انعام واپس لینے کا اصول بھی ہونا چاہئیے
- جمعرات 11 / جون / 2015
- 4210
اس کو 91ء میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ شاید نوازا جانا ہی بہتر لفظ ہے کیوں کہ اب لگ رہا ہے کہ اس میں اتنی صلاحیت نہیں تھی جتنی بیان کردی گئی تھی۔ اس سے پہلے اسے 1990میں تھورولف رافٹوانعام سے بھی نوازا جا چکا تھا۔ یہ انعام ناروے کے ایک انسانی حقوق کے راہنما تھورولف رافٹو(Thorolf Rafto) کے نام سے منسوب ہے ۔ جو 1979ء میں پیراگوئے کے سفر میں تشدد کا شکار ہوئے اور86ء میں وفات پائی۔ مختصر تفصیل بیان کرنے کا مقصد قارئین کو اس انعام کی اہمیت بتانا ہے۔
90ء میں ہی اسے سخاروف ایوارڈ برائے آزادی اظہارِ رائے دیا گیا۔ یہ ایوارڈ سوویت سائنسدان، جو بعد میں انسانی حقوق کے حوالے سے پہچانے گئے ، (Andrei Sakharov) آندرے سخاروف کے نام سے منسوب ہے اور یورپی پارلیمنٹ1988 سے یہ انعام دے رہی ہے۔زیر بحث شخصیت کو 1992ء میں جواہر لال نہرو ایوارڈ برائے عالمی ہم آہنگی دیا گیا۔ 92ء میں ہی اسے سائمن بولیور عالمی انعام دیا تھا۔ سائمن بولیور(Sim243n Bol237var) موجودہ لاطینی امریکہ کی آزادی کا ہیرو شمار کیا جاتا ہے ۔ وینزویلا ، ایکواڈور ، پیرو، بولیویا اور کولمبیا آج آزاد ریاستیں ہیں تو اس میں سائمن بولیور کا بہت بڑا کردار ہے۔ اس شخصیت کے پاس کینیڈا کی اعزازی شہریت بھی ہے۔ 2014 ء میں دنیا کی طاقتور ترین خواتین میں اس کا نمبر 61 واں تھا۔ اس کے علاوہ اسے کانگریشنل میڈل، بھگوان مہاویر عالمی امن ایوارڈ، اولوف پامے ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔
رافٹو ایوارڈ کی انعامی رقم کم و بیش 20ہزار امریکی ڈالر بنتی ہے۔ نوبل انعام کی 2015 میں انعامی رقم کم و بیش ساڑھے نو لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ بھگوان مہاویر عالمی امن ایوارڈ کے ساتھ 2012میں کم و بیش 11لاکھ انڈین روپے۔ اوولف پالمے (Olof Palme) ایوارڈ کی انعامی رقم 75ہزار امریکی ڈالر ہے۔عالمی سائمن بولیور انعام کی انعامی رقم 25ہزار امریکی ڈالر ہے۔ سخاروف سے منسوب انعام کی انعامی رقم50ہزار یورو ہے۔ جواہر لال نہرو ایوارڈ کی انعامی رقم کم و بیش 40 ہزار امریکی ڈالر ہے۔ مذکورہ شخصیت کی صرف ان چند بڑے اعزازات کی انعامی رقم ہی شمار کی جائے تو یہ لاکھوں امریکی ڈالر بنتے ہیں۔
ایک ایسی شخصیت جس کو صرف انسانی حقوق کے حق میں آواز بلند کرنے کے لئے اتنے اعزازت سے نوازا گیا ہو اور اتنی بڑی انعامی رقم بھی ملی ہو تو آپ تصور کریں کہ اسی شخصیت کی اپنی رہائش کے ارد گرد لاشیں بکھری ہوں اور وہ ایک لفظ تک اس قتل عام پر نہ بولے تو کیا ان تمام عالمی تنظیموں کو جنہوں نے اس کو انعامات سے نوازا تھا ، اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے انسانی حقوق کے یہ اعزازت واپس نہیں لے لینے چاہیں۔
اتنی بڑی انعامی رقم اور اعزازت حاصل کرنے والی شخصیت آنگ سان سو چی (Aung San Suu Kyi) ہے ۔ لیکن حیران کن طور پر انسانی حقوق کی علمبردار یہ خاتون اپنے ہی ملک میں روہنگیا نسل کشی پر نہ صرف مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے بلکہ غیر معقول جواز بھی گھڑنے میں مصروف ہے۔ اور اس نسل کشی کو دو طرفہ معاملہ قرار دے چکی ہے۔ عقلِ انسانی حیران ہے کہ ایک ایسی راہنما جو اپنی پوری زندگی کو جہدو جہد سے تعبیر کرتی رہی ہے اس نسل کشی پر چپ سادھے ہوئے ہے۔ ایک برطانوی صحافی مہدی حسن نے اس خاتون راہنما کی خاموشی پر ایک آرٹیکل لکھا ہے جس کا عنوان ہی "آنگ سان سو کی کی ناقابل معافی خاموشی " رکھا گیا ہے۔
ناقدین آنگ سو چی اس خاموشی کو مجرمانہ خاموشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کی ان عالمی تنظیموں کی خاموشی پر بھی حیرت ہے جنہوں نے آنگ سو چی کو انعامات سے نوازا تھا۔ ناقد کہتے ہیں کہ آنگ سو چی 2015 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہی ہے لہذا وہ بدھوؤں کی مخالفت مول نہیں لے سکی۔ لیکن حیران کن طور پر وہ گوتم بدھ کی امن پر مبنی تعلیمات کے بجائے صرف بدھ بھکشو ؤں کی فکر میں ہے۔ تبت کے روحانی راہنما دلائی لامہ کے مطابق انہوں نے 2012 میں لند ن اور جمہوریہ چیک میں آنگ سو چی سے دو دفعہ ملاقات میں یہ قصہ چھیڑا لیکن کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔آنگ سو چی نے یہی جواب دیا کہ معاملات سادہ نہیں بلکہ پیچیدہ ہیں۔
اگر بدھ مت کے پیروکار اس قسم کے ظلم کا شکار ہو رہے ہوتے تو پھر انسانیت کا علم بلند کرنے میں کوئی پیچیدگی حائل نہ ہوتی ۔02جون کو جونا فشر کا ایک آرٹیکل BBCویب پر شائع ہواجسکا عنوان تھا " آنگ سو تم کہاں ہو؟" ۔شاید وہ بھی ہماری طرح انسانی حقوق کی عالمی چیمپئین کو ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔آنگ سو نے قید و بند کی صعوبتیں اپنے ملک میں ہی کاٹیں اور شاید سیاسی مفادات کے لیے کاٹیں اسی لئے اس کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی سے زیادہ اس کے لئے آنے والے انتخابات اہم ہیں۔ لہذا وہ کیسے اپنی محنت ضائع کر سکتی ہے جس اقتدار کے لیے اس نے اتنی جہدوجہد کی اس کو صرف روہنگیا مسلمانوں کے حق میں بول کر کیسے ضائع کیا جا سکتا ہے۔ میانمار کے لیے اقوام متحدہ کی خصوص رپورٹر یانگی لی نے جب ہمدردی کے کچھ لفظ بولے تو نسل کشی کے ذمہ دار بدھ راہنما آشن ویراتھو(Ashin Wirathu) نے یانگی لی کے لیے انتہائی گندی زبان استعمال کی ۔ اس پر بھی عالمی برادری نے خاموشی اختیار کی۔
دنیا میں جس طرح اعزازت تقسیم کرنے کے لئے قواعد و ضوابط بنائے جاتے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اعزازت کی واپسی کے لئے بھی مستقبل میں کوئی لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔ اگر کسی کو انعام خاص جہدوجہد پر دیا جائے تو اس سے جہدوجہد مخالف کام کرنے پر یہ انعام واپس بھی لیا جا سکے۔ اگر انعام انسانی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے پر دیا جائے تو پھر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر وہی انعام واپس بھی لیا جا سکے۔ کاش ایسا ہو جائے۔ اور ایک اصول وضع کر لیا جائے کہ چاہے مسلمان ہو ، عیسائی ہو، یہودی ہو، پارسی ہو، بدھ کا پیروکار ہو یا ہندو ہو ، اسے انسان ہی شمار کیا جائے۔
روہنگیا مسلمانوں کے آباء و اجداد ایک اندازے کے مطابق سولہویں صدی میں اس خطے میں تجارت کے لئے آئے تھے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ پوری دنیا میں کم و بیش20لاکھ روہنگیا النسل مسلمان ہیں۔ جن میں سے کم و بیش تیرہ لاکھ میانمار(برما) میں ہیں۔ اب میانمار میں انہیں بنیادی انسانی حقوق سے بی محروم کرکے ان کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ اس ظلم پر السمہ ملکوں کے علاوہ عالمی برادری کی بے عملی افسوسناک ہے۔ وگرنہ آج برما میں جو سلوک روہنگیا کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے ، کل کوئی دوسرا ملک اپنی کسی اقلیت کو اسی قسم کے جابرانی طرز عمل کا نشانہ بنا سکتا ہے۔