جنگ و جدل نہیں فلاحی منصوبے

  • جمعرات 11 / جون / 2015
  • 4149

ایک بڑے ملک کے سربراہ کے لئے بڑا انسان ہونا لازم نہیں اور اس کی سب سے عمدہ مثال جنگ پسند نریندر مودی ہیں۔ انسان کو بولنے سے قبل سوچنا چاہئے جبکہ مودی بولنے کے بعد بھی شاید سوچنے کی زحمت نہیں کرتے۔ بنگلہ دیش میں دئیے گئے اشتعال انگیز بیانات مودی جی کے دماغی خلل کی واضح عکاسی کرتے ہیں اور اپنے ملک کے سربراہ کے بیانات کو دیکھتے ہوئے چھوٹے عہدیدار بھی جوش خطابت میں آئے روز نت نئے بے سروپا بیانات جاری کر کے پاکستان کو دباﺅ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

بھارت کی جانب سے ان بے محل و بے تکے بیانات کا سلسلہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے اعلان کے بعد مزید جارحانہ ہو گیا ہے اور اس میں ایک تسلسل نظر آ رہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھی دھواں دار جوابی بیانات داغے جا رہے ہیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بات کی جا رہی ہے۔ ان بیانات میں سیاستدانوں اور فوجیوں کی تفریق نہیں ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت بھارت کو جوابی بیانات سے یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ بھارت کی اعلیٰ اور نچلی قیادت کی جانب سے دئیے گئے بیہودہ بیانات پاکستان کو دباﺅ میں لانے کی بھونڈی کوشش ہے۔ 
 
مبصرین کی رائے میں جارحیت سے لبریز ان بیانات کے ڈانڈے پاک چین اقتصادی راہداری سے ملتے ہیں۔ بعض شدت پسندوں حلقوں کی جانب سے ان بیانات کو امریکی شہ کا شاخسانہ بھی قرار دیا جا رہا ہے تاہم اس تمام تر قضیے میں امریکہ کو گھسیٹنا قبل از وقت ہو گا۔ خطے کے موجودہ حالات کسی بھی طرح ایک نئی جنگ کے متحمل نہیں اور نہ ہی دنیا کی سپر پاور سمیت دیگر طاقتور ممالک پاک بھارت جنگ کی نوبت آنے دینگے۔ میرے خیال میں ان بیانات کو اقتصادی راہداری منصوبے کے تناظر میں دیکھنے سے منظر نامہ واضح ہو سکے گا۔ بھارت کی جانب سے سخت بیانات کے بعد پاکستان نے ایک مرتبہ پھر چین کو یقین دلایا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔ اس منصوبے اور اس پر کام کرنے والے افراد کی سکیورٹی کے لئے خاطر خواہ انتظامات کئے جائیں گے۔ 
 
اسی عظیم الشان منصوبے کے تناظر میں چین کے اہم نائب وزیر ڈانگ ہائی ژوہو نے گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ملاقات بھی کی۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی و فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ پاک چین اقتصادی راہداری پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بتایا کہ اس اہم منصوبے کی سکیورٹی کے لئے فول پروف انتظامات کئے جائیں گے۔ فوج کا ایک خصوصی ڈویژن بنایا گیا ہے جو ایک میجر جنرل کی کمانڈ میں ہو گا جس میں تیرہ ہزار سکیورٹی اہلکار ہوں گے جو اس منصوبے کو مکمل تحفظ فراہم کرینگے۔ آرمی چیف کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ چینی نائب وزیر نے آرمی چیف کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
 
اقتصادی راہداری منصوبے کا اعلان ہوتے ہی بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بعض مخصوص مفادات کے حامل گروہ بھی اس گیم چینجر منصوبے کو سبوتاژ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس حوالے سے بھارت یہ اعتراف کر چکا ہے کہ وہ اس منصوبے کو روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ بھارت نے چین پر اس منصوبے پر عملدرآمد نہ کرنے کے لئے زور دیا ہے جس کو چین نے مسترد کر دیا ہے۔ بھارت دیگر ہتھکنڈے بھی استعمال کر رہا ہے۔ اس ضمن میں طالبان اور بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں بعض گروپوں کی کارروائیوں کے حوالے سے پاکستان معاملات سامنے لا چکا ہے۔ بھارت یقیناً اس منصوبے کی ناکامی کے لئے افغان سرزمین کو بھی استعمال کرے گا کیونکہ وہ افغانستان میں اب تک کثیر سرمایہ کاری کر چکا ہے اور بھارتیوں کے خیال میں اس سرمایہ کاری کے ثمرات حاصل کرنے کا یہ بہترین موقع ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ناکام بنانے کے لئے ایسے تمام عناصر کو استعمال کیا جائے جو پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی کاوشوں سے امریکہ اور افغان طالبان کے مذاکرات کے نتیجے میں اگر کوئی ڈیل ہو جاتی ہے تو وہ یقیناً پاکستان کے حق میں بہتر ہو گی نہ کے بھارت کے مفاد میں اور اس کے نتیجے میں افغانستان میں اب تک ہونے والی بھارتی سرمایہ کاری ڈوب جائے گی۔ اقتصادی راہداری منصوبے کے ساتھ ساتھ یہ دھچکہ بھارت کے لئے ناقابل برداشت ہو گا۔
 
اس کے علاوہ تازہ پیش رفت یہ ہے کہ بھارت کے ایک اور اتحادی ایران نے بھی راہداری منصوبہ کا حصہ بننے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ کوئٹہ سے ایران ریل سروس بھی بحال ہو چکی ہے۔ ایران اگر اس منصوبہ کا حصہ بن جاتا ہے تو چاہ بہار کو ڈویلپ کر کے تجارتی منفعت حاصل کرنے کا بھارتی خواب بھی بکھر جائے گا۔ چین کی طرف سے اقتصادی راہداری منصوبے اور پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری نے بھارت کو چکرا کے رکھ دیا ہے۔ بھارت سندھ اور بلوچستان میں دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اسلحہ اور رقوم فراہم کر رہا ہے۔ حال ہی میں پاک بحریہ نے بحیرہ عرب سے ایک کشتی پکڑی ہے جو پاکستان کی سمندری حدود میں موجود تھی۔ یہ کشتی ڈالروں اور غیرملکی کرنسی سے لدی ہوئی تھی۔ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور تفتیش جاری ہے کہ یہ ڈالر کہاں سے آئے اور کہاں جا رہے تھے اور ان کو کن لوگوں میں تقسیم کیا جانا تھا۔ پاکستانی سمندری حدود کی حفاظت کے لئے بھی بدھ کو پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے لئے 6 بحری جہاز کی تیاری کے لئے چین کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط ہوئے۔ ان چھ میں 4 جہاز چین اور 2 بحری جہاز پاکستان میں تیار کئے جائیں گے۔ یہ جہاز اکنامک زون کی سکیورٹی کے لئے استعمال ہوں گے اور میری ٹائم سکیورٹی کی آپریشنل صلاحیتیں بہتر ہوں گی۔
 
اقتصادی راہداری سے پاکستان سے رقابت رکھنے والے ملکوں میں سخت اضطراب اور پیچ و تاب پایا جاتا ہے۔ وہ اسے ناکام بنانے کے لئے ہر تدبیر اور حربہ بروئے کار لا رہے ہیں۔ اس ضمن میں بلوچستان کے اندر جاری بیرون پاکستان بیٹھے ہوئے چند سرداروں کی مزاحمتی تحریک کو بھی توانائی بخشی جا رہی ہے۔ انہیں پہلے سے زیادہ فعال اور متحرک بنایا جا رہا ہے۔ مختلف خفیہ ذرائع سے انہیں مالی معاونت اور اسلحہ کی مدد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ اقتصادی راہداری سے گوادر بلوچستان سے گزرنے والے راستے کو غیرمحفوظ بنا دیا جائے اور چین اس سے خوفزدہ ہو کر منصوبے سے ہاتھ اٹھا لے۔ اگرچہ چین کی حکومت نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئیں اور وہ ایسے ممالک و قوتوں کی تدابیر سے بخوبی واقف ہے۔ پورے خطے کی اسٹرٹیجک اور اقتصادی صورت حال کو بدل کر رکھ دینے والا یہ منصوبہ صرف پاکستان کے ہی نہیں چین کے لئے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس لئے ان رکاوٹوں کو دور کرنا دونوں ملکوں کے مفاد کا تقاضا ہے۔ 
 
راہداری منصوبے کے تحفظ کے حوالے سے آرمی چیف کی یقین دہانی باعث اطمینان ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت پورے یقین و اعتماد کے ساتھ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے متحرک ہے اور پاکستانی قوم میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے کہ وہ اس منصوبے کو مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کو شکست دے کر اقوام عالم میں ایک باعزت مقام حاصل کر سکے۔ چند عناصر کو چھوڑ کر پاکستان کے عوام خواہ ان کا تعلق کسی بھی صوبے سے ہو اقتصادی راہداری منصوبے کے پیچھے کھڑے ہیں اور اس کی تکمیل کے ساتھ ساتھ ترقی و خوشحالی کا سفر طے کرنا چاہتے ہیں۔ بھارت کے منفی عزائم کو پوری قوم اچھی طرح پہچانتی ہے اور ان عزائم کو ناکام بنا سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ بھارت بھی اس منصوبے کی اہمیت کو سمجھے اور اوچھے ہتھکنڈے اپنا کر اس منصوبے کو ناکام بنانے کی بجائے اس کا حصہ بنے کیونکہ جنگ و جدل نہیں فلاحی منصوبوں سے جنوبی ایشیا کے عوام کا مستقبل وابستہ ہے۔