پاکستان کے خلاف مودی حسینہ گٹھ جوڑ
- جمعرات 18 / جون / 2015
- 4088
جب سے نریندر مودی نے شیخ حسینہ کے پہلو میں بیٹھ کے سلگتا بیان دیا ہے تب سے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ جلتی پر تیل کا کام بھارتی وزیر کے بیان نے کر دیا۔ آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ اس میں خوشی کی بھلا کیا بات ہے۔
ہمارے ایک عزیز دوست فہیم پٹیل کے بقول ہم پاکستانی ہوں نہ ہوں لیکن بھارت دشمن ضرور ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ہم دن رات پاکستان کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں لیکن بھارتی ہرزہ سرائی کے بعد میں خود کو پاکستانی پاکستانی محسوس کر رہا ہوں۔ یہ کیفیت صرف ایک پٹیل کی نہیں ہوتی بلکہ ہر پاکستانی کی ہوتی ہے۔ ہم دن رات وطن عزیز میں مسائل کا رونا روتے رہیں۔ اس پر لعن طعن کرتے رہیں گے لیکن جب کوئی پاکستان کی طرف میلی نگاہ سے دیکھے یا دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرے اور خاص طور سے یہ دھمکی بھارت کی طرف سے دی جائے توپھر اس قوم کا جذبہ دیدنی ہوتا ہے۔
شاید ہر کچھ عرصے بعد بھارت کوئی نہ کوئی پھلجڑی چھوڑتا ہی اسی لئے ہے کہ اس قوم کا جذبہ دیکھا جائے کہ کم ہؤا ہے یا نہیں۔ جب اسے نظر آتا ہے کہ یہ جذبہ تو آج بھی 65ء والا ہی ہے تو جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ لیکن ہر دفعہ دشمن یہ دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے کہ اس کا مقابلہ ایک پاکستان سے نہیں بلکہ اس کے مقابلے میں اٹھارہ کروڑ سے زائد پاکستان ہیں۔ کیوں کہ ایک عام مزدور بھی بھارت کے مقابلے میں خود کو ایک مکمل پاکستان سمجھتا ہے۔
مودی کا بیان شاید وہ خفت مٹانے کے لئے ہے جو دورہ چین میں اقتصادی راہداری کے حوالے سے مؤقف کی ناکامی کی صورت میں اٹھانا پڑی۔ مودی سرکار چین کو یہ باور کروانے میں ناکام رہی کہ پاکستان اس منصوبے کا اہل نہیں۔ اور یہ خفت جب چھپائے نہ چھپی تو حسینہ کے پہلو میں جا کر اپنا غصہ نکالنا شروع کر دیا۔ مودی سرکار کے حالیہ بیانات نہ صرف ان کی اپنی خفت چھپانے کی کوشش ہیں بلکہ ان لوگوں کے منہ پر بھی طمانچہ ہیں جن کی تحریروں کا آغاز و اختتام ہی “ موسٹ فیورٹ نیشن “ کے لفظوں سے ہوتا تھا۔
مودی کے حالیہ بیانات اور وزراء کی شعلہ بیانیوں کے حوالے سے کڑیا ں ملانے کی ضرورت نہیں ہے کہ کڑیاں خود بخود ہی ملتی جاتی ہیں۔ ہماری فوج ضرب عضب میں مصروف ہے۔ وزیر اعظم بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر شاید کچھ کہنے سے قاصر ہیں لہذا یہ ذمہ داری ان کے پیادے ہی سر انجام دے رہے ہیں اور خوب سر انجام دے رہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں بھارت ان پیادوں کے بیانات سننے کے لیے پھلجڑیاں نہیں چھوڑتا بلکہ وہ ان سپوتوں کے جذبے کا جائزہ لیتا ہے جو ہر طرح کی تنقید سے ماورا ہو کر مادر وطن کے دفاع میں مصروف ہیں۔ اور فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں جس طرح کا جواب بھارت کو ہمارے خاموش اور دھیمے جرنیل نے دیا ہے اس سے اب بنیے کو لنگوٹ سنبھالنے کی پڑی ہے۔
شیخ حسینہ کی پاکستان دشمنی نہ تو کسی سے ڈھکی چھپی ہے نہ ہی اس میں کوئی دو رائے ہیں کہ پاکستان نواز بنگالیوں کے گلے میں پھندے ڈالنا مکارصفت حسینہ کا اولین مقصد ہے۔ مودی کے دورہ بنگلہ دیش کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ حسینہ واجد نے بھارتی لیڈر کو لبریشن ایوارڈ سے بھی نوازا۔ یہ ایوارڈ پاکستان دشمنی کا ایوارڈ تھا جس سے حسینہ نے مودی پر یہ واضح کیا ہے کہ ہم دونوں مشترکہ طور پر پاکستان سے دشمنی نبھائیں گے۔
اس ایوارڈ سے ہمیں کوئی سروکار نہیں کیوں کہ اس قوم کا جذبہ ہی دشمن پر لرزہ طاری کرنے کے لئے کافی ہے۔ لیکن اس ایوارڈ سے توجہ چند پرانی تصاویر کی طرف چلی گئی ۔ تصاویر بنگلہ دیش میں ہونے والی ایک کانفرنس کی تھی ۔ اور اس کانفرنس کا موضوع تھا Bangladesh Liberation War Honour یعنی بنگلہ دیش کے قیام میں مددگار ہونے والوں کے لیے اعزازاور اس کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو بنگلہ دیش کی آزادی کے دوستوں سے تعبیر کیا گیا تھا۔ یا اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ تقریب پاکستان کو توڑنے کی خوشی منائی جا رہی تھی۔ اور پاکستان توڑنے کی حمایت کرنے والوں کو انعامات سے نوازا جا رہا تھا۔
ان تصاویر کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس میں ایسے چہرے بھی نظر آ رہے ہیں جن کے قلم کی کاٹ اور لفظوں کی دھار تلوار سے زیادہ تیز سمجھی جاتی ہے۔ اور جو صحافت کے مہاتیر بنے بیٹھے ہیں۔ اور سونے پہ سہاگہ کہ انہیں اس کانفرنس میں شرکت پر آج تک افسوس نہیں ہؤا۔ اب میں ایک طالبعلم کی حیثیت سے منتظر ہوں کہ حسینہ، مودی گٹھ جوڑ پر ان کا قلم کیا لکھتا ہے اور ان کی زبان کیا بولتی ہے۔ حسینہ واجد نے 71ء میں مدد پر مودی کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ یا زبان بولتی بھی ہے یا نہیں۔
یہ وطن کی حرمت پامال کرنے والے نام نہاد صحافی ، دانشور، اہل عقل تو خیرحصہ بقدرے جثہ ڈال ہی رہے ہیں۔ لیکن دکھ کی انتہا ہے کہ جن کے ہاتھ میں اس ملک کی باگ ڈور ہے وہ ایوان زیریں میں آتے ہیں اور ترقی کے دعوے کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ ملک کے وزیر اعظم کی طرف سے دشمن کی طرف سے للکار کے جواب میں ترقی کے دعوؤں کے بجائے ایک دھاڑ کی ضرورت ہے۔ شاید ان کے مصاحبین نے کہہ دیا ہو کی انہیں دھاڑنے بھی دیں جو خارجہ، داخلہ، اندرونی و بیرونی جنگوں سے پہلے ہی نمٹ رہے ہیں۔ ایوان اقتدار کے باسی یہ حقیقت تو شاید نہیں جانتے کہ جب سرحدوں پر دشمن غرّا رہا ہو تو میٹرو بس کا راگ الاپنے کی بجائے ٹھوس جواب دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
مودی و حسینہ گٹھ جوڑ اٹھارہ کروڑ سے زائد پاکستانی فوج سے مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ پاکستانی کے قبائلی علاقوں کی قیادت نے بھی بھارت کو خبردار کیا ہے اور شاید مودی سرکار نے 48ء کی تاریخ تو پڑھ رکھی ہو گی۔ ہم آپس میں لڑیں یا خوش رہیں۔ تنقید کریں یا توصیف کریں۔ باہم دست و گریباں ہوں یا باہم شکرو شیر ۔ بیرونی دشمن کے لئے ہم ایک فولادی مکے کی صورت ہیں۔
ان نادان اپنوں کے لئے جو اغیار کے تمغے سجانا اعزاز سمجھ رہے ہیں، صرف یہی پیغام ہے کہ یہ دھرتی اگر عزت کے مینار پر چڑھا سکتی ہے تو یہ خود سے وفا نہ کرنے والوں کو رسوا بھی کر سکتی ہے۔ اس دھرتی کے خمیر میں اگر خلوص و عزت کی مٹھاس ہے تو اس میں دھتکار اور ذلت کی رسوائی بھی ہے۔ آپ فیصلہ کر لیں کہ آپ کو مادرِ وطن کی حرمت زیادہ عزیز ہے یا دشمن کے انعام و تمغے۔ پاکستان پائندہ باد