برطانیہ میں پاکستانی کمیونیٹی اور مسائل

  • منگل 23 / جون / 2015
  • 4048

ہر معاشرے میں شریکِ زندگی کی تلاش، اس کا حصول اور پھر اس کے ساتھ نباہ کی کوششیں انسان کو مسائل سے دوچار کرتی ہیں۔ دنیا میں جیسے جیسے عورتوں کے لئے تعلیم اور ملازمت کے مواقع بڑھتے گئے، ان مسائل میں پیچیدگی آتی گئی۔

مغربی ممالک میں گھر کے سب کام کاج خود کرنا پڑتے ہیں کیونکہ ملازموں کی اجرت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مغربی اقوام کے مردوں کی اکثریت اس بات کو بخوشی قبول کر چکی ہے کہ گھر داری اور بچوں کی دیکھ بھال میں عورتوں کا ہاتھ بٹانا ان کا فرض ہے۔ جبکہ ہماری کمیونٹی میں بہت کم مرد ایسے سوچتے ہیں۔ وہ اپنی کمیونٹی کی تعلیم یافتہ، بالخصوص ملازمت کرنے کی خواہش مند لڑکیوں سے اس لئے ‘‘بے رُخٰی’’ برتتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ گھر داری اور بچوں کی دیکھ بھال ان کی بیویوں کی ذمہ داری ہو۔ اور اسی وجہ سے یورپی لڑکیوں کے ساتھ کالج یا یونیورسٹی میں ان کی دوستیاں تو ہو جاتی ہیں شادیاں کم کم ہی ہوتی ہیں۔

بہت سے لڑکے پاکستان سے دلہن لے آتے ہیں۔ لڑکیوں کے لئے ایسا کرنا بہت دشوار ہوتا ہے کیونکہ وہاں سے آنے والے لڑکوں کو ویزہ اور پھر یہاں آکے روزگارملنا بہت مشکل ہوتا ہے جبکہ لڑکیوں کو صرف گھر سنبھالنا ہوتا ہے۔ اسی لئے انہیں ویزہ بھی آسانی سے مل جاتا ہے۔ چنانچہ یہاں پڑھی لکھی لڑکیوں کے لئے موزوں رشتوں کی کمی ایک مسئلہ ہے۔

مغربی ممالک میں پاکستانیوں کے مقیم ہونے کی وجوہات ‘‘سُرخ فیتے کے چکر، لاقانونیت، فرقہ واریت، ریاست کی طرف سے نجی زندگی میں مداخلت’’ نہ ہونے کے علاوہ یہاں ان کی بحیثیت بنی آدم تکریم ہونا، عزتِ نفس کا پاس کیا جانا، سفارش کے بغیر روزگار کے مواقع اور دیگر سہولتوں کا میسر آنا ہیں۔

اور یہ جو ‘‘ ہر بار اِس نوع کے کالم پڑھنے کے بعد دو چار نوجوان ۔ ۔ ۔ لجاجت بھرے لہجے میں ۔ ۔ ۔ برطانوی ۔ ۔ ۔ ویزہ ’’ لگوانے کی درخواست کرتے ہیں،  تو اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں ایسے کالموں میں کہی گئیں “ باعثِ عبرت “  باتیں بھول جاتی ہیں اور پاکستانی لڑکوں کا ‘‘ میموں کو بغلوں میں لے کر گھومنا ’’ یاد رہتا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایسے جملے تحریر کو دلچسپ بنانے کے لئے لکھے جاتے ہیں۔ انہیں یہاں سے ہو کے جانے والا کوئی بھی پاکستانی بتا سکتا ہے کہ ایسے مناظر خال خال نظر آتے ہیں۔ کئی وزیٹر تو حیرت سے یہ کہتے ہیں کہ ‘‘ یہ تو بڑا پسماندہ  ملک ہے، ہم نے تو طرح طرح کی کہانیاں سنی تھیں۔’’ دراصل انہوں نے صرف “ گوریوں “  کا ذکر سنا ہوتا ہے، اب انہیں پتا چلتا ہے کہ یہاں اتنی ہی تعداد میں گورے بھی ہوتے ہیں۔

اپنے اپنے تجربے اور سوچنے کی بات ہے۔ اگر کچھ پاکستانی یہاں رہ جانے کو ایک غلطی جان کے پچھتاتے ہیں تو بہت سے ایسے بھی ہیں جو یہاں بس جانے پہ بہت خوش ہیں، اگرچہ پاکستان کو بہت یاد کرتے ہیں۔

‘‘ بیٹیوں کو رسیوں سے باندھ کر گھروں میں بند ’’ کئے جانے کے واقعات برطانیہ کی نسبت پاکستان میں کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں، حالانکہ وہاں ان لڑکیوں نے پاکستانی مسلمان لڑکوں سے شادی یا شادی کی خواہش کی ہوتی ہے۔

یہاں آباد کمیونٹی کو اور بھی کئی مسائل کا سامنا ہے۔ یہ موضوع ایسا ہے کہ بات شروع ہو جائے تو ختم ہونے میں نہیں آتی۔  اس موضوع کے حوالے سے  میں اپنے دو تین شعر احباب کی خدمت میں پیش کر کے اجازت چاہوں گا:

ابھی زمین پہ جنت نہیں بنی یارو
جہاں کے قصے سناتے ہو ہم وہاں بھی رہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری
ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
نہیں کچھ فرق اب رہئے جہاں بھی
یہاں بھی دل جلے گا اور وہاں بھی
 

(باصر کاظمی اردو کے صاحب طرز شاعر ہونے کے علاوہ دانشور اور استاد ہیں۔ گزشتہ دنوں برطانیہ میں تارکین وطن اور لڑکیوں کے رشتوں کے مسائل کے حوالے سے ایک بحث میں انہوں نے یہ تبصرہ کیا تھا۔ ہم اسے یہاں پر قارئین کی دلچسپی کے لئے شائع کرہے ہیں۔)