ڈنمارک کے انتخابات - ایک جائزہ
- ہفتہ 20 / جون / 2015
- 3933
ڈنمارک میں حالیہ پارلیمانی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی ڈینش پیپلز پارٹی کی کامیابی نے ڈینش قومی سیاست میں ایک بھونچال بر پا کر دیا ہے اور یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ یہ انتخابات امیگریشن پالیسیوں کو سخت بنانے کے لئے ایک طرح کا “ عوامی ریفرنڈم “ تھے ۔ انتخابات میں دائیں بازو کے نیلے بلاک میں شامل ڈینش پیپلز پارٹی نے نمایاں کامیابی حاصل کرکے سیاست کی چولیں ہلا دی ہیں ۔
شمالی اوقیانوس کے دونوں ملکوں گرین لینڈ اور جزائر فیرو کے چاروں ووٹ اگرچہ بائیں بازو کے سرخ بلاک کے پلڑے میں گئے ہیں لیکن انتخابی نتائج میں دائیں بازو کے نیلے بلاک کو اکثریت حاصل ہو گئی ہے ۔ سرخ بلاک کو 89 پارلیمانی نشستیں ملی ہیں ۔ نیلے بلاک نے 90 نشستیں حاصل کی ہیں ۔ اور یوں لارس لکے راسموسن کے لئے نئی حکومت بنانے اور وزارت عظمٰی کا عہدہ سنبھالنے کی راہ پموار ہوگئی ہے ۔
وزیر اعظم ہیلے تھورنگ شمتھ، سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کی چیئرپرسن ہونے کی حیثیت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکی ہیں۔ قومی امکان ہے کہ اُن کی جگہ پر میٹے فریڈرکسن کو نئی پارٹی چیئرمین منتخب کر لیا جائے گا ۔ انتخابات میں اگرچہ سوشل ڈیموکریٹ نے قدرے پیشرفت کی ہے لیکن پارٹی کی اعلیٰ قیادت متفق تھی کہ پارٹی کو نئی قیادت کے ساتھ تازہ آغاز کرنا چاہیئے ۔
وینسٹرا پارٹی کو ذلّت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پچھلے انتخابات کے مقابلے میں اس بار پارٹی کو اپنے ایک چوتھائی رائے دہندگان سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ دوسری جانب نیلے بلاک میں شامل دو پارٹیوں نے نمایاں فتح حاصل کی ۔ ڈینش پیپلز پارٹی کو وینسٹرا کے مقابلے میں تین پارلیمانی نشستیں زیادہ ملی ہیں۔ اور وہ دائیں بازو کی پارٹیوں میں ملک کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ہے ۔ لبرل الائنس پارٹی نے بھی پہلے کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے ۔
انتخابات اور امیگریشن پالیسیاں:
ڈینش پیپلز پارٹی کی نمایاں فتح کی کئی وجوہات ہیں ۔ وینسٹرا پارٹی کے لارس لکے راسموسن کی متنازعہ شخصیت اور اُن پر عوامی عدم اعتماد، ڈینش پیپلز پارٹی کے رہنما کرسٹیئن تھولسن ڈاھل کے لیے بیحد فائدہ مند رہا ۔ اور ان کی پارٹی کی سیاسی پیشرفت کا باعث بنا ۔ پارٹی پبلک سیکٹر میں فلاحی شعبے پر زیادہ وسائل صرف کرنے کی حامی ہے۔ اس وجہ سے بھی سرخ بلاک کے بیشتر رائے دہندگان نے اس پارٹی کو ووٹ دئے ہیں ۔ لیکن ڈینش پیپلز پارٹی کی فتح کا اصل راز اس کی تارکین وطن، مہاجرین اور خاص کر مسلمان مخالف پالیسیاں ہیں۔ ان کا اظہار یہ پارٹی انتخابی مہم کے دوران بڑھ چڑھ کر کرتی رہی ہے۔
پارٹی امیگریشن پالیسیوں کو سخت کردینا چاہتی ہے ۔ سیاسی پناہ کے لئے آنے والے نئے مہاجرین کے لئے دروازے بند کر دینے کے حق میں ہے ۔ انسانی سمگلنگ روکنے کے لیے سویڈن اور جرمنی کے ساتھ ملحقہ ڈینش سرحدوں پر سخت کنٹرول لاگو کرنا چاہتی ہے ۔ مزید برآں وہ تارکین وطن کو ڈینش سماج میں انٹگریٹ کرنے کے لئے ان پر صرف شدید دباؤ ڈالمے کے حق میں ہے۔ پارٹی مسلمان یا اسلامی پس منظر رکھنے والے تارکین وطن سے بھی سخت مطالبات کر رہی ہے ۔
ڈنمارک کے بارے میں حیرت انگیز بات:
ڈینش پارلیمانی انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی انٹی امیگرنٹس ڈینش پیپلز پارٹی کی نمایاں فتح کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر ممالک کے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں سیاسی مبصرین اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں نے جو تاثر دیا ہے اس کا لُب و لباب یہی ہے کہ ڈینش انتخابات میں انتہائی دائیں بازو کی جیت ہوئی ہے ۔ اور دائیں بازو کی یہ جیت ڈنمارک کے انسان دوست ہونے کے عالمی تشخص پر ایک سیاہ دھبہ ہے ۔ کیونکہ نیلے بلاک میں ڈینش پیپلز پارٹی کی سب سے زیادہ کامیابی سے تارکین وطن دشمنی اور نسلی تعصب کا تاثر ابھرتا ہے۔
البتی ڈینش پیپلز پارٹی اسے انتہا پسندی نہیں سمجھتی ۔ اس کا کہنا ہے کہ رائے دہندگان نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور اُن کا یہ فیصلہ اُن کی سیاسی بصیرت ، عقل و ہوشمندی اور سماجی فراست کا آئینہ دار ہے ۔ اب اگر اس مؤقف کو سامنے رکھتے ہوئے اُن انتخابی وعدوں اور ڈینش پیپلز پارٹی کی غیر ملکیوں بارے پالیسیوں کا تجزیہ کیا جائے تو بڑے محتاط الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈینش ووٹروں کی ایک بھاری اکثریت غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں اور پناہ کے لئے آنے والے نئے مہاجرین کو کسی بھی لحاظ سے پسند نہیں کرتی ۔ ان کی اس ناپسندیدگی کو منافرت یا پھر نسلی تعصب بھی کہا جا سکتا ہے ۔
ڈنمارک کے بارے میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہاں اس طرح کے خیالات کا اظہار بڑی آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ ملک میں کسی مخصوص برادری کو رنگ و نسل اور مذہب و اقدار کے نام پر تعصب کا نشانہ بنانے کے خلاف قانون تو موجود ہے لیکن اس کا اطلاق جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ ڈینش پیپلز پارٹی اپنی انتخابی مہم کے دوران غیر ملکیوں کے حوالے سے اعلانیہ کہتی رہی ہے کہ “ تم جانتے ہوکہ ہماری پالیسیاں کیا ہیں “۔ کون نہیں جانتا کہ یہ پالیسیاں کیا ہیں۔ پارٹی کی خواہش ہے کہ مسلمانوں کے لئے ڈنمارک کے دروازے بند کر دئے جائیں ۔ بعض مساجد کو تالے لگا دئے جائیں ۔ مساجد کی نگرانی کی جائے کہ وہاں عسکریت پسندی کا پرچار نہ ہو سکے۔ پناہ گزینوں کو پڑوسی ملکوں میں کیمپوں میں رکھ کر وہاں ان کی مدد کی جائے۔ جرم کرنے والے غیر ملکی کو ملک بدر کر دیا جائے ۔ ڈینش شہریت حاصل کر لینے والے غیر ملکی پس منظر کے حامل اگر دس سال کے اندر کوئی جرم کرتے ہیں تو اُن سے ڈینش شہریت واپس لے لی جائے ۔
ڈینش پیپلز پارٹی ان سب باتوں کو اپنی پارٹی سیاست کے لیے ایک کلیدی حیثیت قرار دیتی ہے اور دائیں بازو میں وینسٹرا پارٹی بھی اِن میں سے کئی ایک نکات پر متفق ہے یا کسی نا کسی حد تک ان کی حمایت کرتی ہے۔ وینسٹرا پارٹی کے چیئرپرسن لارس لکے راسموسن اپنی انتخابی مہم کے دوران خود بھی بار بار یہ دہراتے رہے ہیں کہ غیر ملکیوں کے جمگھٹوں کو ختم کیا جائے گا۔ تارکین وطن نوجوانوں میں جرائم کے رجحان کے خلاف سخت اقدام کئے جائیں گے۔ انٹیگریشن کے لئے غیر ملکیوں سے سخت مطالبے کئے جائیں گے۔ نئے آنے والے مہاجرین کے لئے سماجی گرانٹس وغیرہ کو محدود اور وقت کے ساتھ کم سے کم کردیا جائے گا ۔ ڈنمارک کو سوشل گرانٹس آفس نہیں بننے دیا جائے گا۔ غیر ملکیوں کے امور سے نمٹنے کے لئے وزارت انٹگریشن قائم کی جائے گی ۔
اِن سب باتوں کو ڈنمارک کے لئے کتنا ہی مفید کیوں نہ سمجھا جائے اور ڈینش سیاستدان انہیں قومی پالیسیوں کا بیشک حصہ بنا لیں، باہر کی دنیا اسے قبول نہیں کرے گی۔ لیکن ڈنمارک کے پڑوسی ممالک سویڈن ، ناروے اور جرمنی کے علاوہ انسانی حقوق کی عالمی اور یورپی تنظیمیں انہیں اگر ان اقدامات کو انسانیت سوز اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف قرار دیں تو ڈنمارک کو کیا فرق پڑتا ہے کیونکہ یہاں تو ہر شے نرالی ہے اور یہی ڈنمارک کا طرہء امتیاز ہے!
اب حکومت سازی کا عمل جاری ہے اور ایک دو روز میں نئی حکومت بن کر سامنے آ جائے گی اور پھر معلوم ہو جائے گا کہ امیگریشن پالیسیوں میں سختی کے نام پر اگر کوئی کمی رہ گئی ہے تو نئی حکومت اسے کیسے پورا کرتی ہے۔ اور غیرملکیوں کا قافیہ تنگ کرنے کے لئے نئی حکومت کیا اقدامات لیتی ہے ۔
ملک میں آباد غیر ملکیوں کو شاید ابھی صورت حال کی سنگینی کا اندازہ نہیں ہے۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)