مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت

  • بدھ 03 / جون / 2015
  • 4286

“ ڈینش سیاستدان  مذہب سے خوفزدہ  ہیں ۔  یہی خوف انہیں ہر قسم کی مذہبی اقدار و روایات اور رسومات سے دور  رکھتا ہے۔ وہ دینی و شرعی طریقوں سے جانوروں کو ذبح کرنے، لڑکوں کے ختنے  کرانے، بڑی مساجد کی تعمی اور عورتوں کے حجاب یا برقعہ اُوڑھنے کے حق میں بات نہیں کرتے “۔

ڈنمارک میں 18 جون کو ہونے والے انتخابات سے قبل یہ باتیں ایک کتاب میں کہی گئی ہیں جس کے مصنف ایک یہودی رابی ہیں۔  اِس کتاب کا نام ’’ یہ تمھاری زندگی ہے‘‘ Det gælder dit liv ہے اور اس کے مصنف
 یہودیوں کے ’’ الحاخام الأاکبر‘‘ یعنی رابئ اعظم بینٹ لیکسنر ہیں ۔ اِس کتاب میں دوسری باتوں کے علاوہ  کوپن ہیگن میں امسال فروری کے مہینے میں  کنیسہ یعنی یہودیوں کے معبد پر کئے گئے حملے کے بعد، یہودیوں کی صورت حال اور اُن کی روزمرہ کی زندگی پر گہری نگاہ ڈالی گئی ہے۔  اس حملے میں کنیسہ کا یہودی چوکیدار  ڈان اُوزان مارا گیا تھا ۔

بینٹ لکسنر نے اپنی کتاب میں ڈان اُزان کے مارے جانے سے پہلے اور بعد کی صورت حال  کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  اِس قتل سے پہلے  ہم یہودی سمجھتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ ڈنمارک میں ایسا  کبھی نہیں ہو سکتا۔ لیکن اب ہم یہ جان گئے ہیں کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔ بینٹ لیکسنر یہ تو جاننے کا دعویٰ تو نہیں کرتے کہ یہودی چوکیدار کو قتل کرنے والا نوجوان مسلمان عمر حسین ’’ بنیاد پرست ‘‘ کیسے بنا ۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈینش سیاست دان جلد ہی سمجھ جائیں گے کہ اِس قسم کی اسلامی بنیاد پرستی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ  مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ جو ان کے دین و سماج ، اقدار و رسومات سے تعلق رکھتا ہے، ڈینش لوگ اُس کا تمسخر اُڑانے اور  مسلمانوں کو کمتر جاننے کے لیے مادر پدر آزاد ہیں۔ اس لئے وہ جو چاہتے ہیں کہتے رہتے ہیں ۔ اس رویہ سے بنیاد پرستی کو ہوا ملتی ہے۔

سابق رابئ اعظم نے یہودیوں اور مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے  متعصبانہ روّیے کی متعدد مثالیں پیش کرتے ہوئے  اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جن مذہبی و معاشرتی اقدار و رسومات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بُرا بھلا کہا جاتا ہے وہ  یہودی و مسلمان  دونوں برادریوں میں مشترکہ پائی جاتی ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کو کچھ زیادہ ہی تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اُن کے جذبات کو بھڑکایا جاتا ہے۔  مثلاً پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت اور اُن کی تشہیر یا پھر پچھلے سال شرعی طریقے سے جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی کا لگایا جانا اور پھر بیشتر سیاسی حلقوں کی جانب سے لڑکوں کے ختنے کرائے جانے پر پابندی لگانے کی کوششیں ۔۔۔ اِن سب  باتوں سے یہودی و مسلمان دونوں دینی برادریوں  پر زد پڑتی ہے ۔

مسلمان ہی موردِ الزام ہیں!
ملک میں 18 جون کو کرائے جانے والے پارلیمانی انتخابات کے لئے سیاست دانوں کی انتخابی مہم کے دوران مسلمان مخالف جو بیان بازی کی جا رہی  ہے، اُس کی بدترین مثال وینسٹرا پارٹی کے پارلیمانی امیدوار ایڈوکیٹ کورے ٹرابرگ سمتھ   کی جاری کردہ ایک ’’ ویڈیو ‘‘ ہے جس میں ایک چھوٹے لڑکے کا ختنہ کرنے کا منظر دکھایا گیا ہے۔ اس فعل کوایک متششدانہ فعل قرار دیا گیا ہے۔ مذکورہ پارلیمانی امیدوار کے مطابق ایک گھنٹے کے دوران اس ’’ ویڈیو ‘‘ کودس ہزار مرتبہ دیکھا گیا ہے ۔ یہی نہیں ایک دوسری سیاسی پارٹی لیبرل الائنس کے رہنما اُولے برک اولسن لڑکوں کے ختنوں پر مکمل پابندی چاہتے ہیں اور یہی صورت حال کم و بیش سبھی سیاسی پارٹیوں کی ہے ۔لیکن اِن میں سے بعض اس کا کھل کر اظہار نہیں کرتیں ۔

سابق رابئ اعظم بینٹ لیکسنر کے بقول ’’ یہ باتیں اور مطالبے‘‘  بظاہر یہودیوں کے خلاف  نہیں ہیں کیونکہ انہیں صرف مسلمانوں کے ساتھ نتھی کردیا جاتا ہے ۔ حالانکہ یہودی و مسلمان ، دونوں ان کی زد میں آتے ہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہودی یہاں ڈنمارک میں چار سو سال سے رہ رہے ہیں اور اِس سے پہلے ہمارے تحفظ وسلامتی کے لئے کبھی کسی نے اتنی دلچسپی نہیں  لی تھی جو اب دکھائی دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا  کہ اس دلچسپی کا خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے اور سارا نزلہ اُن پر گرایا جا رہا ہے ۔  لیکن اس کی بلاواسطہ قیمت یہودیوں کو بھی ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔

سابق رابئ اعظم بینٹ لیکسنر نے انکشاف کیا ہے کہ ’’ ڈینش اب پہلی بار یہ کھوج لگا رہے ہیں کہ کتنے لوگ اپنے دین کو سنجیدگی سے لیتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں یہاں برقعے کو پسند نہیں کرتا اور نہ ہی عورتوں کا خود کو ایک مخصوص انداز میں  لپیٹ کر رکھنا مجھے پسند ہے ۔ میں بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کے خلاف ہوں۔  لیکن جو لوگ اس روایت پر عمل کرنا  چاہتے ہیں انہیں اس کی اجازت ہونی چاہیئے “۔ 

بینٹ لیکسنر نے کہا ہے کہ کچھ لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاست اور گرجا گھروں کو الگ الگ رکھا جائے۔ در اصل یہ  بات اس عوامی مباحث کا حصہ ہے کہ ڈینش سماج میں دین و مذہب کی مقصدیت و اہمیت کی کوئی حیثیت ہونی چاہیئے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ  وہ اس بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں رکھتے کہ ڈینش سیاستدان دین کو وسیع النظری سے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ دین کے لئے اُن کے ہاں عزت کی کمی ہے ۔ مثلاً جانوروں کی بہبود کے نام پر  ’’ شرعی رسم ذبح ‘‘ پر پابندی مسلمانوں کے ’’دین پر زد ‘‘ لگانے اور یہودیوں کو بھی ہدف بنانےکے مترادف ہے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ پابندی صرف ڈنمارک میں ہے، جس پر انہیں افسوس ہے ۔ ہم  پہلے صرف یہودیوں کے خلاف نفرت دیکھتے تھے، اب ہم مسلمانوں کے خلاف بھی ویسی ہی نفرت محسوس کرتے ہیں ۔ صرف جامع مسجد کی تعمیر کے معاملے کو لے لیں تو آپ کو ڈینش حلقوں میں پوشیدہ اور ظاہری نفرت کا اندازہ ہو جائے گا ۔

بینٹ لیکسنر کے مطابق  یہودیوں کو دوہزار سال سے کسی اجنبی معاشرے میں ’’ انٹگریٹ ‘‘ ہونے کا تجربہ ہے۔ جب یہودی ڈنمارک میں آئے تو وہ ’’ انٹگریٹ ‘‘ ہونا جانتے تھے اور وہ ڈینش سماج میں انٹگریٹ بھی ہو گئے۔ لیکن اب جو یہاں ’’ نئے ڈینش ‘‘ (انیس سو ساٹھ کی دہائی اور اس کے بعد سے اب تک، یہاں آنے والے تارکین وطن و مہاجرین وغیرہ، ان میں وہ لوگ  بی شامل ہیں جو اب ڈینش شہریت اختیار کر چکے ہیں) انٹگریٹ ہونے کا کوئی  تجربہ نہیں رکھتے ۔ ان میں بیشتر مہاجر ہیں جو دوسروں کی نسبت اپنے اپنے ملک کو واپس جانے کی کہیں زیادہ خواہش رکھتے ہیں ۔

سابق رابئ اعظم بینٹ لیکسنر نے اس موقع پر ڈینش شاہی گھرانے کے روّیے پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے سوال اُٹھایا کہ  ملکہ مارگریٹھے الثانی نے ابھی تک کنیسہ پر حملے کے دوران مرنے والے چوکیدار ڈان اُزان کے لواحقین کو  ’’ تعزیتی خط ‘‘ تک نہیں لکھا اور نہ ہی یہودی برادری کو کوئی ایسا مکتوب ارسال کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملکہ کو چاہیئے تھا کہ وہ ایسا خط لکھتیں اور تعزیت کا اظہار کرتیں ۔ بینٹ لیکسنر نے تسلیم کیا کہ کنیسہ پر حملے کے بعد شاہی محل سے ایک پریس رہلیز جاری ہؤا تھا ۔ اور ولیعہد فریڈرک اوسٹربرو میں ہونے والی ایک تعزیتی تقریب میں شامل تھے۔ لیکن  ولیعہد کریسٹال گید میں کنیسہ میں ہونے والے تعزیتی اجتماع میں شامل  نہیں ہوئے تھے ۔ حالانکہ اس اجتماع میں وزیر اعظم ہیلے تھورنگ سمتھ سمیت کئی اہم شخصیات شامل تھیں ۔

بینٹ لیکسنر نے اِس پر بھی تعجب و دکھ کا اظہار کیا کہ پچھلے سال یہودیوں نے  سنہ 1814ء میں جاری کئے گئے ’’  ڈنمارک میں یہودیوں کی آزادی کے چارٹر ‘‘ کی دو سو سالہ تقریبات منائیں تو اُن تقریبات میں بھی شاہی گھرانے نے شمولیت نہیں کی تھی ۔ یہودیوں کے مذہبی رہنما نے لکھا ہے  کہ اگر وہ اس موجودہ صورت حال پر اپنے تاثرات کا بڑے اختصار سے اظہار کریں تو وہ کسی شک و شبہ کے بغیر یہی کہیں گے کہ ڈینش سیاست دان اور شاہی گھرانہ ، دونوں اس بات سے خائف ہیں کہ اُن کے بارے میں کیا کہا جائے گا ۔ مثلاً کسی جامع مسجد کی افتتاحی تقریب ہی کو لے لیں، کیا ان میں سے کوئی اس کا افتتاح کرے گا؟

انہوں نے کہا کہ لوگ یہودی برادری کے ساتھ ہمدردی کا اظہار اس لئے کرنے لگے ہیں  کیونکہ اس طرح یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہودیوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے والے مسلمانوں کے خلاف ہیں ۔ حالانکہ نفرت کا یہ چلن دونوں مذاہب ہر عمل پیرا لوگوں کے لئے خطرناک اور مہلک ہے۔

(نصر ملک www.urduhamasr.dk  کے ایڈیٹر ہیں ۔ یہ انٹر نیٹ اخبار کوپن ہیگن سے شائع ہوتا ہے)