ڈینش انتخابات میں تارکین وطن کی بحث
- اتوار 31 / مئ / 2015
- 4157
شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب ڈنمارک میں تارکین وطن کے حوالے سے ڈینش میڈیا میں سیاستدانوں کے نفرت انگیز و متعصبانہ بیانات سامنے نہ آتے ہوں ۔ طرح طرح کے مفروضوں اور نام نہاد ماہرین کی تحقیقات و اعداد و شمار کے حوالوں سے اس ملک میں آکر آباد ہونے والوں کو ڈنمارک کی اقتصادیات کے لئے بوجھ اور ڈینش جمہوری و سماجی اقدار و روایات کے خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہؤا ہے۔ اس طرح تارکین وطن کی تعداد محدود رکھنے اور اِن کے لئےملک کی سرحدیں بند کردینے کے مطالبات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ یہ باتیں سُن سُن کر اب ڈینش رائے دہندگان بھی بیزار ہو چکے ہیں اور اُن کا پیمانۂ صبر چھلک رہا ہے ۔
ڈنمارک میں 18 جون کو پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے امیدوار انتخابی بحث مباحثوں میں تارکین وطن و مہاجرین کو تختہء مشق بنائے ہوئے ہیں۔ جب کہ رائے دہندگان ان کے اِس رویے سے اب بیزار دکھائی دیتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاستدانوں کا رویہ سخت، لہجہ درشت اور سوچ غلط ہے ۔
ٹی وی ٹو کی رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رائے دہندگان کی ایک تہائی تعداد سیاستدانوں کے تارکین وطن کے متعلق بیانات سے بیزار ہے۔ یہ لوگ ان بیانات کو “ درشت ‘‘ سمجھتے ہیں۔ خاص کر دائیں بازو کی قومیت پرست ڈینش پیپلز پارٹی کے غیرملکیوں کے خلاف بیانات پر ردعمل شدید ہے۔ تاہم ڈینش پیپلز پارٹی کے ترجمان مارٹن ہنرکسن نے اس مؤقف کو مستر کرتے ہوئے اُلٹا الزام لگایا ہے کہ سوشل ڈیموکریٹ اور وینسٹرا دونوں پارٹیاں اپنی اپنی انتخابی مہم کے دوران رائے دہندگان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے ڈینش فولکے پارٹی سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ غیر ملکیوں اور تارکین وطن کے متعلق اُن کی اپنی پارٹی اسی روش پر قائم ہے جو پچھلے انتخابات کے دوران اس نے اپنا رکھی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم تو کل بھی یہی کہتے تھے کہ سرحدوں کو نئے آنے والوں کے لیے بند کیا جائے۔ مشرقی یورپ کے لوگوں کو جرم ثابت ہو جانے پر ملک بدر کیا جائے اور یہی بات ہم آج بھی اعلانیہ کہہ رہے ہیں ۔
اس سروے کے مطابق ہر تیسرے ڈینش کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں، تارکین وطن اور مسلمانوں کے متعلق بیان بازی میں سیاستدانوں کا لہجہ ’’سخت ترین ‘‘ ہے یا ’’ سخت ‘‘ ہے ۔ تاہم ہر چوتھے ڈینش کا کہنا ہے کہ لہجہ بہت نرم ہے۔ اس سروے میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ بائیں بازو کے سرخ بلاک سے تعلق رکھنے والے ہر دس میں سے چھ رائے دہندگان سمجھتے ہیں کہ تارکین وطن کے متعلق مباحثوں میں سیاستدانوں کی بیان بازی سخت ہے ۔
غیر ملکیوں ، تارکین وطن اور مسلمانوں مخالف ڈینش پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے تند و تیز بیانات بیانات کے بارے میں ہر دوسرے ڈینش کا کہنا ہے کہ ڈینش پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن کرسٹیئن تھولسن ڈاہل اور پارٹی کی سابق چیئرپرسن پیا کھیآسگورڈ کے بیانات انتہائی ترش و درشت ہوتے ہیں ۔ پارٹی کےغیر ملکیوں سے متعلقہ امور کے ترجمان مارٹن ہنرکسن نے دوٹول الفاظ میں کہا ہے کہ وہ غیر ملکیوں بارے اپنے اس لب و لہجے میں نرمی لانے یا کسی بھی طرح اسے بدلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ۔
اسی سروے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈینش پیپلز پارٹی کے چار فیصد رائے دہندگان بھی یہ سمجھتے ہیں کہ تارکین وطن کے متعلق ان کے رہنماؤں کے بیانات واقعی ’’ بہت سخت ‘‘ ہوتے ہیں ۔ اور صرف پر چوتھا ووٹر یہ خیال کرتا ہے کہ یہ بیانات ’’ بہت نرم ‘‘ ہیں ۔
ڈینش پیپلز پارٹی کے مارٹن ہنرکسن نے کہا ہے کہ ہم نے انتخابی تحریک میں غیر ملکیوں اور امیگریشن کے لیے جو پارٹی پالیسی اور پروگرام پیش کیا ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت تو دکھائی دیتا ہے لیکن یہ ایک منصفانہ پروگرام ہے ۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ اِس پر بحث ہونی چاہیئے تاکہ تارکین وطن کی تعداد کو محدود رکھا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈینش پیپلز پارٹی کے متعلق اعتراض کرنے والوں کو کنزرویٹو پارٹی کی اُس تحریک کو بھی سامنے رکھنا چاہیئے جس میں کنزرویٹو پارٹی ’’ سٹاپ نازی اسلام ‘‘ کا نعرہ لگارہی ہے۔ اس کے علاوہ وینسٹرا پارٹی کئی لحاظ سے ہم سے بھی زیادہ سخت لہجے میں تارکین وطن کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے ۔
انہوں نے کہا مسئلہ یہ نہیں کہ تارکین وطن کے متعلق بحث مباحثوں میں درشت لہجہ اپنایا جا تا ہے۔ بلکہ معاملہ موجودہ نرم امیگریشن پالیسیوں کے مضمرات سے تعلق رکھتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو کھل کر ان کے بارے میں بتایا جائے۔ اور ان کی حمایت حاصل کی جائے۔ ڈینش پیپلز پارٹی کے رہنما نے سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کی رہنما ہیلے تھورنگ شمتھ اور وینسٹرا پارٹی کے چیئرپرسن لارس لکے راسموسن پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں امیگریشن پالیسیوں میں سختیوں کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل پیش کرنے کی بجائے دوسروں کے لب و لہجے پر تنقید کرتے ہیں اور یہی ایک مسئلہ ہے ۔
دائیں بازو کی بھی کئی پارٹیوں کے رائے ووٹر اور حمایتیوں میں بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ڈینش پیپلز پارٹی تارکین وطن کے متعلق تنکتہ چینی کرتے ہوئے بہت آگے نکل چکی ہے ۔ وینسٹرا پارٹی کے ہر تیسرے رائے دہندہ کا کہنا ہے کہ ڈینش پیپلز پارٹی تارکین وطن اور بالخصوص مسلمانوں کے بارے درشت لہجہ اپنائے ہوئے ہے ۔ پارٹی کے 29 سال سے کم عمر والے تین میں سے دو کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکیوں بارے ڈینش پیپلز پارٹی کے سنگین لہجے کو پسند نہیں کرتے ۔
مجموعی طور پر تارکین وطن کے حوالے سے نسلوں کے درمیان رائے میں بڑا فرق پایا جاتا ہے ۔ 29 سال سے کم عمر والے رائے ووٹروں کے نزدیک تارکین وطن کے متعلق مباحث میں لہجہ ’’ بڑا سخت ‘‘ یا ’’ بہت ہی زیادہ سخت ‘‘ اپنایا جاتا ہے ۔ 40 سال سے 49 سال عمر والے ہر 30 فیصد ووٹروںکا کہنا ہے کہ یہ درشت لہجہ لوگوں کو اکساتا اور غیر ملکیوں کے خلاف بھڑکاتا ہے ۔
ابلاغیات کے ماہرین اور محققین کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے متعلق نسلوں میں رائے کے فرق کی وجہ یہی ہے کہ ڈینش نوجوان، سکولوں اور کالجوں میں تارکین وطن نوجوانوں کے ساتھ پڑھتے رہے ہیں اور انہیں اچھی طرح سے جانتے ہیں اور بیشتر ڈینش اور تارکین وطن نوجوان آپس میں سماجی تعلقات و دوستی رکھتے ہیں۔ لیکن اُن کے مقابلے میں بڑی عمر کے ڈینش 1980اور 1990 کی دہائیوں کے منفی خیالات کا شکار ہیں۔ ان باتوں کو اس وقت سیاستدانوں نے ہوا دینا شروع کیا تھا۔
ماہرین و محققین کا کہنا ہے کہ ڈینش نوجوان دوسری اور تیسری نسل کے تارکین وطن نوجوانوں کو جانتے ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ یہ تارکین وطن پس منظر رکھنے والے نوجوان ڈینش زبان بولتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس لئے یہ ڈینش نوجوان سمجھتے ہیں کہ غیر ملکی پس منظر کے حامل نوجوانوں اور اُن جیسے دوسروں کے بارے میں منفی مباحث نہیں ہونے چاہئیں۔
( نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے urduhamasr.dk کے مدیر ہیں)