اہل اقتدارکا گرتا ہؤا معیار
- سوموار 22 / جون / 2015
- 4014
ہندوستانی عدلیہ اگرچہ کافی فعال ہے اس کے باوجود بے شمار مقدمے ایسے ہیں جنہیں ایک طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اگلی تاریخ کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ متاثرین اور اُن کے لواحقین و متعلقین کی جانب سے یہ بات بارہا سامنے آتی رہی ہے کہ ایسے کیسز کا فیصلہ جلد از جلد ہونا چاہیے۔
اس کے لئے حکومت نے جج صاحبان کی تعداد بڑھائی ہے اور فاسٹ ٹریک عدالتیں بھی قائم کی ہیں۔ اس کے باوجود مسائل اس رفتار سے حل ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں جو مطلوب ہے۔ دوسری جانب ملک میں پھیلتی بد عنوانی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس تعلق سے بھی نئی حکومت نے یہ امید دلائی تھی کہ اقتدار میں آنے کے بعد بدعنوانی پر شکنجہ کسا جائے گا۔ اور وہ لوگ جو بدعنوانی کے کیسز میں پکڑے جائیں گے ان کا فیصلہ فاسٹ ٹریک عدالتوں میں حل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بدعنوان رہنماؤں کے لیے بھی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔
حکومت اپنے یہ وعدے پورے کرنے میں ناکام ہے۔ یہ بات بھی سامنے آتی کہ گزشتہ پندرہ سالوں میں 53 فیصد فاسٹ ٹریک عدالتیں بند ہوگئی ہیں۔ دراصل انیل گلگلی نے وزیر اعظم کے دفتر سے وزیر اعظم مودی کا بدعنوان رہنماؤں کے معاملے میں فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرنے کے اعلان اور اسی کے تحت جاری کئے ہوئے حکم کی کاپی مانگی تھی۔ لیکن محکمہ انصاف کے انڈر سکریٹری پی پی گپتا نے صحیح معلومات نہیں دی۔ جس کے بعد انیل گلگلی نے وزرات قانون سے وضاحت طلب کی۔ تو اس کے بعد حکومت ہند کے محکمہ انصاف کے ڈائریکٹر پرشانت کمار پونو گوتی نے واضح کیا ہے کہ ایسا کو ئی بھی حکم وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے جاری نہیں کیا گیا کیونکہ اس کی ذمہ داری متعلقہ ریاستوں کی ہے۔
انیل گلگلی کو ملک کی 29 ریاستوں میں 2000ء میں منظور فاسٹ ٹریک کورٹس کی تعداد اور اس وقت کتنی فاسٹ ٹریک کورٹس کام کررہی ہیں، کی معلومات دی گئی ہیں۔ معلومات کی روشنی میں ملک کی 29 ریاستوں میں کل 1734 فاسٹ ٹریک کورٹ کو سال2000ء میں منظوری دے دی گئی تھی۔ لیکن فی الحال صرف 815فاسٹ ٹریک کورٹس کام کررہی ہیں۔ ریاست بہار میں سب سے زیادہ179فاسٹ ٹریک کورٹس ہیں۔ مہاراشٹر میں 92، مدھیہ پردیش میں 84، مغربی بنگال میں 77، آندھراپردیش میں 72 عدالتین موجود ہیں۔ نریندر مودی کی ریاست گجرات میں صرف پانچ سال پہلے 166 فاسٹ ٹریک کورٹس قائم ہئی تھیں، ان میں سے 105 بند ہو چکی ہیں۔
اب وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا گیا ہے کی جن ریاستوں میں فاست ٹریک کورٹس کام نہیں کررہیں ، ان سے جواب طلبی کی جائے۔ اس بارے میں انیل گلگلی نے وزیر اعظم کو ایک خط لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجرم اور سیاسی لیڈروں کی ملی بھگت توڑنے کے لیے ایسی فاسٹ ٹریک کورٹس ضروری ہیں۔ نیزتمام وزیر اعلیٰ اور چیف سکریٹریز کی میٹنگ بلاکر اس ضمن میں حکم دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ گلگلی کی یہ کوشش قابل قدر ہے خصوصاً ان حالات میں جبکہ ایک جانب عام عدالتوں میں بے شمار کیسز موجود ہیں تو وہیں اِس پس منظر میں بھی کہ ملک میں ملزم اور مجرم کا فرق بہت جلد واضح ہونا چاہیے۔ اگر جرم ثابت ہو جائے تو ایسے مجرمین کو جلد از جلد سزا بھی دلوائی جانی ممکن ہو۔ خصوصاً ان حالات میں جبکہ ایسے مجرمین نہ صرف سماج کے تانے بانے کو بلکہ ملک کی معیشت کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہوں۔
کرپشن اورملک کی معیشت کے پس منظر میں آج کل للت مودی کے تعلق سے جو گہما گہمی اور اندیشہ وامکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں، وہ بھی کچھ اہم نہیں ہیں۔ خصوصاً ان حالات میں جبکہ ایجنسیوں کے ذریعہ یہ خبر گردش میں ہے کہ لندن کے بینٹلے ہوٹل کے مالک جوگیندر سانگیر ایک ٹی وی چینل کو انٹریو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ سال ان کے ہوٹل میں سشما اور للت کی ملاقات ہوئی تھی۔ ہوٹل کے بل چیک کے ذریعہ ہندوستانی ہائی کمیشن نے ادا دیے تھے۔ متذکرہ ڈنر میں جوگیندر سانگیر کے خاندان سے 5، نیٹ پوری کے خاندان کے 4 رکن اور للت مودی شامل تھے۔ ساتھ ہی سشما سوراج کے ساتھ ان کا اسسٹنٹ بھی موجود تھا۔
سشما سوراج اور للت مودی کے درمیان ملاقات کی بات سامنے آنے پر کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ ہندوستان میں بدعنوانی کے ملزم سے سماجی تقریب میں کیوں ملیں؟ دراصل آئی پی ایل میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کی یوپی اے حکومت کی طرف سے تحقیقات شروع کئے جانے کے بعد 2010ء سے آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی برطانیہ میں رہ رہے ہیں۔ حکومت نے ان کا پاسپورٹ ضبظ کرلیا تھا لیکن گزشتہ سال اگست میں دہلی ہائی کورٹ نے اسے دوبارہ بحال کر دیا تھا۔ وزرات خزانہ مودی کے پاسپورٹ کو بحال کئے جانے کو چیلنج کرنے کے حق میں تھی لیکن وزرات خارجہ کی طرف سے اپیل دائر نہیں ہوئی۔
سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے اس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ سشما سوراج کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ انہوں نے للت مودی کو برطانیہ کے سفری دستاویزات میں مدد کرنے کے بجائے ہندوستانی ہائی کمیشن میں سفر دستاویزات داخل کرنے کے لئے کیوں نہیں کہا؟ بی جے پی اس پورے معاملے میں داغی آئی پی ایل چیئر مین مودی کی مدد کرنے کے معاملہ پر سشما سوراج کے دفاع میں کھڑی نظر آرہی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ نے انسانیت کی بنیادپر للت مودی کی مدد کی تھی۔
کانگریسی لیڈر دگوجے سنگھ کا یہ ٹوئٹ وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بڑے مودی نے چھوٹے مودی سے دو پرندوں کا شکار کر لیا۔ دو پرندوں سے ان کا اشارہ سشما اور وسندھرا راجے کی طرف ہے۔ لیکن اس پورے معاملے پر وزیر اعظم کی جانب سے اب تک خاموشی ہے۔ اس کے باوجود پارٹی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ سشما سوراج اور وسندھرا راجے کے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں مانا جا سکتا۔
بی بی سی کے سینئر جرنلسٹ سدھارتھ دردراجن اِس معاملے میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ ایک ہفتے پہلے ہی وزیر اعظم نے ٹربیون کے ساتھ انٹریو میں کہا تھا کہ عوام کے لئے اچھے دن تب ہی آئیں گے جب پرانے دنوں کی دوست بدعنوانی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ تو پھر کابینہ کے سینئر ارکان کی طرف سے ایک بھگوڑے کی مدد کرنے پر وہ کیسے خاموش ہیں؟
یہ ساری صورت حال اخلاقی زوال کی مظہر ہے۔ اس کا سیاسی نقصان بھی ہو رہا ہے۔ لگتا ہے کہ وزیر اعظم نے اس کا اندازہ بھی کر لیا ہے۔ سدھارتھ دردراجن کا یہ تجزیہ صحیح یا غلط، اس کا فیصلہ تو عوام ہی کریں گے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ فی الوقت بی جے پی کے لیڈر حد درجہ اخلاقی پستی میں ملوث ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ لازماً اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے۔ ساتھ ہی للت مودی جن پر450 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں، اُن کو ملک میں بلا تے اور فاسٹ ٹریک عدالت کے ذریعہ الزامات کا فیصلہ کرواتے۔ یہ معاملہ اس پس منظر میں ذیادہ اہم ہو گیا ہے کہ للت مودی اور نریندر مودی حکومت کے کئی افراد ایک دوسرے کے رابطہ میں ہیں۔
آخر میں سماجی تنظیم انہد کی جانب سے شائع مودی حکومت کے ایک سالہ دور اقتدار پر وہ رپورٹ بھی کچھ کم اہم نہیں جس میں ملک کے 13الگ الگ ماہرین کی تنقیدی رائے کے ساتھ ان کے تجربات کو شائع کیا گیا ہے۔اس موقع پر شبنم ہاشمی نے کہا کہ مودی حکومت کے ایک سالہ دور اقتدار میں ہندوستان کی شان ، اس کے سیکولرزم اور جمہوریت کو جو نقصان پہنچا ہے وہ نا قابل تلافی ہے۔وہیں لال کرشن اڈوانی کہتے ہیں کہ موجودہ دور میں جمہوریت کو کچلنے والی طاقتیں سرگرم ہو گئی ہیں۔جس کی وجہ سے ایمرجنسی کی واپسی کے خدشے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔تودوسری جانبجے ڈی یو کے نتیش کمار کہتے ہیں کہ اڈوانی ملک کے سینئر لیڈر ہیں، انہیں فکر ہے تو اس پر سب کو دھیان دینا چاہیے!