فوج اور پاکستانی سیاست

  • بدھ 17 / جون / 2015
  • 4473

دنیا کے بہت کم ممالک ہیں جہاں جانورں اور پانی کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔
مگر پاکستان اور ہندوستان دونوں ایسے ممالک جہاں جانور بھی مقدس ہیں اور پانی بھی۔ انڈیا میں گائے ایک مقدس جانور ہے اگر وہ بیچ سڑک آکر کھڑی ہو جائے تو ٹریفک جام ہو جاتی ہے مگرکسی میں ہمت نہیں کہ ہلکی سے چھڑی سے گائے کو ایک طرف ہنکار دے۔ اسی طرح ہندوؤں میں گنگا جمنا کا پانی بھی مقدس ہے جیسے وہ “ گنگا جل “ کہتے ہیں اور مرنے والے کو مرنے سے پہلے پلاتے ہیں۔ اسی طرح ہندوستان میں شخصیات بھی مقدس ہیں۔ آپ ان کے بارے کچھ نہیں کہ سکتے۔

مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستان میں عید قرباں کے نزدیک گائے، اونٹ اور قربانی کے لئے دیا جانے والا بکرا بھی مقدس بن جاتا ہے۔  “ آبِ زم زم “ بھی مقدس پانی ہے جو ہر بیماری کا علاج سمجھا جاتا ہے۔ اور اگر بندہ یہ آب ِ زم زم پی کر بھی مرنے کے قریب پہنچ جائے تو مرنے سے پہلے آخری بار اسے آب زم زم پلایا جاتا ہے۔ 

کتاب تو مقدس ہے ہی مذہبی ہستیاں بھی مقدس ہیں۔ آپ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ پاکستاں میں مذہبی کے علاوہ فوجی شخصیات بھی مقدس ہیں ۔ آپ ان کے کسی عمل، کسی لباس، ان کے رہن سہن، کسی حرکت پر بات تو درکنار ہلکا سا اشارہ بھی نہیں کر سکتے۔ اگر کسی میں جرات ہے تو کر کے دیکھ لے اور پھر اپنا حشربھی دیکھ لے۔ فوج کا ادارہ  تو مقدس چیزوں کی ماں ہے۔ اگر کوئی ڈرتے ڈرتے کسی فوجی کے عمل کی طرف ہلکا سا بھی اشارہ کرنا چاہے تو پہلے وہ گرجدار آواز میں یہ ضرور کہتا ہے کہ “ ہم بطور ادارہ فوج کا احترام کرتے ہیں بطور ادراہ اس کو سلوٹ کرتے ہیں۔“

فوج نے بطور ادراہ اس ملک کے ساتھ کیا کیا ہے، کوئی اس کی طرف انگلی نہیں آُٹھاتا۔ نہ  یہ ادارہ کسی کو انگلی اُٹھانے دیتا ہے ۔ فوج نے بطور ادارہ یہ ملک توڑ دیا مگر کسی نے فوج کے اس ادارے کی طرف انگلی نہیں اُٹھائی ۔ بس چند فوجیوں کے نام لئے گئے مگر اس رپورٹ کو بھی شائع ہونے سے منع کردیا گیا۔ جس فوجی کمانڈر نے ہتھیار ڈال کر دستخط کئے اسے جب انڈیا کی قید سے رہائی ملی تو اُسے بارڈر سے پاکستنانی پرچم لگی گاڑی میں بیٹھا کر لایا گیا ۔ اس وقت کے فوجی صدر کو مرنے پر پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا گیا۔

فوج بطور ادارہ لوگوں کی سول حکومت کے خلاف روپوں سے بھرے بکس بانٹتا رہا ہے مگر پھر بھی وہ فوجی اور فوج کا یہ ادارہ مقدس ہے ۔ پاکستانی فوج کے کرپٹ ترین فوجیوں پر سول عدالتوں میں مقدمہ چلتا ہے تو فوجی ادارہ ان کرپٹ سابق فوجیوں کو ان کی نوکریوں پر بحال کردیتا ہے کہ فوجی مقدس ہیں۔ ان پر “بلڈی “ سول عدالتوں میں مقدمہ نہیں چل سکتا۔ پھر ان فوجیوں کی فائیلیں دیمک کی خوراک بن جاتی ہیں۔

فوج نے بطور ادارہ لوگوں کو چوکوں میں ٹکٹکیوں پر باندھ کر کوڑے مارے مگر یہ فوج اور ادارہ پھر بھی مقدس ہے۔ اس نے بطور ادارہ قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسمیں کھائیں اور لوگوں کو پہاڑوں سے نیچے اُتارا اور پھر کچھ سیاستدانوں کی گردنیں لمبی کر دیں۔ مگر یہ ادارہ پھر بھی مقدس ہے۔ اس ادارے نے عدلیہ پر اپنا بھاری بوٹ رکھ کر اسلام آباد کے کوفے سے ایک بندے کی گردن لمبی کر کے اُسے سیدھے مدینے بھیج دیا مگر یہ ادارہ پھر بھی مقدس ہے۔  یہ ادارہ ایک آدمی کو پہاڑ کے غار میں دھماکہ کرکے ہلاک کرتا ہے۔ اس کی لاش تابوت میں بند کر کے اس تابوت کو تالہ لگا دیتا ہے۔ مگر یہ ادارہ پھر بھی مقدس ہے۔

کراچی کا کور کمانڈر نوید مختار سول حکومت کے خلاف سخت ترین زبان استمعال کرتا ہے مگر کوئی اس کو شٹ اپ کی کال نہیں دیتا کہ یہ تمھارا کام نہیں ہے۔ کیونکہ یہ اور جس ادارے سے وہ وابستہ ہے، وہ مقدس ہے۔
کراچی رینجر کا انچارج سول لوگوں اور سول ادروں کے خلاف پریس ریلز جاری کرتا  ہے تو ٹاک شوز میں قہقہے لگائے جاتے ہیں کہ حکومت ختم ہونے کے آرڈر اب آنے ہی والے ہیں۔ کوئی اسےشٹ آپ کی کال دے کر یہ نہیں کہتا کہ تمہیں کوئی حق نہیں کہ پریس ریلز جاری کرو۔

کل جب سے پیپلزپارٹی کے آصف زرداری نے فوج کے کچھ لوگوں کو شٹ اپ  کال دی ہے ٹی وی کی سکرینوں پر ماہ محرم منایا یا رہا ہے۔ ہچکیاں لے لے کر فوج کے ادارے کی توہین ہونے کے مرثیے پڑھے جارہے ہیں۔ اور تو اور میرے دوست اور آن لائین آخبار “ کاروان “  کے ایڈیٹر سید مجاہد علی نے بھی اپنے اداریے میں لکھا کہ “ اگر 1977 میں ملک کے سیاستدان اس قسم کی اوچھی حرکتیں نہ کرتے، جس کا مظاہرہ آج زرداری نے کیا ہے تو جنرل ضیاالحق کو کبھی حکومت کا تحتہ اُؒٹنے کی ہمت نہ ہوتی۔“

میں اس کو اپنے دوست کی سادگی ہی کہہ سکتا ہوں۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ضیاالحق نے حکومت کا تختہ سیاسی جماعتوں کی آپس کی لڑائی کی وجہ سے اُلٹا تھا۔ جناب یہ جماعتیں اگر خاموش بھی ہوتیں تو تختہ اُلٹا جانا تھا کہ ایران افغانستاں اور خظہ میں تبدیلی آ رہی تھی۔

اب کل سے لوگ چیخ چیخ کے کہہ رہے کہ اصل میں زرداری صاحب کی دم پر پاؤں آ گیا ہے، اس لئے وہ چیخ رہے ہیں۔  لیکن اگر وہ اس وجہ سے بھی چیخ رہا ہے تو کیا اس بات میں حقیقیت نہیں یہ کہ ادراہ کرپٹ ترین ادارہ ہے، اس کے ہاتھ سول لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

لیکن ایک بات سولہ آنے صحیح ہے کہ فوج کو یہاں تک لانے میں سول حکومتوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ یہ دوسری سایسی پارٹی کو شکست دینے کے لئے  فوج کے مخبر کا کام کرتی رہی ہیں۔ اگر زرداری کی فوج کو بطور ادارہ شٹ اپ کال دینے پر دوسری جماعتیں فوج کا ساتھ دیں گی تو فوج ہر سیاستدان کا نام زرداری رکھ کر اسے ختم کر دے گی۔