دو دن میں چار سو مقتول
- منگل 23 / جون / 2015
- 3797
طبعی موت مرنے کا رواج تو بہت سالوں پہلے ہی ختم پو گیا تھا۔ قتل ہونے والے کو دوبارہ قتل کرنے کا رواج پہلے اتنا عام نہیں تھا جتنا آج کل ہے۔
عجیب بات ہے بعض معاشروں میں انسانی زندگی کو بچانے اور اس کے تحفظ کے لئے جس تیزی سے کام ہؤا۔ ہمارے معاشرے میں اتنی ہی تیزی سے انسان کو موت کے کنوئیں میں دھکیلنے کا کام ہورہا ہے۔
یہاں کسی بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کو قتل کرنے کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے۔ اور بعض جگہوں پر تو یہ کام اسکے پیدا ہونے سے پہلے ہی یعنی جب وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے، اسے قتل کرنے کا انتظام کر دیا جاتا ہے۔ ماں کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھ کر اسے جاہل دائیوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ اس صورت میں یا تو زچہ بچہ دونوں کو قتل کر دیا جاتا ہے یا ان میں سے ایک کو قتل کر دیا جاتا ہے۔
اگر بچہ بچ نکلے تو اسے ملاوٹ شدہ خوراک دے کر ( اور وہ بھی انتہائی کم مقدار میں ) یا پھر ملاوٹ شدہ ادویات دے کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ اگر وہ سخت جان ان سب سے بھی بچ نکلے تو اسے گلی یا سڑک کے کھلے گٹر میں گرا کر قتل کر دیا جاتا ہے ۔
مگر ڈھیٹ انسان ان سب مشکلوں سے بچ نکلنے کی جد و جہد کرتا رہتا ہے۔ ذرا سا بڑا ہوتا ہے تو مذہب کے ٹھیکدار اسے اپنے اپنے فرقے کا ممبر بنا کر، اسے دوسرے فرقے کے آگے پیش کر دیتے ہیں تاکہ وہ اس کو کافر قرارا دے کر اس کو قتل کر دیں۔ مگر یہ مذہب کے ٹھیکدار حساب کے پکے ہیں جتنے مقتول دیتے ہیں اتنے ہی مقتول لیتے بھی ہیں۔
اور پھر ریاست کا جب لوگوں کا اس طرح قتل کرنے سے دل نہیں بھرتا تو وہ لوگوں کو غدار قرار دے انھیں پھانسی دے دیتی ہے۔ کبھی ٹارچر سلوں میں آزار بند گلوں میں ڈال کر خود کُشی کروا دیتی ہے اور کبھی دل کا دورہ پڑوا کر قتل کرتی رہتی ہے۔
پہلے یہ سب ایک بار ہی قتل ہوتے تھے مگر اب ریاست کے ساتھ کچھ موت کے سوداگروں کی قتل کرنے کی ہوس اتنی بڑھ گئی ہے کہ دس بیس سالوں سے لوگوں کو بار بار قتل کیا جاتا ہے۔
کیا آپ ایمانداری سے یہ سمجتھے ہیں کہ کراچی میں جو دو دنوں میں گرمی پیاس سے چار سو لوگ قتل ہوئے یہ سب زندہ تھے ؟ نہیں جناب ان کو گندہ پانی پلاپلا کر پہلے ہی قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے سروں سے سائبان چھین لیا گیا اور فقط آگ اگلتے سورج کے سامنے رکھ کر ان کو قتل کر دیا گیا۔
یہ سب پہلے ہی جب سورج سوا نیزے پہ تھا تو یہ مزدوری ڈھنوڈتے ڈھنوڈتے قتل ہو چکے تھے ۔ یہ اس شہر کے وہ مقتول تھے جو دو دو بار قتل ہو ئے ہیں۔ اب ان میں سے کسی کو دوسری باری کسی کو تیسری بار قتل کر کے ان کی لاشیں ان سرد خانوں میں رکھ دی گئی ہیں جہاں ائیر کنڈیشن بند ہیں تاکہ اسمبلی ہال سرد رکھے جاسکیں۔ یہ مردہ خانے اسی طرح گرم ہیں جیسے شہر کی سڑکیں گرم ہیں۔
ان قتل ہونے والوں کی لاشوں پر سورج اب بھی ویسے ہی آگ پھینک رہا ہے جیسے ان کی زندگی میں وہ انہیں اپنا شکار کرتا تھا۔