پاکستانی بچی کا عالمی ریکارڈ
- بدھ 10 / جون / 2015
- 5120
پچھلے سال کم عمر بچی ملالہ یوسف زئی کو امن کا عالمی نوبل انعام ملا تو اس سال ستارہ بروج اکبر نے تعلیمی میدان میں عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ان دونوں بچیوں میں کچھ باتیں قدر مشترک ہیں ۔ دونوں کم عمر ہیں اور دونوں نے تعلیم کے شعبے میں عالمی ریکارڈ بنائے ہیں ۔ ان دونوں بچیوں کا تعلق بھی چھوٹے شہر یا گاؤں سے ہے۔
ملالہ یوسف زئی سوات کے گاؤں میں پڑھی اور ستارہ بروج اکبر ربوہ چناب نگر ضلع چنیوٹ کے چھوٹے شہر سے تعلق رکھتی ہے جہاں کوئی بڑے تعلیمی ادارے اور سہولتیں میسر نہیں ہیں ۔ اس کے علاوہ ان دونوں بچیوں کو مذہبی منافرت اسلام کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والوں نے ٹارگٹ بنایا ہے ۔ ایک کو طالبان اور مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کی طرف سے قتل کی دھمکیاں ملیں اس کی وجہ سے ملک بدر ہونا پڑا ۔ دوسری بچی ستارہ بروج کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے ۔ اس کو بھی یہی مسئلہ درپیش ہے وہ بھی شاید اپنی تعلیم اپنے ملک میں مکمل نہ کر سکے گی ۔ مجبوراََ اس کو بیرون ملک جانا پڑے گا ۔ ویسے بھی اس کو برطانیہ سمیت کئی ممالک کی یونیورسٹیوں میں داخلہ دینے اور سکالرشپ دینے کی پیشکش ہو چکی ہے۔
عورت کسی بھی قوم کا معمار ہوتی ہے اسی لئے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ آئندہ نسلوں کی ٹھیک تربیت کر سکے ۔ عورت قوم کی ترقی و تنزل کا باعث ہے ۔عورت کی جہالت سے قوم کو ناقابل تلافی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کوئی ملک ، کوئی قوم، کوئی خاندان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کی عورتیں تعلیم یافتہ نہ ہوں۔ وہی ملک ترقی کرتے ہیں جو اس حوالے سے بھرپور کردار ادا کرتے ہیں۔ متعدد قرآنی آیات اور سنت رسول ؐکے احکامات اس بات کی طرف نشاندہی کرتے ہیں۔ سورۃ المائدہ آیت نمبر ۴۳ میں ہے ۔ترجمہ : اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کر ۔ یقیناََ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والو ں سے محبت کرتا ہے۔
دیگر آیات میں انسان کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کے حالات میں عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور کسی قسم کے اندرونی یا بیرونی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر ہمیشہ مضبوطی سے عدل پر قائم رہنا چاہئے ۔ اسلام میں مرد اور عورت دونوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’تم سے پہلے قومیں اس لئے تباہ ہو گئیں وہ مساوات سے کام نہیں لیتے تھے۔ مزید فرما یا: ’’ اے لوگو میں جو تمہارا خالق اور مالک ہوں میں تم میں سے کسی عمل کرنے کے عمل ضائع نہیں کرتا خواہ وہ مرد ہو یا عورت کیونکہ تم سب ایک ہی نسل کا حصہ ہو اور ایک ہی درخت کی شاخیں‘‘ علم کی روشنی پھیلانا، اسکو حاصل کرنا اور اس کے لئے جنگ کرنا ہمارے دین کا حصہ ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارا ملک ان اصولوں پر عمل پیرا نہیں ۔ اسی لئے دن بدن ہمارا تعلیمی معیار گرتا جارہا ہے۔
ہمارے ملک میں نقل کر کے پاس ہونے کا رجحان فروغ پا رہا ہے دوسرا جعلی ڈگری حاصل کر نے کی خبریں زور شور سے میڈیا پر آتی ہیں ۔ اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے لوگ طالب علموں کو نقل کروا رہے ہوتے ہیں ۔ اس پر والدین ، تعلیمی ادارے اورحکومت خاموش ہیں۔ حالیہ ایگزیکٹ AXACT کے ادارے میں FIA کی تحقیقات میں بھی انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ اس ادارہ نے ساری دنیا میں تعلیم کے میدان میں پاکستان کو بری طرح بدنام کر دیا ہے اور اس کے وقار کو مجروح کیاہے۔ BBCرپورٹ کے مطابق پاکستان تعلیمی جعلی ڈگریوں کے کاروبار میں نمبر 1ہے۔ اب ہر ملک میں ہماری اصل ڈگری کو بھی مشکوک نظر سے دیکھا جائے گا۔
ایک وقت تھا جب پاکستان عالمی ریکارڈ حاصل کرتا تھا ۔ کھیلوں کے میدان میں کئی عالمی کپ حاصل کئے اور ریکارڈ بنائے جس میں اسکواش، ہاکی اور کرکٹ شامل ہیں ۔ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے سائنسدان ڈاکٹر پروفیسر عبدالسلام کو 1979میں نوبل انعام ملا اور کئی ملکوں کی طرف سے ان کو اعلیٰ اعزازت سے نوازا گیا ۔ کئی ممالک نے توان کو اپنی شہریت دینے کی پیشکش بھی کی۔ مگر انہوں نے حب الوطنی کے جذبہ کے تحت پاکستانی شہریت برقرار رکھنے کو ترجیح دی۔
اب اس کم عمر بچی ستارہ بروج اکبر کی تعلیمی قابلیت کے بارے میں کچھ عرض کرتا ہوں۔ ربوہ چناب نگر ضلع چنیوٹ کی رہائشی 15سالہ اس کم عمر بچی نے انٹر نیشنل انگلش لینگویج ٹسٹ سسٹم (IELTS)کے نو میں سے نو بینڈ حاصل کر کے دنیا کی پہلی اور کم عمر طالبہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس نے امتحان دیا تو اس کے آٹھ بینڈ آئے تھے۔ جس پر یہ مطمئن نہیں ہوئی دوبارہ پیپر چیکنگ کے لئے برٹش کونسل سے رجوع کیا۔ اس مقصد کے لئے اس نے بارہ ہزار روپیہ فیس بھی جمع کروائی۔جب برطانیہ میں اس کے پیپر کی ری چیکنگ ہوئی تو اس کو 9 بینڈ مل گئے اور اس کی فیس بھی واپس کر دی گئی۔
ستارہ بروج نے اب تک جو پاکستانی اور عالمی ریکارڈ بنائے ہیں۔ یہ ہیں :۔ دس سال کی عمر میں بائیولوجی میں ’’او لیول‘‘ کر کے عالمی ریکارڈ بنایا۔ گیارہ سال کی عمر میں ’’ او لیول ‘‘ کا امتحان ریاضی، سائنس اور انگلش میں پاس کر کے دنیا کی کم عمربچی ہونے کا ورلڈ ریکارڈ بنایا۔راولپنڈی کے حارث عبداللہ نے 2014 میں 9سال کی عمر میں فزکس ، کیمسٹری اور بائیولوجی میں ’’ او لیول ‘‘ کر کے ستارہ بروج کا ریکارڈ توڑ دیا تھا لیکن 11 سال کی عمر میں ستارہ بروج نے تمام مضامین میں ’’ او لیول ‘ ‘ کر کے پھر ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا جو تا حال قائم ہے۔ اب 15کی عمر میں ستارہ بروج نے نہ صرف Aلیول مکمل کر لیا ہے ۔بلکہ IELTS کے 9بینڈز میں سے 9بینڈ حاصل کر کے دنیا کی کم عمر ترین اور واحد طالبہ ہونے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے ۔
ستارہ بروج کو برطانیہ کی تین یونیورسٹیوں سے داخلے جبکہ ایک یونیورسٹی سے سکالر شپ کی بھی آفر ہو چکی ہے۔ ستارہ بروج اکبر بیالوجی، کیمسٹری اور میڈیکل میں گریجویشن کرنا چاہتی ہے اور اگر16سال کی عمر میں وہ برطانیہ کے تعلیمی اداروں میں داخل ہو گی تو یہ بھی دنیا کی کم ترین طالبہ ہونیکا اعزاز حاصل کرے گی ۔ اس سے پہلے ڈاکٹر پروفیسر عبد السلام یہ ریکارڈ قائم کر چکے ہیں۔ اتنی اعلیٰ کارکردگی اور ذہین بچی کا کارنامہ پاکستان کے لئے بڑا اعزاز ہے ۔آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے لئے مزید ریکارڈ تو قائم کرے گی انشاء اللہ۔ اس ضمن میں متعصب ذہن رکھنے والے مذہبی اور سیاسی حکمرانوں کی طرح سوشل میڈیا نے بھی تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے اسکو وہ مقام اور نمایاں جگہ نہیں دی گئی جو اس کا حق تھا ۔ شاید ہم ان باتوں کے عادی نہیں رہے۔
عارفہ کریم ہو یا حارث سہیل ، ملالہ یوسف زئی یا ستارہ اکبر یہ سب ہمارے ملک کاعظیم سرمایہ ہیں ا ن کی قدر اورحوصلہ افزائی کرنا ہمارا اسلامی اور اخلاقی فرض ہے ۔ انتہا پسندی اور متعصبانہ رویوں کا ملک کی شہرت پر برا اثر پڑتا ہے۔ پاکستان کرکٹ، ہاکی اور اسکواش میں عالمی چیمپئین رہا ہے اور اب نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہی حال اب تعلیم کا ہو رہا ہے۔ شیخ سعدی کا قول ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے پتہ چلا کہ محل کے بستر اور خالی زمین پر سونے والوں کے خواب ایک جیسے اور قبر بھی ایک جیسی ہوتی ہے تو مجھے اللہ کے انصاف پر یقین آگیا۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کا مستقبل روشن کر دے۔ ہمارا وقار پھر بلند اور ملک خوشحال ہو۔