اینکر وینکراور تجزیہ کار
- بدھ 17 / جون / 2015
- 5301
انتہائی گمبھیر صورتحال ہے جس پر بات کرنے کے لئے کئی اینکرآج مشترکہ پروگرام کر رہے ہیں۔
یوں تو ملک میں معروف تجزیہ کار بھی لاکھوں میں ہیں لیکن آج صرف چندہی کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ اس گمبھیر صورتحال پر بات کر سکیں۔
تو ناظرین ! آئیے کرتے ہیں تماشہ اور میں ہوں آپکی میزبان نتاشہ۔۔
رکیئے رکیئے ! بی بی آپکا نام تو گلابو ہے۔۔ یہ نتاشہ کب سے بن گئیں آپ۔۔
ارے سمجھا کریں نا ڈاکٹر وارنش صاحب ! قافیہ ملا رہی ہوں۔ لیجئے اصلی والا تعارف کروائے دیتی ہوں۔
تو ناظرین میں ہوں گلابو ۔۔ یعنی آپ کی حاضر جوابو۔۔ تو ہو یہ رہا ہے کہ بگڑ رہے ہیں حالات اور جنگ کے ہیں امکانات۔ لیکن پلیز ! ڈاکٹر وارنش صاحب آج آپ نے انگریزی کا کوئی کاغذ نہیں پڑھنا۔ لگتا ہے جھوٹ بول رہے ہوں۔۔
ڈاکٹر وارنش: بی بی عذابو ! آپ بھی زیادہ جھک جھک نہیں کریں گی۔ سنجیدہ پروگرام ہے۔۔ تو ناظرین آج ہمارے علاوہ اور بھی چند معروف اینکر یہاں موجود ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔۔ تو آئیے بات کا آغاز جناب۔۔
یہ کیا بات ہوئی ڈاکٹر وارنش صاحب۔۔ ہم آپ کو دکھائی نہیں دیتے۔۔ ہمارا تعارف کیوں نہیں کرواتے۔۔ تو ناظرین ہم اپنا تعارف خود کروائے دیتے ہیں۔۔ جی ! میں ہوں آپ کا مقبول اینکر معروف محاصرہ۔۔ ہمارے ساتھ مسکین مہین صاحب بھی موجودہیں اور جیسا کہ آپ نے پہچان ہی لیا ہو گا میں نے ابھی ابھی نئی وگ لگوائی ہے۔۔ خیر۔۔ آج کا موضوع نہایت اہم ہے تو آئیے اس پر بات کا آغازکرتے ہیں۔۔ ملکی صورتحال خوفناک حد تک۔۔
جناب ! بات کا آغاز تو ہوتا رہے گا۔ پہلے مہمانوں کا تعارف تو کروا دیں۔۔ ہم یہاں گھاس کھودنے تو نہیں آئے۔۔عسکری تجزیے کرتے اور بازوں کبوتروں کی کشتیاں کرواتے کرواتے ہمارے بال سفید ہو گئے ۔۔ آدھی پنشن خضاب میں نکل جاتی ہے۔۔ حد ہو گئی ہے بھائی۔۔ کیوں ڈاکٹر آجوج ماجوج کچھ غلط کہا میں نے!!!
درست کہا جنرل (ر) ریڈ بل صاحب آپ نے۔۔ چلیئے مہمانوں کا تعارف ہم کروا ئے دیتے ہیں۔۔آخر ہم بھی شریک میزبان ہیں اور گلابو بی بی نے ہمارا تعارف کروانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی حالانکہ ہم ان سے زیادہ معروف ہیں اور سب سے زیادہ بریکنگ نیوز بھی ہمارا ہی چینل ڈھونڈ کر لا تا ہے۔۔
گلابو: ارے جانے دیں ڈاکٹر آجوج ماجوج! جتنی بریکنگ نیوز ہم دیتے ہیں ، اتنی کوئی دوسرا چینل دے ہی نہیں سکتا۔ صبح سے لے کر اب تک ہم پچاس سے زائد بریکنگ نیوز دے چکے ہیں۔ اور آپ کے چینل نے کتنی دیں؟ کل بائیس۔ ہونہہ۔
معروف محاصرہ : چلئے آپس کی باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ لیکن آج ہمیں ایک انتہائی اہم مسئلے پر بات کرنا ہے۔ تو مسکین مہین صاحب میں آپ کی طرف آتا ہوں۔ یہ بتائیں کہ آخر اس گمبھیر صورتحال سے کیسے نمٹا جائے گا۔۔
مسکین مہین:محاصرہ صاحب! سب سے پہلے تو میں آپ کو نئی وگ کی مبارکباد دیتا ہوں۔ ماشاء اللہ بہت جچ رہی ہے۔۔ اور اب آتے ہیں گمبھیر مسئلے کی طرف۔۔ تو بات یہ ہے۔۔
ڈاکٹر وارنش: مہین صاحب! ایک بریک کے لئے کہا جا رہا ہے۔۔ بریک لیتے ہیں اور پھر یہیں سے بات شروع کریں گے۔
گلابو: ناظرین ! بریک کے بعد حاضر ہیں۔ ہمیں جائن کیا ہے چوہدری انتشار نے، جو ابھی ابھی سوئٹزر لینڈ سے لوٹے ہیں اور اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود نکالا ہے وقت انہوں نے ہمارے لئے۔۔ تو جی چوہدری صاحب!
چوہدری انتشار: شکریہ گلابو حاضر جوابو! سب سے پہلے تو میں ریکارڈ کی درستی کے لئے بتاتا چلوں کہ میں سوئٹزر لینڈ سے نہیں برطانیہ سے لوٹا ہوں۔ علاج کے لئے گیا تھا۔ سوئٹزر لینڈ میں تو ایک چھوٹا سا کام تھا۔ ہمارے وفاقی وزیر، نادار صاحب کے کچھ بل رکے ہوئے تھے۔۔ وہ چھڑوانے تھے۔ ۔ اور اب آتے ہیں گمبھیر مسئلے کی طرف۔۔
مسکین مہین : بھئی حاضر جوابو ! یہ کیا بات ہوئی۔ بریک سے پہلے تو میں بات کر رہا تھا جو ابھی مکمل ہونا باقی تھی۔ باری تو مجھے ملنی چاہیئے تھی۔ آپ نے چوہدری انتشار کو دے دی۔۔
معروف محاصرہ : چلیں مہین صاحب کوئی بات نہیں آپ کی جگہہ میں بات کر لیتا ہوں۔۔۔۔
جنرل (ر) ریڈ بل :جی نہیں ! کوئی بات نہیں کرے گا۔۔اب میں کبوتروں اور عقابوں کی لڑائی آپ کو دکھاتا ہوں۔۔ دیکھئے جو لقا کبوتر ہوتا ہے ۔۔ وہ ۔۔
ڈاکٹر آجوج ماجوج :کیا بات ہے جنرل صاحب ! مزہ آ گیا۔ میرے خیال میں بات ہمارے ہمسائیوں کو بھی سمجھ آ گئی ہو گی کہ عقاب ، کبوتر پر کیسے جھپٹتا ہے۔۔ واہ واہ ۔ میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔
مسکین مہین بھئی میری باری ۔۔۔
نیا مہمان: حد ہو گئی ہے۔ اتنا گمبھیر مسئلہ ہے اور آپ لوگوں نے ابھی تک میرا تعارف ہی نہیں کروایا۔ حالانکہ میں سینیٹر ہوں اور اس مسئلے پر سب سے ٹھوس گفتگو کر سکتا ہوں۔۔
ایک اورمہمان: خاموش ! چپڑ کناتئے۔۔ اتنے بڑے دانشور کا تعارف ابھی ہؤا نہیں اور تو اپنی بات کرتا ہے۔۔ کھانچے لگانے سے فرصت مل گئی تجھے۔۔ ٹھوس گفتگوکا ماما۔۔ تو کیا ٹھوس گفتگو کرے گا۔۔ نا اہل بجو !
ڈاکٹر وارنش: دیکھئے یہ فیملی پروگرام ہے۔ براہ کرم تہذیب کا دامن۔۔
دانشور: خاموش بد زبان۔۔ تہذیب کا دامن تھامنے سے پہلے یہ بتا کہ تیری ڈگری اصلی ہے یا جعلی۔۔اچھا چل پہلے ، اے ،بی، سی سنا۔۔
ڈاکٹر وارنش: تو اے۔ بی ۔ سی کی کہتا ہے۔ میں تجھے تیرے سیاہ کرتوتوں کی پوری فائل پڑھ کر سناتا ہوں۔۔۔
گلابو: نہ نہ ڈاکٹر صاحب ! فائل انگریزی میں ہے۔آپ پڑھیں گے تو لوگ جھوٹ سمجھیں گے۔۔
جنرل (ر) ریڈ بل:چھوڑیں یہ فائلیں وغیرہ پڑھنے کو۔۔ایکشن کی طرف آئیں ایکشن کی طرف۔۔ دیکھئے ہمارے کبوتر خیبر سے راج کماری تک۔۔
محاصرہ : آپ کا مطلب ہے راس کماری تک۔۔۔
ریڈ بل : شٹ اپ!اتنے بڑے منصوبہ ساز اور تجزیہ نگار کی بات کو کاٹتا ہے ۔۔ کس کا ایجنٹ ہے تو۔۔ سب جانتا ہوں۔۔ مجھ سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں۔۔ سمجھا۔ ۔ تو میں کہہ رہا تھا کہ خیبر سے ۔۔
آجوج ماجوج: بالکل ٹھیک کہا جنرل صاحب آپ نے۔۔ میں نے اس راستے پر خود کئی عقابوں اور کبوتروں کو۔۔
مسکین مہین :گلابو عذابو جی ! آپ نے مجھے بلایا کس لئے تھا۔۔ اب میں ہرصورت اپنا مؤقف بیان۔۔۔
گلابو عذابو: ناظرین ہمیں ایک بریک کے لئے کہا جا رہا ہے۔ تو حاضر ہوتے ہیں ایک بریک کے بعد۔۔۔
مسکین مہین :لیکن میری باری۔۔
گلابو عذابو: ٹیک اے بریک۔۔۔
تو ناظرین بریک کے بعد ایک مرتبہ پھر حاضر ہیں۔ بریک سے پہلے مہین صاحب کچھ کہنا چا ہ رہے تھے، لیکن پہلے بات کرتے ہیں سینیٹرصاحب سے کہ وہ اس گمبھیر مسئلے کا ۔۔
دانشور: دیکھو بی بی عذابو! تم غلط آدمی سے غلط سوال کر رہی ہو۔ ٹھیک ہے! پہلی بات تو یہ کہ اسے آدمی کہنا ہی غلط ۔۔۔
سینیٹر: اوئے تو سمجھتا کیا ہے اپنے آپ کونالائق ۔۔ ساری دانشوری جھاڑ کر رکھ دوں گا تیری ۔۔ تجھے کیا پتہ حکومتیں کیسے چلتی۔۔۔
دانشور: میں یہ گلاس اٹھا کر ماروں گا تیرے گنج پر۔۔ مجھے دانشوری سکھاتا ہے۔۔تیری اوقات ہی۔۔۔
سینیٹر: میں تیرا گلاس جھونپ کر واپس تجھے ہی دے ماروں گاخبیث۔۔
گلابوعذابو: بھئی پلیز ۔۔ پلیز۔۔ یہ فیملی پروگرام ہے۔۔ تو ناظرین اس وقت ٹیلیفون لائن پر ہمارے ساتھ موجود ہیں بزرگ صحافی جناب عالم درویشی ۔۔تو آئیے اس گمبھیر مسئلے پر انکا موقف معلوم کرتے ہیں۔۔ جی درویشی صاحب!
عالم درویشی: ۔۔ جی ! تو پوچھا چائے پیؤ گے۔۔عرض کی درویش چائے تو ضرور پیئے گا۔۔ پوچھا جانتے ہو کیا ہو رہا ہے۔۔ بولا طالبعلم ہر وقت جاننے کے عمل سے گزرتا رہتا ہے۔۔ اتنے میں ایک خدمتگار نے چائے کے ساتھ ایک چھوٹی سی طشتری میں برفی کی چند ڈلیاں لا کر سامنے رکھ دیں۔۔ نظر اٹھی تو فراخ پیشانی پر تفکر کی لکیریں ابھرتی دیکھیں جن میں چند قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔۔۔ درویش کو صحرا کے بیچوں بیچ جھولی میں کھجوریں بھرے وہ مردِ ۔۔۔
دانشور: بزرگو اصل مسئلے پر بات کرو ۔۔ یہ کیا تم رام لیلا سنانے ۔۔۔
عالم درویشی: یہی تو ہمارے زوال کا سبب ہے جب تم جیسے بناسپتی دانشور۔۔۔
دانشور: اوئے! زبان سنبھال کر۔۔۔
جنرل (ر) ریڈ بل: چھوڑیئے اس فضول بحث کو۔۔ اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔۔تو میں بتا رہا تھا کہ میں نے ایک مرتبہ علامہ اقبال کے ارشاد کے مطابق ایک ممولہ پکڑا اور اسے پہاڑی شہباز سے لڑنے کی ٹریننگ دینا چاہی۔۔۔۔
ڈاکٹر آجوج ماجوج: بھئی واہ جنرل صاحب ! آپ جیسے عظیم کمانڈر سے یہی توقع کی جا سکتی تھی۔۔ لیکن آپ نے یہ بات پہلے کبھی بتائی نہیں۔۔تو پھر کیا ممولے نے شہباز کو ہرا دیا۔۔
جنرل(ر) ریڈ بل: بھئی کیا بات کرتے ہیں ڈاکٹر صاحب! شہباز ایک لمحے میں چٹ کر گیا اسے۔۔بلکہ میرے ہاتھ پر بھی اسکی چونچ لگنے سے بڑا زخم آیا۔۔ کافی خون بہا۔۔
ڈاکٹر آجوج ماجوج: کمال ہے جنرل صاحب! آپ کا جوخون بہا وہ رائیگاں نہیں جائے گا۔۔ ایک دن ضرور رنگ۔۔
مسکین مہین: گلوبو جی ! اس سے پہلے کہ پروگرام میں کوئی خون خرابہ ہو جائے ، مجھے بات کرنے کا موقع ملنا۔۔
معروف محاصرہ: دل چھوٹا نہ کریں مہین صاحب آپ کی جگہہ میں بات کر لیتاہوں۔۔ دراصل۔۔
گلابو حاضرجوابو اور ڈاکٹر وارنش: ناظرین ! موضوع انتہائی اہم اور مسئلہ انتہائی گمبھیر تھا۔ اس پر معزز مہمانوں کی گفتگو آپ نے سنی۔۔۔
مسکین مہین: ۔۔ لیکن میری باری تو ۔۔۔
سوری مہین صاحب۔ پروگرام کا وقت اب ختم ہوتا ہے۔۔ اگلے پروگرام تک کے لئے گلابو اور وارنش کو اجازت دیجئے۔
خدا حافظ۔