تم وار کرو ہم جھیلیں گے
- جمعہ 29 / مئ / 2015
- 4523
مسلسل وار سہنے کے باوجود بھی پاکستانی قوم ایک نئے حوصلے سے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ یہ قوم 47ء میں قیام پاکستان، 65 ء کی جنگ، 71ء کی عیاری، 80ء کی مشکل دہائی، 98 ء کی دھمکیاں اور پابندیاں اور مسلسل ڈرون حملے جوانمردی سے سہہ چکی ہے ۔ یہ قوم تحسین کی مستحق ہے اور اس کی ہمت اور جذبے کی تعریف ضروری ہے۔
2009 ء میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تو بیگانے تو بیگانے اپنوں نے بھی راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کھیلوں کے میدان اب دوبارہ آباد نہیں ہو پائیں گے۔ نانگا پربت پر خون بہایا گیا تو کہا جانے لگا کے اب کوئی سیاحتی مقامات کا رخ نہیں کرے گا۔ گومل ذام ڈیم اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر مصروف چینی انجینئرز کو نشانہ بنایا گیا تو کہا گیا کہ ہم سے ہمارا واحد دوست بھی الگ ہو جائے گا۔ لیکن ہم نے ثابت کیا کہ ہم بے پناہ مسائل سے بھی ہمت ہارنے والے نہیں ہیں۔ قیادت کے شدید ترین فقدان کے باوجود پاکستانی قوم ہرگز گمنامی کے اندھیروں میں گم نہیں ہوگی۔
سری لنکن ٹیم پر ہونے والے شدید حملے کے بعد سے ہمارے کھلاڑیوں نے نہ صرف عالمی درجہ بندی میں اپنا آپ منوایا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ ہم ہتھیار کی زبان میں بات کرنے والوں میں سے نہیں ہیں۔ نانگا پربت پر ہونے والی دہشت گردی کی کاروائی کے بعد جس طرح پاک فوج نے مقامی قیادت سے مل کر حالات کی بہتری کے لئے کام کیا وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں۔ 2008 میں جب مالم جبہ کے واحد ریزورٹ کو نذر آتش کر دیا گیا تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پاکستان کا واحد اسکی SKI پوائنٹ دوبارہ سے عوام کی توجہ کا مرکز بن پائے گا۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ نہ صرف پاک فوج کے اسکیئرز برفانی چوٹیوں پر اس کھیل میں مصروف نظر آئے بلکہ عام پاکستانیوں نے بھی ان علاقوں کا رخ کیا۔
2007 میں جب راہ حق کی جہدو جہد شروع ہوئی تو سوات جیسی خوبصورت وادی میں خوف کی فضا تھی۔ سیاح ڈر کے مارے رخ نہیں کر رہے تھے۔ لہلاتی وادی سراسیمگی کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھی۔ پھر خوف کی فضاء 2009 میں آپریشن راہ راست سے ختم ہونا شروع ہوئی۔ سیاہ چادر ہٹنا شروع ہو گئی ۔ رونقیں بحال ہونا شروع ہو گئیں۔سوات میلہ ان دشمنوں کے منہ پر طمانچہ تھا جن کا خیال تھا کہ یہ قوم اپنے سیاحتی مقامات سے محروم ہو جائے گی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب سوات آپریشن کے بعد پہلی دفعہ سوات میلے کا انعقاد کیا گیا تو ہمیں ایک تربیتی ورکشاپ میں اس موضوع پر لکھنے کے لئے کہا گیا تھا اور ہر کوئی اس موضوع پر لکھنے کو بے تاب تھا۔ کیوں کہ ایک عرصے بعد سوات کی رونقیں واپس آئی تھیں۔
" میرے کندھے اور پیٹ میں گولیاں لگیں تو میں بے ہوش ہو گیا۔ اور ایک موقع پر بڑے آپریشن سے گزرتے ہوئے خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں میں گردہ نہ کھو بیٹھوں۔ لیکن میں زندگی کی طرف لوٹا اور ساتھ ہی ہمیشہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے دعا گو رہا"۔ یہ الفاظ 2009 میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے سے شدید زخمی ہونے والے پاکستانی ایمپائر احسن رضا کے ہیں۔ احسن رضا کے لفظ عزم و ہمت کی ایک داستان لئے ہوئے ہیں۔ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس قوم کا حوصلہ کبھی پست نہیں ہو گا۔ ہم پر دشمن جتنے وار کرے گا ، ہمارے حوصلے مزید مضبوط ہوں گے ۔
زمبابوے کی ٹیم کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی کچھ یہ راگ الاپنا شروع ہو گئے ہیں کہ ہمیں ابھی یہ رسک نہیں لینا چاہیے تھا۔ ان سے صرف اتنی سی گذارش ہے کہ خدارا اپنی سوچ بدلیں۔ آپ اس قوم کے فرد ہیں جس نے لاشوں پر اس ملک کی بنیادیں قائم کی تھیں۔ ان قربانیوں کے وقت کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ قائد نے نئے وطن کا رسک کیوں لیا؟ ممبئی حملوں کے بعد بھارت نے پوری دنیا سے اپنے سفیروں کو واپس بلوایا اور ان کے دلوں میں پاکستان کے خلاف نفرت بھر کے دنیا میں واپس بھیجا گیا۔ نتیجتاً پاکستان آج تک ایک ملزم کی طرح خود کو کٹہرے میں محسوس کر رہا ہے۔ آخر کیوں ہم خود یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان بطور ریاست ہی سیکیورٹی رسک ہے۔ زمبابوے کو مکمل سیکیورٹی دے کر ہم دنیا پر یہ ثابت بھی کر سکتے ہیں کہ ہم مہمانوں کی قدر کرنا جانتے ہیں۔ جب سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تو بس ڈرائیور کو سری لنکا بلوا کر انعامات سے نوازا گیا تھا کیونکہ اس نے جرات کی مثال قائم کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا تھا۔
افسوس صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ تنقید ہمیشہ " ائیر کندیشنڈ " ہوتی ہے۔ جو لوگ تپتی دھوپ میں فرائض سر انجام دے رہے ہوتے ہیں وہ ہر وقت اسی فکر میں سرگرداں رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے وطن عزیز کی رونقیں بحال ہو سکیں۔ لیکن ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے نام نہاد تجزیہ کار نہ جانے کیوں یہ ثابت کرنے پہ تلے رہتے ہیں کہ پاکستان محفوظ ملک نہیں ہے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اس وقت مسائل سے دوچار ہے۔ لیکن ان مسائل سے کیسے نمٹا جائے گا؟ کون آئے گا ان مسائل سے نجات دلانے کے لئے؟ ہمیں خود ہی تو ہمت دکھانا ہو گی ۔ دشمن وار کرے تو ہمیں شیر کی طرح غرانا ہو گا۔ اور جھپٹنا ہو گا۔ تا کہ دشمن اس قوم کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے۔ میں حیران ہوں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے حوصلے پر جنہوں نے اپنی حکومت کی مخالفت کے باوجود پاکستان آنے کی حامی بھرلی ۔ اور اپنے نقصان کی ذمہ داری بھی اٹھائی۔ ایک ٹی وی چینل پر تبصرہ جاری تھا کہ زمبابوے کو پیسے کی چمک دکھائی گئی۔ یہ گمراہ کن رویہ افسوسناک ہے۔
پاکستانی قوم کے لئے اس وقت اصل ہیرو وہ نہیں ہیں جو نہایت " تجربہ کاری " کے ساتھ میڈیا پر آ کر زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کے دورے کو اپنے پاؤں پہ کلہاڑی مارنے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ بلکہ پاکستانی قوم کے ہیرو زمبابوے کے وہ کھلاڑی ہیں جو اپنی حکومت، FICA(کھلاڑیوں کی عالمی تنظیم) کی شدید ترین مخالفت کے باوجود بھی پاکستان پہنچے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی قسم کی غلطی کی نہ تو گنجائش ہے نہ ہم افورڈ کر سکتے ہیں۔ کیوں کہ ایک چھوٹی سے غلطی بھی پاکستان میں کھیلوں کے میدان ہمیشہ کے لیے ویران کر نے کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن ساتھ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ زمبابوے کے دورہ کی کامیابی سے پاکستان بطور ملک یون پہچانا جائے گا جو سانحات سے نمٹنا جانتا ہے۔ وہ تمام جوان پاکستان قوم کے ہیرو ہیں جو دن رات ایک کرکے مہمانوں کی حفاظت یقینی بنانے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انشاء اللہ ان کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی ۔