کراچی کی گھناؤنی تصویر
- اتوار 14 / جون / 2015
- 4478
رینجرز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں روشنیوں کے شہر کراچی کی جو گھناؤنی اور مکروہ تصویر پاکستانیوں کے سامنے پیش کی ہے اس نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہاں اہم ترین سوال یہ ہے کہ رینجرز شہر قائد میں 80 کی دہائی سے موجود ہے تو کیا 2015 میں آ کر یہ راز آشکار ہوا ہے کہ شہر بے مثال میں کالے دھندوں سے 230 ارب روپے کی خطیر رقم بٹوری جا رہی ہے؟
اگر یہ سچ ہے تو کیا عوام کے خون پسینے کی کمائی سے تنخواہیں اور مراعات پانے والے یہ اہلکار فرائض میں سنگین غفلت کے مرتکب نہیں ہوئے؟ اور اگر یہ درست نہیں تو ان مکروہ دھندوں کے سدباب کے لئے کارروائی کیوں نہ کی گئی؟ دونوں صورتوں میں ہی سکیورٹی فورسز اپنے فرائض کی بجاآوری میں ناکام ہیں۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ سیاستدان اور بیورو کریسی بھی صورتحال میں برابر کی شریک ہے۔ پاکستان کے عوام نااہل سیاستدانوں کو بجا طور پر گالیوں سے نوازتے ہیں مگر کیا وقت آ نہیں گیا کہ مقدس گائے سمجھنے جانے والے اداروں کا بھی احتساب کیا جائے اور اس بات کا تعین کیا جائے کہ ان تمام تر غفلتوں کے ذمہ دارصرف سیاستدان ہی نہیں دیگر ادارے بھی ہیں۔
ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر نے کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے شہر اور پاکستان کے اقتصادی دارالحکومت میں سالانہ 230 ارب روپے کی وصولی کی غیر قانونی سرگرمیوں کا انکشاف کیا ہے ۔ اس کاروبار میں بھتہ خور، ٹارگٹ کلنگ کے مرتکبین، منشیات کا کاروبار چلانے والے، منی لانڈرنگ کے مجرمین، ڈرگ اور لینڈ مافیا ز، ا یران سے بھاری مقدار میں پٹرول اسمگل کرنے والے بااثر حکومتی و سیاسی افراد اور سیاسی و غیر سیاسی تنظیمیں ملوث ہیں۔ رپورٹ میں کراچی اور سندھ کی بااثر حکومتی و سیاسی شخصیات سمیت شہر کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور لیاری کے گینگ وار لارڈز سمیت کئی ایک عناصر اور تنظیموں یا جماعتوں کو مکروہ دھندوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
کراچی کی حد درجہ ناگفتہ بہ صورتحال کے بارے میں ایک اہم اور ذمہ دار فوجی شخصیت کے یہ نہایت حیران کن انکشافات ہیں۔ شاید پاکستان کا عام آدمی کراچی کے دگر گوں حالات سے واقفیت رکھنے کے باوجود اس حد تک گھناؤنی تصویر کے بارے میں سوچ نہیں سکتا تھا۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ کراچی جیسے سب سے بڑے کاروباری اور ضلعی مرکز میں قانون، جرم اور سیاست کچھ اس طرح آپس میں گھل مل گئے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے علیحدہ کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔
ڈی جی رینجرز کے مطابق اس ناقابل بیان اور شرمناک صورت حال پرمبنی ایک تفصیلی رپورٹ پچھلے ہفتے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی صدارت میں منعقد ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ اپیکس کمیٹی میں حکومت کی قیادت کے علاوہ کور کمانڈر خود، ڈ ی جی رینجرز اور د یگر فوجی حکام کے علاوہ سول انتظامیہ کے سرکردہ افراد شامل ہوتے ہیں۔ لہٰذا قوم کو اس سوال کا فوری طور پر جواب ملنا چاہئے کہ جب اتنی طاقت ور کمیٹی کے ارکان کے سامنے یہ رپورٹ پیش کی گئی تو انہوں نے بد ترین صورت حال کے تدارک کے لئے کس نوعیت کے اقدامات اور نہایت درجہ طاقت ور مجرموں کے خلاف کس طرح کی کارروائی کا فیصلہ کیا۔
ڈی جی رینجرز نے اپیکس کمیٹی کے محولہ بالا اجلاس کے ایک ہفتے کے بعد قوم کو اس رپورٹ کے مندرجات سے آگاہ کرنا تو ضروری سمجھا لیکن انہوں نے نہ تو یہ بتایا کہ رپورٹ کو منظر عام پر لانے میں ایک ہفتہ کی مدت کیوں درکار تھی، نہ اہل وطن کو اس سے آگاہ کیا کہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی خاطر کون سے اقدامات کئے گئے۔ کراچی میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت ہے اور ایم کیو ایم کو شہر قائد کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سمجھا اور کہا جاتا ہے۔ چنانچہ پارلیمنٹ سے باہر میڈیا کو بیان دیتے وقت پیپلزپارٹی کے ممتاز رہنما اعتزاز احسن نے سوال اٹھایا کہ تمام ضروری اختیارات کی حامل ہونے کے باوجود اپیکس کمیٹی نے کوئی اقدام کیوں نہیں کیا۔ اعتزازاحسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھتہ خوری سے لے کر ٹارگٹ کلنگ اور منشیات فروشی سے لے کر اسمگلنگ کے اتنے بڑے نیٹ ورک کی بنیاد پرویز مشرف کے آمرانہ دور میں رکھی گئی تھی لیکن پیپلزپارٹی کا دانشور اور قانون دان رہنما یہ نہ بتا سکا کہ 2008ء کے انتخابات اور مشرف کے چلے جانے کے بعد سات سال سے سندھ میں ان کی پارٹی کی حکومت چلی آ رہی ہے ۔ 2008ء سے 2013ء تک پانچ سال کی مدت کے دوران وفاق میں بھی ان کی حکومت تھی ۔ گویا سندھ کے حالات پر ان کی پوری گرفت تھے۔ اس دوران میں ان کی جماعت نے صوبے اور شہر کراچی کو خباثتوں سے پاک کرنے کے لئے کیا کیا؟
اسی طرح رینجرز کے کمانڈر کو بھی اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ یعنی 21 ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور اس کے بعد اپیکس کمیٹیوں کے قیام سے لے کر آج تک انہوں نے جرائم کے اتنے بڑے جال کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے بڑی اور موثر کارروائیاں کیوں نہیں کیں۔ اس میں شک نہیں کہ مارچ میں ایم کیو ایم کے مرکز 90 پر یلغار کی گئی اور وہاں چھپے ہوئے کئی مجرموں کی گرفتاری اور ناجائز اسلحہ کی برآمدگی بھی ہوئی۔ اس کی شہرت بھی ہوئی مگر کیا کراچی میں صرف اتنا ہی ناجائز اسلحہ پایا جاتا ہے جو برآمد ہوگیا۔ اس کے ذخیرے تو جگہ جگہ مدفون ہیں۔ وہاں پر بڑی مقدار میں رکھا ہوا اسلحہ اب تک کیوں برآمد نہیں کیا گیا ۔ کراچی کے باسی اچھی طرح جانتے ہیں کہ کراچی کو ناجائز اسلحے سے پاک کر دیا جائے تو سیاسی و غیر سیاسی مجرموں کے پاس خواہ کتنا ہی ناجائز پیسہ ہو وہ قتل و غارت گردی کا بازار گرم نہیں کر سکتے۔ حیرت کی بات ہے کہ ڈی جی رینجرز صاحب کی پیش کردہ رپورٹ کے جو مندرجات اخبارات میں شائع ہوئے ہیں ان میں غیر قانونی اسلحہ کے بڑے بڑے ذخائر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
اسی طرح اعتزاز احسن نے یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی جماعت کا قربانی کی کھالوں اور فطرے سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ لیاری کے مجرموں کو کس کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ اگرچہ انہوں نے اعتراف کیا کہ سندھ حکومت میں اصلاح کی بہت گنجائش موجود ہے۔
چشم کشا رپورٹ کے رد عمل میں سیا سی لیڈروں کی بیا ن بازی سے قطع نظر لازمی اور فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ جن مجرموں کو ان تمام کارروائیوں میں ملوث پایا گیا ہے ان کے خلاف باقاعدہ مقدمات قائم کئے جائیں اور انہیں قانون کی عدالت میں پیش کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ ارباب اختیار کو اب اس میں دیر نہیں کرنی چاہئے ، چاہے ملزم پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے ہوں، ایم کیو ایم سے، لیاری گینگ وار یا فرقہ وارانہ فسادات کے مرتکبین میں سے۔
اس رپورٹ کے منظر عام پر آجانے کے بعد سندھ کی صوبائی حکومت ، کور کمانڈر کراچی ، ڈی جی رینجرز اور وفاقی حکومت پر برابر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بلا تاخیر ٹھوس فیصلے کریں اور ہر مجرم (چاہے وہ سیاستدانوں ہو ، بیورو کریٹ ہو یا پھر جرنیل) کو پکڑ کر اس کے پاس موجود ناجائز روپیہ، غیر قانونی اسلحہ برآمد کریں ا ور قبضہ مافیا سے زمینیں واگزار کرائیں۔ اب کراچی کا امن بحال کرنے کے لئے نورا کشتی والے نہیں ایک حقیقی آپریشن کلین اپ کی ضرورت ہے۔ کراچی کے امن سے ہی پاکستان کا امن اور کراچی کی خوشحالی سے ہی پاکستان کی خوشحالی وابستہ ہے۔