ڈینش سیاستدانوں کا انسانیت سوز رویہ
- منگل 16 / جون / 2015
- 4096
ڈنمارک میں 18 جون کو کرائے جانے والے پارلیمانی انتخابات میں سیاستدانوں کی انتخابی مہم کے دوران تارکین وطن بالخصوص مسلمانوں اور مہاجرین کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہیں سماجی برائیوں کی جڑ اور قومی معیشت پر بوجھ قرار دیا جا رہا ہے۔ اُن کے متعلق مفروضے قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس صورت حال سے یہی تاثر ملتا ہے کہ اقلیتوں کو نشانہ بناتے وقت ڈینش سیاستدان انسانیت کی اس عزت و تکریم کو فراموش کرچکے ہیں جو کبھی ڈنمارک کا ایک طرۂ امتیاز ہؤا کرتا تھا ۔
انتخابی مہم شروع ہونے کے بعد سے ہر سیاسی رہنما زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لئے غیر ملکیوں کے متعلق طرح طرح کے بیانات دے رہا ہے۔ ان بیانات کو جنہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اچھالا جاتا ہے۔ صرف دائیں بازو کی پارٹیوں کا نیلا بلاک ہی تارکین وطن کے خلاف یہ مہم جوئی نہیں کرتا بلکہ بائیں بازو کے سرخ بلاک میں شامل سیاسی پارٹیاں بھی منفی طرز عمل کا مظاہرہ کررہی ہیں۔
تارکین وطن اور مہاجرین کے حوالے سے سیاستدانوں کی اِس روش پر بعض حلقوں کی جانب سے سخت تاسف کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ لیکن سیاستدان اپنے رویہ میں کوئی لچک پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر امیگریشن پالیسیوں کو سخت ترین بنانے کے وعدے کر رہے ہیں ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈینش شاخ کے جنرل سیکریٹری لارس نورمان یؤرگنسن نے اِس صورت حال پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈنمارک کے معتبر اخبار پولیٹیکن میں لکھا ہے کہ ڈینش انتخابی مہم میں یہ رجحان در آیا ہے کہ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش میں مہاجرین پر مزید سختیاں کرنے کا پرچار کر رہی ہیں ۔
ایک مضمون میں یؤرگنسن نے لکھا ہے کہ قومی ٹیلیویژن پر سرخ اور نیلے بلاک کے رہنماؤں نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اس بات کا اظہار کیا کہ ’’ مہاجرین کے لئے ڈنمارک کو وہی مشکل ترین بنا سکتا ہے۔‘‘ سیاسی پناہ سے متعلقہ اپنی نئی حکمت عملی یا پالیسی میں دائیں بازو کی وینسٹرا پارٹی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ وہ مہاجرین کی تعداد کو محدود رکھنے کے لئے باقاعدہ ہدف بنا کر اقدام کئے جائیں گے۔ یہ پارٹی ’’ سٹارٹ ہیلپ ‘‘ نامی اُس سسٹم کو بھی دوبارہ متعارف کرانا چاہتی ہے جسے موجودہ سوشل ڈیموکریٹ حکومت نے 2011 میں ختم کر دیا تھا ۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ’’ سٹارٹ ہیلپ ‘‘ پر تنقید کرتے ہوئے اِسے ایک متعصبانہ فعل قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ تارکین وطن اور مہاجرین کو ’’ غربت ‘‘ کی جانب دھکیل دے گی ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈینش شاخ کے جنرل سیکریٹری لارس نورمان یؤرگنسن نے روزنامہ پولیٹیکن میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہماری تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ سرکاری گرانٹس مہاجر خاندانوں کی ضرورتیں پورا کرنے کے لئے بہت کم ہوتی ہیں۔ وہ سبزیاں اور پھل وغیرہ تک خریدنا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ یہ بہت مہنگے ہوتے ہیں ۔ ایمنسٹی کے مطابق اسی لئے بیشتر مہاجرین اپنے بچوں کو فٹ بال اور جمناسٹک کھیلنے کے لئے نہیں بھیج سکتے۔ کیونکہ مالی لحاظ سے وہ اِس کے متحمل ہی نہیں ہو سکتے ۔
سٹارٹ ہیلپ نامی گرانٹ کے نفاذ کا مقصد مہاجرین کو سماج میں انٹگریٹ کرنے کے لئے متحرک کرنا تھا اوریہ خواہش بھی تھی کہ مہاجرین اور تارکین وطن کو کام کاج کے لئے روزگار کی منڈی میں آگے لایا جائے۔ لیکن حقیقت میں اس کا نتیجہ اُلٹ رہا اور اقلیتوں کے بیشتر خاندان غربت کی دلدل میں پھنس گئے ۔ نیلے بلاک میں وینسٹرا پارٹی کے وزارت عظمٰی کے امیدوار لارس لکے راسموسن کی پیش کردہ نئی پالیسی میں گرانٹس میں کمی کو انٹگریشن میں پیشرفت سے نتھی نہیں کیا جائے گا۔ اس کا اصل مقصد مہاجرین کی ڈنمارک میں حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
حکومت نے فروری کے مہینے میں بچوں کے عالمی اور یورپی کنونشنوں اور زندگی گزارنے کے حق کے متضاد، مہاجرین کے خاندانوں کو یکجا کرنے کے ضوابط کو سخت ترین بنا دیا تھا ۔ دوسرے لفظوں میں ڈنمارک نے مہاجرین کو بتا دیا تھا کہ جب وہ سرحد پار کرکے ڈنمارک آئیں تو انہیں یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ وہ خود بیشک یہاں پہنچ گئے ہیں لیکن اُن کے بچے اور بیوی ایک سال تک عسکریت پسند’ گروہوں کے علاقے ہی میں زندگی گزاریں گے۔ اور انہیں ڈنمارک آنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔
18جون کو ہونے والے انتخابات میں وزارت ِ عظمٰی کے دونوں امیدوار پناہ کے لئے آنے والے مہاجرین کو ڈنمارک سے باہر رکھنے کے لیے باقاعدہ و عملاً اقدامات لینے کا اعلان کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسی منحوس حکمت ِ عملی ہے جو اِس سچ کو چُھپا دیتی ہے کہ مہاجر بھی ایک ’’ انسان ‘‘ ہے ۔ ایک ایسا انسان جو بھاری بموں کی بارش اور تشدد و بربریت اور وسیع پیمانےپر ہونے والےجبر سے بھاگ کر پناہ کے لئے ڈنمارک آتا ہے ۔
کیا ہم انسانیت کے نام پر اُس کی اتنی بھی مدد نہیں کر سکتے کہ وہ ایک پُر امن زندگی گزارنے کی خواہش پوری کر سکے ۔ کیا یہ ڈنمارک کے لیے باعث شرم و ندامت اور انسانیت کے خلاف نہیں کہ ہم ایسے مہاجرین کو یہ پیغام دیں کہ “ ڈنمارک انہیں پسند نہیں کرتا “ اور یہ کہ ڈنمارک میں اُن کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ کوئی بھی قانون “ انسانیت “ کے منافی نہیں ہو سکتا اور یہی اصول ڈنمارک پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ پناہ کے لئے آنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے سخت ترین قوانین و ضوابط بنائے جانے کا اعلان اور وعدے کرنے والے سیاستدانوں کو اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیئے اور ان لوگوں کو تحفظ مہیا کرنا چاہیئے جنہیں فی الوقت اِس کی شدید ضرورت ہے ۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)