بی جے پی سے سب مایوس ہیں

  • سوموار 01 / جون / 2015
  • 4098

مئی 2014ء  ہندوستان میں پارلیمنٹری انتخابات عمل میں آئے تھے۔اس کے نتیجے میں دس سالہ برسر اقتدار کانگریس پارٹی نے اندرونی خامیوں اور احساس ذمہ داری سے فراموشی کے نتیجہ میں ناکامی کا سامنا کیاتھا۔ پارلیمنٹ میں بی جے پی کو بڑی اکثریت کے ساتھ سیٹیں حاصل ہوئیں تھیں۔ بے شمار وعدوں اور خوابوں کے ساتھ انہوں نے حکومت تشکیل دی گئی تھی۔

اِن وعدوں اور خوابوں میں خصوصیت کے ساتھ کالے دھن پر گرفت ، مہنگائی سے چھٹکارا، بھوک سے نجات اورغربت کا خاتمہ تھا۔غالباً یہی وہ بڑے وعدے اور خواب تھے جس کی بنا پر اُس وقت عوام نے اُنہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔ تاہم یہ بات بھی واضح ہونا ضروری ہے کہ اُس وقت بی جے پی کوصرف اکتیس فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے ۔اس کے باوجود یہ بی جے پی کی تاریخی کامیابی تھی جس کے لئے اُس نے تن من دھن سے سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا ۔اور اب ایک سال مکمل ہو گیا،کئے گئے وعدے اور خواب کسی صورت پورے ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔لہذا ایک جانب حزب اختلاف ہر ممکن چوٹ کرنے سے گریز نہیں کر رہی ہے تو اس کے ساتھ ہی عوام بھی موجودہ حکومت سے مایوس ہی نظر آرہے ہیں۔

ملک میں ایک طویل عرصہ سے غربت ،بے روزگاری اور بھوک ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ۔مسائل کے حل میں حکومت ہی نہیں سماج کی متعدد تنظیمیں بھی مصروف عمل ہیں۔اس کے باوجود حالیہ ایف اے او نے ایشیا بحرالکاہل غذائی تحفظ کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں ملک کی صورتحال کو تشویشناک بتایا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ہندوستان میں تیز رفتار معاشی ترقی اور سماجی مقاصد کے حصول میں کامیابی خطہ کی پالیسیاں ہیں مگر پھر بھی دنیا میں سب سے زیادہ بھوکے لوگ یہیں بستے ہیں۔ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کی کوششوں کے باوجود اب بھی 19؍کروڑ40؍لاکھ لوگوں کو پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا ہے۔نہ صرف یہ کہ انہیں کھانا نہیں ملتا بلکہ جو کھانا بھی ملتا ہے وہ غذائیت سے بھر پور نہیں ہوتا۔جس کی وجہ سے 5؍سال سے کم عمر کے بچوں کی نشوونما نہیں ہوپاتی۔اس کے علاوہ ہر عمر کے لوگوں میں غذائی اجزا کی کمی کی بنا پر متعدد بیماریاں پائی جاتی ہیں۔

ملک کی یہ صورتحال ایک جانب تشویشناک تو دوسری جانب افسوس ناک بھی ہے۔ موجودہ حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر ' وال اسٹریٹ جرنل ' میں ایک مضمون شائع ہوا ۔جس میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی میک ان انڈیا مہم اب تک سرخیوں میں ہی رہی ہے اور بڑی توقعات کے درمیان روز گار میں اضافہ کی رفتار سست ہے۔مینو فیکچرنگ کے میدان میں اس مہم کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا ہے۔برآمدات جیسے اقتصادی معیار بتاتے ہیں کہ معیشت اب بھی لڑکھڑا رہی ہے۔گزشتہ سال کے مقابلے سرمایہ کاری کے لیے افراط زر 2004ء کے بعد سب سے نچلے سطح پر آگئی ہے اور برآمدات اپریل میں مسلسل پانچویں مہینے گری ہے۔

کمپنیوں کی آمدنی معمولی رہی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مئی میں ابھی تک ہندوستانی اسٹاک اور بانڈ مارکیٹ سے تقریبا2؍ارب ڈالر نکال لیا ہے۔عوامی مسائل اور کئے گئے وعدوں کے علاوہ مودی حکومت پر اب اُنہیں کے افکار سے وابستہ دیگر تنظیمیں بھی معتدد معاملات میں حساب مانگتی نظر آرہی ہیں۔اس موقع پرآر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد نے بی جے پی کو اجودھیا میں رام مندر بنانے کی یاد دلائی ہے۔سنگھ پریوار کی دونوں اکائیوں نے بی جے پی کو اس سلسلے میں لوک سبھا انتخابات کے دوران کیا گیا وعدہ پورا کرنے کو کہا ہے۔آر ایس ایس کے کل ہند شریک رابطہ کے سربراہ ارون کمار نے ناگپور میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ بی جے پی حکومت کو اپنے وعدے پورا کرنے میں لوگوں کی امیدوں پر کھرا اترنا چاہیے۔خاص طور پر رام مندراورآئین کے آرٹیکل307؍کو ختم کرنے کے معاملے میں ، جس کے ذریعہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ ملا ہواہے۔

اس درمیان وشو ہندو پریشد(وی ایچ پی) نے بھی حکومت سے اجودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر میں رکاوٹوں کو دور کرنے کو کہا ہے۔ہریدوار میں وی ایچ پی کی مرکزی منڈل کی دو دنوں تک چلنے والی میٹنگ کے پہلے دن پاس کی گئی تجویز میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے کو حکومت کے سامنے اٹھانے کے لیے سنتوں کا ایک وفد بنایا جائے گا تاکہ رام مندر کی تعمیر سے وابستہ رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔وہیں اجلاس میں متھرا اور کاشی میں موجود ہندوؤں کے دو اور مذہبی مقامات پر دعویٰ کرکے ہندوتو کا ایجنڈا آگے بڑھانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔یہ اور اس طرح کے دیگر بے شمار مسائل ہیں جو موجودہ حکومت کے سامنے اٹھائے جا رہے ہیں۔اس کے باوجود حکومت یا تو یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ہم مسائل کے حل میں کوشاں ہیں یا پھر پارلیمنٹری نظام کے دوسرے ہاؤس یعنی راجیہ سبھا میں اقلیت میں ہونے کا رونا رو رہی ہے۔

مضمون کے آخر میں اگرہری کرشنا اکسپورٹ پرائیوٹ لمیٹیڈ جو ہیرے برآمد کرنے والی عالمی سطح کی مشہور و معروف کمپنی ہے ،کا تذکر ہ ضروری ہے۔ اس حوالے سے ممبئی کے ذیشان علی خاں کا ذکر نہ کیا جائے ،توملک کی برسر اقتدار سیاسی جماعت، اس کی فکر اوراس کی فکر میں رنگتے ہوئے دیگر افراد کے ذہن کو پڑھنا ذرا مشکل عمل ہوگا۔روزگار کی تلاش میں ایم بی اے سند یافتہ ذیشان علی خاں نے متذکرہ کمپنی میں درخواست داخل کی تھی۔جس کا آن لائن جواب نہ صرف چونکا دینے والا ہے بلکہ ایک سیکولر اور ترقی یافتہ ملک کے لیے نہایت شرمناک بھی ہے۔خبر کے مطابق ذیشان کو کمپنی کی جانب سے جو میل ملا،اس میں لکھا تھا: " ہم افسوس کے ساتھ آپ کو مطلع کرتے ہیں کہ ہم صرف غیر مسلموں کو روزگار دیتے ہیں" یعنی اس ملک میں مسلمانوں کے لیے ہمارے پاس روزگار نہیں ہے۔

اس کے باوجود قابل اطمینان بات یہ ہے ، جو شاید زیادہ عرصہ نہ رہےکہ ذیشان کے ساتھیوں نے جن کا متذکرہ کمپنی میں انتخاب ہو گیا تھا،ملازمت کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا کہ ہم پر زور انداز میں کمپنی کے اس عمل کی مذمت کرتے ہیں اور ذیشان کی حمایت کرتے ہوئے کام لینے سے انکار کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں اس وقت مسلمانوں کی حالت بہتر بنانے کے لئے اقدامات کرنے کے ساتھ اعتماد کی بحالی اور غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے عملی کام کرنے کی ضرورت بھی ہے۔