پاکستان میں سول ملٹری عدم توازن

  • اتوار 21 / جون / 2015
  • 5150

چند روز قبل سابق صدر زرداری کے پیپلز پارٹی کی میٹنگ میں غیرمتوقعہ اورغیرمتوازن جذباتی خطاب نے سیاسی اورحکومتی حلقوں میں ہلچل برپا کردی ہے۔ الیکٹرونک میڈیا اور وفاقی وزرا نے یک زبان ہو کر پی پی پی کے شریک چیرمین کو شدید تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ وفاقی حکومت، اخبارات، ٹی وی اینکرز، سیاسی مبصر اور تجزیہ کار بڑھ چڑھ کے زرداری کے بخیے ادھڑنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔ وزیراعظم نواز شریف بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہے۔

زردای کی تقریر کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی بجائے انکی مبینہ نئی اور پرانی کرپشن کی داستانوں کو دہرایا جا رہا ھے۔ الیکٹرونک میڈیا نے خودمختاری اورغیر جانبداری کا لبادہ اتار کر یک طرفہ پراپیگنڈا اور ڈس انفارمیشن پھیلانے کا بیڑہ اٹھا لیا ھے۔ الیکٹرونک میڈیا پر انیکرز اور تجزیہ کار زرداری پر تنقید کے بہانے مقتدر قوتوں کی تعریف و توصیف کا راگ الاپ رہے ہیں۔    

ایسا نظر آ رہا ھے کہ جیو ٹی وی کے خلاف عسکری اسٹیبلشمنٹ کی کاروائی، اسلام آباد میں دھرنے، پشاور میں آرمی سکول پر حملے، ضرب عضب اور کراچی میں کلین اپ اپریشن نے ملکی سیاسی منظرنامے میں سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن کو مزید بڑھا دیا ھے۔ یہ عدم توازن روز بروز عسکری اداروں کے پلڑے کے وزن میں اضافہ کر رہا ھے۔ انڈیا میں مودی سرکار کی پاکستان کے خلاف جارحانہ پالیسی نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ہے۔ اس بدلتے سیاسی منظر نامے میں بڑھتے ہوئے سول ملٹری عدم توازن کی واضع نشانیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

سابقہ زرداری حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے نواز شریف جمہوری اداروں کی بالادستی قائم کرنے کے بلند بانگ دعوؤں سے دستبردار ہو کر سجدہ سہو ادا کرکے مقتدراداروں کی بالادستی قبول کر چکے ہیں۔ نواز حکومت خارجہ امور، داخلی سلامتی اور دفاعی امور کی پالسی سازی کا اختیار عملا کھو بیٹھی ھے۔ جبکہ معاشی پالیسی سازی میں مقتدر اداروں کے دباؤ کے ساتھ ساتھ  بین الاقوامی اداروں کے دباؤ سے باہر نکلنے کی ہمت بھی کھو بیٹھی ھے۔

بلوچستان اور فاٹا کے بعد سندھ میں بھی سول سیکورٹی ادارے امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو چکے ھیں۔ بلوچستان اور فاٹا میں مسلح افواج براہ راست برسر پیکارہیں جبکہ سندھ میں ایک جنرل کی قیادت میں رینجرز نے جرائم کے خاتمے اور امن قایم کرنے کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ جرائم کے خاتمہ کے حوالے سے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے رینجرز نے شہر کے سول انتظامی معاملات میں غیر قانونی اور غیرآئینی مداخلت سے بھی پرہیز نیہں کیا۔ قانونی اختیار سے تجاوز کرکے رینجرز نے اپنے کارنامے مشتہر کرنے کے لئے پریس ریلیز جاری کرنے شروع کر دئے ہیں۔ کورکمانڈر کراچی کھلےعام سیاسی تقاریرکرتے ہیں جنہیں براہ راست ٹی وی پر نشر کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ وفاقی حکومت یا عسکری قیادت ان غیرآیئنی اورغیرقانونی سرگرمیوں پر رد عمل ظاہر کرنے یا مسقبل میں ایسا نہ دہرائے جانے سے معذور نظر آتیں ہیں۔

کیا کراچی میں سیکورٹی اداروں کی آیئنی اور قانونی اختیار سے بالاتر کاروائیاں شہر میں نظم و نسق بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔ کیا سول اور سیاسی انتظامیہ کو غیرقانونی طریقوں سے بے اثر بنا کر اور دیوار سے لگا کراچی شہر یا ملک میں امن و امان یا سول انتظامی نظم ونسق کو بہتر بنایا جاسکتا ہے اور کیا رینجرز یا کوئی اور عسکری ادارہ سول انتظامیہ کا متبادل بن سکتا ہے۔ سب سے بڑھ کے یہ کہ کیا عسکری سیکورٹی ادارے سول انتظامیہ کےطابع رہ کر عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم کرتے ہیں۔

وفاقی حکومت کی بعض بنیادی معاملات پر کنٹرول سے محرومی یا دستبرداری اور کراچی کا منظر نامہ کچھ اور ہی سمت اشارہ کررہے ہیں۔ سول اور ملٹری تعلقات میں بڑھتا ہؤا عدم توازن عوام کو انکے حق حکمرانی سے محروم کرنے کے مترادف کہا جا سکتا ھے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی جمہوریت اور جمہوری اداروں کے استحکام کو شدید چیلنج درپیش ہو چکے ہیں۔ فوجی آمرانہ ادوار میں سول اداروں کو ناکارہ اورعضو معطل بنایا گیا۔ ان ادوار میں کرپشن ہر ادارے میں سرایت کر گئی۔ اور سول انتظامیہ کو بے اثر اور نا اہل بنا دیا ۔

فوجی آمروں نے اقتدار کو طول دینے کے لیے پٹھو اور کرپٹ سیاستدانوں کی فوج طفر موج تیار کی۔ فوجی آمر ٹولے اور انکے طفیلی سیاستدانوں نے آمریت کے زیر سایہ بدعنوانی اور کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔  کیا بلوچستان، کراچی، فاٹا اور ملک کے موجودہ سول انتظامی معاملات کو اس پس منظر سے ہٹ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ کیا ملک کے حالات یہاں تک پہنچانے میں سب سے بڑا حصہ ان آمرانہ ادوار کا نیہں ہے۔ مگر اس کا قطعا یہ مطلب نیہں کہ جمہوریت کے نام پر وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی بد انتظامی، نا اہلی اور کرپشن پر پردہ ڈالا جائے۔ آج کی سیاسی حکومتوں کو ملکی مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری سے بھی مبرا قرار نیہں دیا جا سکتا۔ مگر کرپشن اور بد انتظامی کے بہانے سول اداروں کو مزید بے اثر کرنے اور جمہوری نظام کی بساط الٹنے کی اجازت بھی نیہں دی جا سکتی۔                                                                      

قبائیلی علاقوں میں ضرب عضب سے دہشت گردی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کا پرعزم عملی مظاہرہ کیا ہے۔ پوری قوم  مسلح افواج کے عزم اور انکی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ مگر ضرب عضب،  نیشنل ایکشن پلان اور کراچی میں کلین اپ اپریشن کو جمہوری و سول اداروں اور جمہوری نظام کے لئے استحکام لانے کا موجب بننا چاہئیے نہ کہ اس کے اثرات ملک میں غیر جمہوری قوتوں کو پروان چڑھانے اور جمہوریت کی بساط الٹنے کے لئے استعمال کئے جائیں۔

ماضی میں ہر طالع آزما فوجی آمر نے کرپشن، بد عنوانی اورنااہلی کے نعرے بلند کرکے سول یا جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا۔ اور بعد ازاں سب فوجی آمریتیں ان برایئوں کا منبع ثابت ہویئں۔ فوجی آمرانہ ادوار میں کرپشن، بدعنوانی اورلا قانونیت تو روز افزوں پرورش پاتی رہی۔ انسانی حقوق کی پامالی نے بھی بے مثال ریکارڈ بنائے۔ ایسا نظر آتا ہے کہ انہی گھسے پٹے نعروں سے ایک بار پھرغیر جمہوری قوتوں کے عمل دخل کو مزید بڑھاوا دینے کی باتوں کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی اور ملکی استحکام کے نام پر جمہوری نظام کو تلپٹ کرنے کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔ کئی سابق جنرل اور آمریت کے دلدادہ نام نہاد دانشور اس مقدس کام میں ہاتھ بٹانے میدان میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔

اس پس منظر میں جمہوری قوتوں کا اتحاد پارہ پارہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ اسکو غیرجمہوری قوتوں کی اہم کامیابی کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ سیاسی انتشار اور محاذ آرائی کے دور میں غیر جمہوری قوتوں کو اپنا مکروہ کھیل کھیلنے اور عوام کی حمایت حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اسلام آباد دھرنے کے نتیجے میں غیر جمہوری قوتیں کچھ اہم اور بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ ملک میں بڑھتا ہوا سیاسی ٹمپریچر اور محاذ آرائی غیر جمہوری قوتوں کے کھیل کھیلنے کے لئے زرخیز میدان ثابت ہو سکتا ہے۔

ان حالات میں وفاقی حکومت خصوصاً وزیراعظم نواز شریف کے کندھوں پراہم ذمہ داری  عاید ہوتی ہے۔ انہیں  جمہوری اداروں کے تحفظ اور سول انتطامیہ کے اختیارات کی بالادستی قائم کرنے کے لئے سیاسی اور جمہوری قوتوں میں اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنے کے لئے پہل کرنی چاہئیے۔ ورنہ یہ حالات یہاں رکنے والے نیہں۔ ایم کیو ایم اور پی پی پی کے بعد نواز لیگ کی باری آنے میں زیادہ دیر نیہں لگے گی۔