زرداری کی للکار، فوج خاموش

  • سوموار 22 / جون / 2015
  • 4353

آصف علی زرداری کے للکارنے کے باوجود فوج خاموش ہے۔ ایسے موقع پر فوج ہمیشہ خاموش رہتی ہے ۔ملک کے فوجی سربراہ جنر ل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ میرا خاندان شہیدوں کا ہے یا پھر غازی اور اب تو وہ سارے ملک میں ضرب عضب کر کے ہی دم لیں گے۔ لہٰذا اب اور صحیح معنوں میں اس ملک میں جھاڑو پھرنے والا ہے ۔ جسکی بازگشت پہلے نائن زیرو ، اب بلاول ہاؤس اور پھر رائے ونڈ کے محل میں سنائی دے گی ۔

سیاست دان اپنی غلطیوں اور غلط حرکتوں کی وجہ سے ایسے حالات خود پیدا کرتے ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ اسکی گواہ ہے ۔ یہ حکمران بنتے ہی عوام کے بجائے اپنے جیالوں اور کارکنوں کو نوازنے لگتے ہیں۔ وڈیروں کے بل بوتے پر حکومت کرتے ہیں اور دھاندلیوں کے ذریعہ عوام کے مقدس ووٹ کی توہین کر کے اقتدار پر قابض ہوتے ہیں۔ پھر طاقت کے نشے میں یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں عوام کی خدمت کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ گئے کہ میں تو کمزور ہوں البتہ میری کرسی مضبوط ہے جس کو کوئی ہلا نہیں سکتا ۔

اب آصف زرداری ان سے چار ہاتھ آگے بڑھ کر باتیں کر رہے ہیں ۔ ان کے پاس اپنے دور اقتدار میں تاش کے چار یکے تھے۔ وہ تین کھیل چکے ہیں اور آخری یکہ بلاول کو اپوزیشن لیڈر بنا کر میدان میں اتارنا چاہتے ہیں۔ تین کی طرح چوتھا بھی ضائع جائے گا۔ یہ صرف سندھ کے چنددیہاتوں کی سیاست کر پائیں گے۔ آصف زرداری نے فوج کے خلاف جو بیان دیا یعنی اسٹیبلشمنٹ اور فوج کو جو للکارا ہے اس کے پیچھے بہت گہری سازش ہے ۔ پچھلے ماہ یہ کا بل جانے سے قبل اسلام آباد دو بار آئے تاکہ ان کی ملاقات اعلیٰ عسکری قیادت سے ہو جائے مگر وہ اس میں ناکام رہے ۔ ان کو واضح پیغام دے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ کابل چلے گئے ۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی اور بھارتی نواز وزیر اعظم عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کی ۔ باوثوق ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے بھارتی سفیر سے بھی ملاقات کی تھی ۔ جس میں سندھ کی خراب صورتحال کی بات بھی ہوئی۔ تاثر یہ تھا کہ وہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی رہائی کے سلسلہ کابل میں گئے تھے ۔ زرداری فوج کو مخاطب کر کے بہت کچھ کہہ گئے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس وقت روس کے دورہ پر تھے۔ اس موقع پر ہی زرداری نے کیوں فوج کو للکارا؟ اس کے اگلے روز نواز شریف نے زرداری کو اپنے گھر کھانے پر مدعو کیا ہوا تھا ۔ مقررہ وقت سے کچھ دیر قبل یہ دعوت منسوخ کر دی گئی ۔ انہوں نے یہ ایسافوجی قیادت پر سخت الفاظ میں تنقید کرنے پر کیا۔یہ فیصلہ وزیر اعظم نے اپنے اہم پارٹی عہدیداروں کے مشاورتی اجلاس کے بعد کیا ۔
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یا رانے گئے
لیکن اتنا تو ہؤا کچھ لوگ پہچانے گئے

پہلے جب نائن زیرو الطاف حسین کے گھر پر رینجرز نے چھاپہ مارا تھا تو زرداری نے کہا تھاکہ یہ چھاپے صرف کریمینل کے خلاف ہیں ۔اب جب اپنے گھر تک اور ان کے گریبانوں تک بات پہنچی تو بپھر گئے، چلا اٹھے اور للکارنے لگے۔ خطاب کے دوران ان کے باڈی لینگویج سے ظاہر تھا کہ وہ کیوں پریشان ہیں ۔بلاول ہاؤس کا گھیرا تنگ ہونا۔ انکے پڑوس کے بنگلوں سے دو دو ارب روپے برآمد ہونا ۔ پاؤنڈوں اور ڈالروں سے بھری لانچیں پکڑی جا نا ۔آغا سراج درانی اسپیکر سندھ اسمبلی کے بنگلے میں ایک ارب روپیہ جل جانا اور جو باقی روپے بچے اس کا پتہ نہیں ۔ اس کے علاوہ زرداری کے قریبی ساتھیوں کی گرفتار یاں اور کراچی بلڈنگ اتھارٹی پر چھاپہ ۔ وہاں سے چائنہ کٹنگ فائلیں برآمد ہونا جو ٹارگٹ کلنگ کے ذریعہ لوگوں کی جائیدادوں پر قبضہ کر نے کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ رینجرز کا کہنا ہے کہ کراچی بھتہ مافیا اور ناجائز ذرائع سے حاصل رقم 230ارب سالانہ وصول ہوتی ہے۔ جو قومی خزانہ کا نقصان ہے۔ میرے ذاتی اندازے کے مطابق یہ رقم کھربوں میں ہے ۔

دو سال قبل میں نے کراچی کے مافیاز پرایک آرٹیکل لکھا تھا جس میں تمام قسم کے مافیا کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس میں اعلی سیاسی قیادت اور افسروں کو وصول ہونے والے بھتے کا ذکر تھا۔اس کا ثبوت اب لینڈ مافیا یاسر اور منظور کاکا کے بیان او ر وائس چئیر مین فش ہاربر سلطان قمر صدیقی کے اعتراف سے بھی مل رہا ہے۔ یہی بات محمد علی شیخ لینڈ مافیا کا ماسٹر مائینڈبھی کہتا ہے۔ وہ زرداری کے منہ بولے بھائی اویس پٹی کا ساتھی ہے ۔ اس کے انکشافات کی وجہ سے اویس پٹی کو کراچی ائیر پورٹ پر روک لیا گیا تھا ۔بعد میں چوہدری شجاعت کی ضمانت پرملک سے باہر جا نے کی اجازت ملی ۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے ECLپر ایسے لوگوں کو ڈال دیا گیا ہے جو ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔

ابھی ماڈل ایان علی کے علاوہ بڑے بڑے اسکینڈل سامنے آئیں گے جسکی وجہ سے آصف زرداری کی پریشانی بجا ہے۔ چونکہ یہ تمام ماسٹر مائینڈ مافیاان کے قریبی اور رازدان ہیں۔ زرداری کہتے ہیں میں جب کھڑا ہو گیا توکراچی سے فاٹا تک سب کچھ بند کر دونگا ۔ اس سے پہلے بھٹو نے بھی کہا تھا ۔ میرے ساتھ کراچی سے خیبر تک عوام ہے جو پورا پاکستان بند کر دے گی۔ پھر عوام نے دیکھا وہ اپنا شہر لاڑکانہ تک بند نہ کر سکے۔ اب زرداری صاحب بھی اپنا شوق پورا کر لیں۔ وہ اپنا شہر نواب شاہ تک بند نہیں کرا سکتے۔ اب میثاق جمہوریت کا معاہدہ کھل کر سامنے آگیا ہے ۔ عمران خان کے بقول انہوں نے اپنی اپنی باری لگائی ہوئی ہے ۔ اب زرداری بھاری نہیں بلکہ کاری ہونگے اور مجھے تو آئندہ یہ نظر آ رہا ہے ایک بار پھر ملک کا جمہوری آئین توڑ دیا جائے گا ۔ البتہ اس سے پہلے سندھ میں گورنر راج ممکن ہے جس کے ذریعہ کڑا احتساب ہو گا ۔

جمہوریت کے ایوان میں یہ گونج سنائی دے رہی ہے کہ اس بار جمہوریت کی صف لپٹنے والی ہے اور صدارتی نظام آرہا ہے۔ جسکے درپردہ کوششیں جاری ہیں اور یہی اس مسلہ کا حل بھی ہے ۔ بدعنوان جمہوریت سے لوگ اب تنگ آچکے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک اور عوام کا مستقبل روشن کر دے اور ملک میں حقیقی عدل و انصاف قائم ہو جائے۔