قرضوں نے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے!
- منگل 09 / جون / 2015
- 4274
امریکہ میں قرض لینے کی حد میں اضافے سے متعلق بل پر ڈیمو کریٹس اور ریپبلکن رہنما متفق ہو گئے ہیں اور قرض بڑھانے سے متعلق معاہدے کو ایوان نمائندگان میں منظور کر لیا گیا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے بتایا ہے کہ اس بل کے تحت اخراجات میں دس سال کے عرصے میں ایک ٹریلین ڈالر کی کمی کی جائے گی۔ قرض کی حد بڑھانے اور اخراجات میں 2.1 کھرب ڈالر تک اضافے سے متعلق بل منظور کر لیا گیا ہے۔ یہ بل 161 کے مقابلے میں 269 ووٹوں کی برتری سے منظور کیا گیا ہے۔
اس وقت امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی ، اقتصادی اور سیاسی پاور ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بن گیا ہے۔ امریکی قرضے 143 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں اور اگر اب بھی امریکی حکومت کی قرض لینے کی حد میں اضافے کی منظوری نہ دی جاتی تو امریکی وزارت خزانہ کے پاس ادائیگیوں کیلئے رقم تک نہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں بے مقصد لڑنے والے فوجیوں (امریکی) نے ایڈمرل مائیک مولن سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں اس ماہ کی تنخواہ ملے گی؟ اس پر افغانستان کے دورے پر گئے ہوئے امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا کہنا تھا کہ ” اگر امریکی حکومت نے قرض لینے کی حد نہ بڑھائی تو وہ نہیں جانتے کہ کیا ہو گا “۔
یہ سچ ہے کہ اگر قرض کی حد بڑھانے سے متعلق بل ایوان نمائندگان میں منظور نہ کیا جاتا تو پوری دنیا ایک بار پھر اقتصادی بحران کی زد میں آ سکتی تھی۔ امریکی اقتصادی بحران کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت مانے جانے والے امریکہ پر فی سیکنڈ 40 ہزار ڈالر کا قرض بڑھ رہا ہے۔ آپ کو بھی یاد ہو گا، مجھے تو اچھی طرح یاد ہے کہ اس سے قبل 2008میں مالی اور اقتصادی بحران کا آغاز امریکہ سے ہؤا تھا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ ایک کار خریدو تو ایک مفت ملتی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں لوگ اپنی کاریں ائر پورٹ پر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔
امریکی وزارت خزانہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی خزانے میں نقد رقم صرف 73 ارب 70 کروڑ ڈالر رہ گئی ہے اور اگر 2 اگست تک امریکی حکومت کی قرض لینے کی حد میں اضافہ کی منظور نہ دی گئی تو حکومت کو اپنے واجبات کی ادائیگی کے لئے رقم کی شدید کمی کا سامنا ہو گا۔ اور امریکی حکومت دیوالیہ قرار دے کر نادہندہ ہو سکتی ہے۔ یہاں ایک دلچسپ بات بتانا ضروری ہے کہ دنیا کے امیر ترین ملک امریکہ کے خزانے میں (اگر آپ اسے خزانہ کہہ سکتے ہیں تو) اتنے ڈالر بھی نہیں ہیں جتنے ایپل کمپنی کے پاس ہیں۔ امریکی ریزرو بینک میں 73.76 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جبکہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا نام ایپل کمپنی کی تجوری میں نقد رقم 75.87 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے۔
کچھ عرصہ قبل سوویت یونین کی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے ایک اہم معاشی تجزیہ نگار ڈیگور پنیارین نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بارے میں پیش گوئی کی تھی کہ 2015 سے 2025 تک امریکہ چھ خود مختار ریاستوں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ نیز روس اور چین دنیا کے نئے مگر اہم کھلاڑی ہونگے۔ ماسکو میں ڈپلومیٹ اکیڈمی میں مستقبل کے سفارت کاروں سے اپنے خطاب میں اس تجزیہ نگار نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر اوباما رواں سال میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کر سکتے ہیں اور آئندہ سال سوویت یونین کی طرح امریکہ کی بھی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جائے گی۔
امریکہ میں قرضوں کے بحران کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پہلی بار پیدا نہیں ہؤا۔ ایسا اس سے قبل 1790 ، پھر 1933 ، پھر ایک جزوی مالی بحران 1979 اور پھر سابق صدر جارج بش کے آخری دور 2008 میں اقتصادی بحران اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ اس بحران نے تو امریکی ٹیکس دہندگان کو گھروں سے بے گھر کر کے فٹ پاتھ پر لا بٹھایا تھا۔ لیکن جارج بش نے دنیا کو جنگوں کی آگ میں جھونکے رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج خود امریکی سیاستدان اپنے ملک کی ان جنگی پالیسیوں سے بیزاری کا کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں۔ امریکہ کے سابق انٹیلی جنس چیف ڈینس بلیٹر نے کہا تھا کہ محض 4 ہزار دہشت گردوں کی پکڑ دھکڑ کے لئے سالانہ 80 ارب ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9/11 کے واقعہ کے بعد امریکہ میں کل 17 شہری دہشت گردوں کا نشانہ بنے ہیں۔ جبکہ اسی عرصے میں ٹریفک کے حادثات اور دوسرے جرائم میں 15 لاکھ امریکی مارے جا چکے ہیں۔
علاوہ ازیں امریکی فوج کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان میں نقل و حمل کے لئے خرچ کئے جانے والے اربوں ڈالر بلا واسطہ طریقے سے طالبان کی جیبوں میں جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کو بحفاظت رسد پہنچانے کے لئے آٹھ کنٹریکٹ کمپنیوں میں سے کم از کم چار کمپنیوں کا کچھ حصہ طالبان اور قبائلی سرداروں کو دیا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے افغانستان کی معیشت کو فروغ دینے اور نقل و حمل کے لئے لگ بھگ تین ارب ڈالر کے معاہدے کئے گئے ہیں۔
گزشتہ ماہ شائع شدہ امریکی رپورٹ کے مطابق 3.7 ٹریلین ڈالر یعنی قرض کے ایک تہائی حصے کو اگر سابق امریکی جنگجو صدر جارج بش غور و فکر اور تدبر و فراست اور صحیح انتظامی حکمت عملی سے کام لیتے تو بچایا جا سکتا تھا۔ امریکہ کی عراق اور افغانستان میں ” جنگ بازی “ سے نہ صرف اس کی معیشت تیزی سے تباہی کی طرف گامزن رہی بلکہ اس کے اثرات (منفی) لگ بھگ پچاس امریکی ریاستوں پر بھی مرتب ہوئے اور اس کی بنیادی وجہ اس کا قرض ہے۔ اسی قرض کی وجہ سے بدانتظامی اور غلط طرز عمل کا اختیار کرنا اور فوجی کارروائیوں کو اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنا لینا ہے، جس نے اس کے سینکڑوں ٹریلین سرمایہ کو بغیر ڈکار کے ہضم کر لیا۔
میرے حساب سے اگر موجودہ حالات میں اس ناگفتہ بہ معیشت پر قابو نہیں کیا گیا تو اس آگ کی چنگاریاں دور دور تک پہنچیں گی اور اس کے اثرات پوری کائنات (جی ہاں پوری کائنات) کی اقتصادیات کو متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ اگر میں یہ دعویٰ کروں کہ چین بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا تو مبالغہ نہ ہو گا۔ کہ امریکہ کی اقتصادیات دنیا کے بہت سے ملکوں کے لئے شہ رگ ہے جس میں میرا پیارا و دلارا کشور حسین شاد باد بھی شامل ہے۔ جس کے کھانے پینے ، اوڑھنے بچھونے ، لڑنے بھڑنے حتیٰ کہ وجود کی بقا کا بھی امریکی امداد پر انحصار ہے۔ اسی لئے جاننے والے کہتے ہیں کہ پاکستان امریکہ اور آئی ایم ایف کی ایک قسط کی مار ہے۔
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ عقلمند وہ ہے کہ جب اس پر مصیبت نازل ہو تو وہ اول روز ہی وہی کرے جو وہ تیسرے روز کرے گا اور جغرافیہ سے تو بالکل نہیں ڈرنا چاہئے کہ گردش ایام کے ساتھ ملکوں کے جغرافیے بھی بدلتے رہتے ہیں۔
دل ٹوٹا تو آنگن آنگن دیواریں اٹھ سکتی ہیں
اس رخ سے بھی جان تمنا میں بھی سوچوں تو بھی سوچ