام اقلیتی فرقے اور مذاہب شامل ہیں۔ ان کی عبادت گاہوں اور کالونیوں پر بھی حملے کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والی دو مساجد میں بموں سے دھماکے کئے گئے۔ ان حملوں میں 90 کے قریب افراد جاں بحق ہوئے ۔ یہ بھی مذہب کے نام پر ظلم اور بربریت کا کھلا ثبوت ہے۔
تحفظ ناموس رسالت کی دفعات کا غلط استعمال کیا جاتا ہے جن سے ہماری اقلیتوں کے سروں پر یہ تلوار ہر وقت لٹکتی رہتی ہے۔اس سے ہمارا مولوی طبقہ بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے۔ ان دفعات کے بارے میں پاکستانی اور عالمی NGOتنظیمیں کئی بار احتجاج کر چکی ہیں۔ ان دفعات کو سابق گورنر پنجاب سلیمان تاثیر نے جب کالا قانون قرار دیا تو اس کے گارڈ قاری ممتاز قادری نے انہیں شہید کر دیا۔نچلی عدالتوں نے اس پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے پھانسی کی سزا دی۔ سپریم کورٹ میں اس کی اپیل ابھی تک زیر التوا ہے۔ چند سال قبل سلمان تاثیر کے بیٹے کو بھی دہشت گردوں نے اغواء کر لیا جس کا ابھی تک کچھ پتہ نہیں ۔ لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کو اس کا علم ہے۔
اسی طرح ہندو برادری کی بیٹیوں اور نوجوان لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کر کے انکے ساتھ شادی کی جاتی ہے۔ پھر چند سالوں بعد ان کو بیچ دیا جاتا ہے۔ یعنی صرف اپنی حوس کا نشانہ بنا نے کی خاطر مسلمان کر لینا ، یہ ہمارے مذہب و قرآن کی تعلیم اور ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کے اسوہ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ابھی حال ہی میں قائد کے شہر میں قائد ہی کے عقیدے سے تعلق رکھنے والے اسماعیلی فرقے کے 45افراد کو ایک بس میں شہید کر دیا گیا۔ اس فرقہ کے پیرو کار پر امن، تجارتی و کاروباری ہونے کے ناطے محب وطن اور اچھے شہری بھی ہیں ۔ یہ لوگ کسی فرقے سے کسی قسم کی کوئی دشمنی نہیں رکھتے۔ کراچی سے تعلق کے ناطے میں ان کو بخوبی جانتا ہوں۔ اس کمیونٹی کے کئی لوگ میرے دوست ہیں۔قائد اعظم محمد علی جناح کا تعلق بھی اسی کمیونٹی سے تھا اور ان کے لیڈرسر آغاخان نے پاکستان بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا تھا ۔
مذہب کے نام پر دوسرے مذہب کیسا تھظلم و ذیادتی دہشت گردی اور فتنہ پروری کے سوا کچھ نہیں۔مذہب اسلام کسی کی ملکیت نہیں ہے کہ اسے جو چاہے اور جس طرح چاہے استعمال کرلے۔ اسکی حفاظت خدا کا کام ہے جو بھی اس کے محبت اور شرف انسانیت کے پیغام کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا توچاہے وہ مفتی ہو ، ذاکر ، عالم یا حکمران ہو ، خدا کی لاٹھی سے نہیں بچ سکتا۔ انتہاپسندی کی تعلیم و تبلیغ اور تقلید کرنے والے نام نہاد اسلامی فرقوں کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔میں ا یسے حکمرانوں اوراسلام کے ٹھیکیداروں سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ اپنا قبلہ درست کر لیں ورنہ جب خدا کی لاٹھی چلے گی تو کسی کو امان نہیں مل سکے گی۔ اللہ ہمارے ملک اور دنیا کو مذہب کے نام پر خون کرنے والے انتہا پسندوں اور دہشت گردوں سے بچائے۔ آمین