صحافت کو لاحق خطرات

  • منگل 09 / جون / 2015
  • 4215

دنیا میں کوئی بھی خطہ صحافت سے وابستہ لوگوں کے لئے جنت کا خطہ نہیں ہے مگر صحافت سے وابستہ لوگوں نے جہنم میں رہ کر دنیا کے بہت سے خطوں کو جنت نظیر بنا دیا ہے۔ خبر  حاصل کرنے اور اس خبر کو لوگوں تک پہنچانے میں بہت سے صحافیوں کے ہاتھ قلم ہوئے، مگر قلم کا سفر جاری رہا ۔

آج انسانوں نے اپنے بہت سے بنیادی حقوق حاصل کئے ہیں تاہم اس میں ان صحافیوں کی جد وجہد کا بھی بڑا ہاتھ ہے جو خبروں کی بے لاگ ترسیل کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔  اسی جد و جہد کی بدولت دنیا کے بہت سے خطوں میں آج صحافی بہت بڑے مقام پر کھڑا ہے۔ لوگ اس کی اور اس کے قلم کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

پاکستان میں صحافت سے وابستہ لوگوں کی اپنے قلم کی حرمت کے لئے کی گئی جدوجہد کسی بھی خطہ میں کی گئی جدوجہد سے کم نہیں ہے ۔ پاکستان کے نامور صحافی احفاط الر حمن کی کتاب “ سب سے بڑی جنگ “ ابھی پچھلے ہفتحے ہی چھپ کر بازار میں آئی ہے۔ اس کتاب  میں انہوں نے صحافیوں کی ساری جد و جہد کو قلم بند کیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے صحافیوں نے اپنے شعبہ کی آبرو کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے کیسی کیسی صعوبتیں برداشت کی تھیں۔  سر عام کوڑے کھائے، بھوک ہڑتالیں کیں ، جلوسوں میں پولیس کے ہاتھوں سر عام سروں پر لاٹھیاں کھائیں مگر اپنے قلم اور اتحاد کو بر قرار رکھا۔

پاکستان کے صحافیوں کو قتل کیا گیا۔ سزائیں دی گئیں۔ کوڑے مارے گئے۔ مگر آج تک کسی وزیر یا کسی بھی حکومتی نمائندہ کو اتمی جرات نہیں ہوئی کہ کسی اجلاس میں یا کسی پریس کانفرنس میں کسی صحافی کی بے عزتی کرنا تو ایک طرف صحافی سے تلخ لیجے میں بات بھی کر سکے۔  یہ الگ بات ہے کہ پریس کانفرنس ختم ہونے پر کبھی سادہ لباس میں یا کبھی وردی پہن کر حکومتی کارندے صحافی کو گھروں سے اُٹھاتے اور انہیں خفیہ ٹھکانوں میں لے جا کر تشدد کا نشانہ بناتے۔  مگر سرعام کسی صحا فی کو بے عزت نہیں کیا جا تا تھا چاہے کو ئی صحافی کتنی بھی تلخ بات کر دیتا۔

مجھے یاد ہے ایک دفعہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین آمر ضیا الحق لاہور آیا تھا اور ایک پریس کانفرنس کر رہا تھا۔ اس نے نثار عثمانی کی طرف اشارہ کرتے ہویئے کہا: “ مجھے پتہ ہے ایسے لوگ ہمارے کسی کام کی تعریف نہیں کریں گے۔ چاہے ہم جتنا بھی اچھا کام کرلیں “۔ نثار عثمانی اس پر  فوری اُٹھ کھڑے ہوئے اور کہا: “ مسٹر جنرل چوکوں پر لگی ٹکٹکیوں پر لوگوں کی پشت پر جو اچھائیاں لکھی ہیں، اگر آپ اجازت دیں تو ہم ان کے بارے میں لکھ دیتے ہیں؟ “ 

پورے ہال میں دو تیں منٹ کے لئیے سناٹا چھا گیا تھا۔ اسے گورنر جیلانی نے سگریٹ کے دھوئیں سے توڑا ۔۔ لیکن کسی کو نثار عثمانی کی طرف آنکھ اُٹھانے کی جرات نہیں ہوئی۔
یہ سب اس لئے ممکن ہو سکا تھا کہ صحافیوں میں اتحاد تھا اور یہ سب اپنے پیشے سے ایمان دار تھے۔

ضیا الحق نے صحافیوں کی تنظیم کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔ آج وہ چار پانچ حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ آج کوئی منہاج برنا نہیں۔ آج کوئی نثار عثمانی نہیں ۔ پہلے اگر کسی اخبار یا صحا فی پر کوئی پابندی لگتی تو تمام صحافی اس پابندی کے خلاف بغیر کسی نظریاتی گروپ بندی کے متحد ہو جاتے تھے۔ آج یہ صورت حال ہے کہ جب جیو کے خلاف فوج نے مہم جوئی کی تو دوسرے چینل فوج کے ساتھ  مل گئے تھے۔

پاکستان کے صحافی اپنے مالکان کے کہنے پر جیو اور جنگ اخبار کے خلاف عدالتوں میں جیو اور جنگ کو بند کرانے کے لئے درخواستیں داخل کرا رہے تھے۔ اب جب کہ حکومت  “ بول “ کو بند کروا  رہی ہے تو جنگ اور جیو حکومت کے اس اقدام کی سب سے زیادہ حمایت کر رہا ہے۔

ایسے میں اگر ایک بنک اکاونٹنٹ اور وزیر اعظم کا سمدھی وزیر خزانہ اپنی پریس کانفرنس میں کسی صحافی کو بے عزت کر کے چیختا ہؤا اپنے اہلکاروں کو حکم دیتا ہے کہ  اس صحافی کو باہر نکال دو۔ تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

ابھی بھی وقت ہے اگر صحافیوں نے آپس میں اتحاد نہ کیا اور تجارتی مفادات کے لئے  مخالفت چھوڑ کر آزادئ صحافت کے لئے کام نہ کیا تو کل کوئی وزیر تو کیا ان کے معمولی کارندے  بھی صرف پریس کانفرسوں سے ہی نہیں صحافیوں کو ان کے گھروں سے بھی نکال باہر پھینکیں گے۔