ڈنمارک میں مشکل دور کا آغاز
- منگل 23 / جون / 2015
- 3886
ڈنمارک میں پارلیمانی انتخابات کرائے جا چکے ہیں ۔ وینسٹرا پارٹی کی قیادت میں دائیں بازو کی ’’ اکثریتی حکومت ‘‘ تو تشکیل نہیں ہو پائی البتہ اب “ اقلیتی حکومت “ بنانے کے لیے وینسٹرا پارٹی کے چیئرمین لارس لکے راسموسن ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں ۔
اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ چند دنوں میں معلوم ہو جائے گا۔ لیکن ایک بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ انتخابات میں، انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست ڈینش پیپلز پارٹی کی دھماکہ خیز کامیابی ایک بڑی سیاسی مصیبت و آفت کا پیشہ خیمہ ہے ۔ غیر ملکیوں اور خاص کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہ پارٹی جو اقدامات لینا چاہتی ہے، اس کے منفی پہلوؤں کا کا تصور بھی محال ہے ۔ تارکین وطن کو ڈینش شہریوں کے طور پر اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے سب سے پہلے ڈینش پیپلز پارٹی کی کامیابی کی وجوہات پر نگاہ ڈالنی ہوگی ۔
پارلیمانی انتخابات میں ڈینش پیپلز پارٹی کا اکیس عشاریہ ایک فیصد ووٹ حاصل کرنا اور پارلیمنٹ میں ایک طاقتور پارٹی کے طور پر سامنے آنا، دارصل ایک بڑی مصیبت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ اب قومی یکجہتی اور اتحاد کا دور لد گیا ہے ۔
کم و بیش ہر پانچویں رائے دہندہ نے ڈینش پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ہے جس کے متعلق یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ یہ پارٹی غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں سے نفرت کرتی ہے اورانہیں حقیر سمجھتے ہوئے اُن کے خلاف اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر اپنے پارٹی پروگرام میں سر فہرست رکھتی ہے ۔
مستقبل کی دائیں بازو کی ایک ’’ اکثریتی حکومت ‘‘ بنے یا ایک ’’ اقلیتی حکومت ‘‘ ، ڈینش پیپلز پارٹی کی قوت اور اس حکومت میں اس کی شمولیت اس بات کا بثوت ہوگی کہ اب ڈنمارک میں ڈینش پیپلز پارٹی سمیت دائیں بازو کی دوسری جماعتوں کی ایسی حکومت ہو گی جسے ’’ انتہائی دائیں بازو کی اکثریت والی ‘‘ حکومت کہا جا سکے گا۔ خواہ یہ ’’ اقلیتی حکومت ‘‘ ہی کیوں نہ ہو ۔ یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ ڈینش پیپلز پارٹی کے رہنما کرسٹیئن تھولسن ڈاہل نے اپنے آبائی حلقے میں اڑتالیس عشاریہ پانچ فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں اور جیسا کہ انھوں نے پارٹی کی کامیابی پر منائے جشن میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے: “ ڈینش پیپلز پارٹی اصل میں اب عوامی پارٹی بننے کی شاہراہ پر چل پڑی ہے۔ وہ ایک ایسی بڑی پارٹی بن چکی ہے، جس کے لیے ہم سالہا سال سے کوشاں رہے ہیں “ ۔
تھولسن ڈاہل دبے لفظوں میں جو پیغام دے رہے تھے، ہم اس کی شدت اور اس میں مضمر اثرات کو محسوس کرتے ہوئے یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ کیا اکیس فیصد ڈینش “ نسل پرست “ ہیں ؟
ڈینش پیپلز پارٹی کی اِس کامیابی میں جہاں ڈینش لوگوں کی نسل پرستی، غیر ملکیوں اور مسلمان مخالف رویہ شامل ہے وہاں اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں سابق حکمران ، سوشل ڈیموکریٹ پارٹی اور اقتدار میں شامل ریڈیکل پارٹی ک بھی کسی حد تک کردار شامل ہے ۔ سوشل ڈیموکریٹ کا پچھلے انتخابی وعدوں کو پورا نہ کرنا، اپنے چار سال اقتدار کے دوران سماجی مصارف میں کٹوتیاں کرنا، بیروزگاری الاؤنس کی سہولتوں میں سختیاں کرنا وغیرہ رائے دہندگان کو پایوس کرنے کا سبب بنا ۔
حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بھی سوشل ڈیموکریٹ پارٹی بیروز گاری الاؤنس کو ایک مناسب حد تک بڑھانے اور اس کے دورانیئے میں کی گئی سختیوں کو نرم کرنے کے متعلق کوئی ٹھوس پالیسی سامنے لانے میں ناکام رہی تھی ۔ صرف انھد نسٹن پارٹی اور ایس ایف دونوں اس میں تبدیلیاں لانے اور بیروزگاروں اور پسماندہ لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے اعلانیہ اپنی پالیسیوں کا ڈٹ کر اظہار کرتی رہیں ہیں۔ سوشل ڈیموکریٹ پارٹی امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے کم و بیش وہی راگنی الاپتی رہی ہے جو ڈینش پیپلز پارٹی اور وینسٹرا کے ساتھ ساتھ لبرل الائنس اور کنزرویٹو پارٹیاں ایک ہی سُر میں گا رہی تھیں ۔ اِن سب پارٹیوں نے ایک ہی بات پر زور دئے رکھا کہ رائے دہندگان کی نظروں میں مہاجرین اور تارکین وطن کو کیسے “ مشکوک “ بنایا جائے ۔ سماج کے مسائل کی ذمہ داری اِن پر کیسے ڈالی جائے۔
انتخابی مہم کے دوران ڈینش پیپلز پارٹی سماجی بہبود، بیروزگاری الاؤنس اور سرحدوں پر کنٹرول کے سیاسی موضوعات کو زیر بحث لاتی رہی تھی۔ سوشل ڈیموکریٹ پارٹی دوسری باتوں کے علاوہ مہاجرین اور تارکین وطن کے نام پر کیچڑ اچھالنے میں دائیں بازو سے بھی سبقت لے جانے میں مصروف رہی ۔ اور اُن کے خلاف نفرت پھیلانے میں شریک رہی ۔ حالانکہ رائے دہندگان جانتے تھے کہ مہاجرین اور تارکین کے خلاف ڈینش پیپلز پارٹی سے بڑھ کر کوئی دوسری پارٹی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ وہ جو کہتی ہے وہی کرتی ہے۔ لہٰذا انہوں نے اُسی پر اعتماد کیا اور اسے ہی ووٹ دئے ۔
بائیں بازو کی پارٹیوں کا روایتی “ بایاں پن “، دائیں طرف کو جھک گیا اور اس میں چونکہ ڈینش پیپلز پارٹی پہلے ہی زبردست پیشرفت کرچکی تھی، رائے دہندگان بھی اُس کے پلڑے میں جا گرے ۔ ڈینش پیپلز پارٹی کا سماجی بہبود کے لئے اضافی وسائل کا مطالبہ، یورپی یونین کی متعدد پالیسیوں پر شدید تنقید، مہاجرین کی آمد روکنے اور تارکین وطن کو روزگار کی منڈی میں لانے اور سماج میں انٹگریٹ کرنے کے نام پر ان پر مالی پابندیاں لگانے کا اعلان اور جرائم کے خلاف اقدام کے وعدوں نے ووٹروں کو ساتھ ملانے کے لیے مقناطیس کا کام کیا ۔
21 فیصد ڈینش نسل پرست ہیں؟
کیا اکیس عشاریہ ایک فیصد ڈینش نسل پرست ہیں ؟ دارالحکومت کوپن ہیگن کے علاقے نیروبر کی مثال لے لیجیے جہاں مختلف نسلی پس منظر رکھنے والوں کے شانہ بشانہ رہنے والے والے ڈینش لوگوں کی بھی کافی بڑی تعداد آباد ہے۔ لیکن یہی جگہ ایسی بھی ہے جہاں ڈینش پیپلز پارٹی کو ناکامی ہوئی ہے ۔ یہاں چھبیس عشاریہ پانچ فیصد ووٹروں نے ( ان میں نسلی اقلیتی پس منظر رکھنے والے اور ڈینش النسل ووٹر شامل تھے ) بائیں بازو کی انھد لسٹن کو ووٹ دئے ہیں ۔ لیکن ملک گیر سطح پر انھدلسٹن اس لئے نمایاں ووٹ حاصل نہ کر سکی کہ وہ ڈینش پیپلز پارٹی، لبرل الائنس اور کنزرویٹو پارٹیوں کے دروغ پر منبی پروپیگنڈے کا اکیلے مقابلہ نہیں کر سکتی تھی۔ بائیں بازو کے سرخ بلاک میں شامل سوشل ڈیموکریٹ، ریڈیکل اور ایس ایف کی ترجیحات کچھ اور تھیں اور نئی پارٹی “ الٹرنیٹو “ اپنا علیحدہ ڈھول پیٹ رہی تھی ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہےکہ رائے دہندگان بھی بائیں بازو کے سرخ بلاک کے چار سالہ عہد حکومت سے بڑی حد تک بیزار ہو چکے تھے ۔
یہی وجہ ہےکہ ڈینش پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے والوں میں نصف کے قریب وہی ووٹر تھے جنہوں نے پچھلے انتخابات میں سوشل ڈیموکریٹ کو ووٹ دئے تھے ۔ ہمیں یہ کڑوا سچ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ڈینشوں کی اکثریت نسل پرست ہو یا نہ ہو، ڈینش پیپلز پارٹی اب نہ صرف ایک مضبوط پارٹی ہے بلکہ جیسا کہ اس کے رہنما تھولسن ڈاہل کا کہنا ہے، یہ اب ایک “ اصلی عوامی پارٹی “ بننے والی ہے ۔ کام کی جن جگہوں پر کبھی سوشل ڈیموکریٹ اور بائیں بازو کی دوسری پارٹیوں کا سرخ رنگ نمایاں ہؤا کرتا تھا، وہاں اب ڈینش پیپلز پارٹی کی ستائش کی جاتی ہےاور اس کے لئے حمایت پائی جاتی ہے ۔
اب کیا کِیا جانا چاہیئے؟
ہماری نظر میں ہم تارکین وطن کو خاص طور سے اپنے آپ کو متحرک کرنے اور سیاسی زندگی میں بھر پور طریقے سے حصہ لینے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے رنگ ونسل سے ہٹ کر ایک متحدہ غیر ڈینش پس منظر رکھنے والی اقلیتی برادری کے طور پر اٹھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں نسلی، قومی اور دینی فرقہ پرستی کے رجحانات کو چھوڑ کر صرف غیر ڈینش اقلیتی برادری کے طور پر یکجا ہو کر اپنے خلاف دائیں بازو اور خاص کر ڈینش پیپلز پارٹی کی پھیلائی ہوئی نفرت و حقارت کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ یہ پارٹی اگلے چار سال کے لئے، مصیبت و آفت بن کر ہمارا گھیراؤ کرنے والی ہے ۔
ہمیں بائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں اور علاقائی اور اپنے اپنے محلوں کی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ ربط بڑھا کر اور ان کی سیاسی و سماجی اور رفاہی سرگرمیوں میں حصہ ڈالنا ہوگا ۔ سیاسی پارٹیوں کی باقاعدہ رکنیت اختیار کرتے ہوئے، قومی و علاقائی سیاسی میدانوں میں قدم جمانے ہونگے ۔ ہمارے لئے اب ایک لمبا سانس لے کر یہ تصور کر لینا کہ حالات اچھے ہو جائیں گے، محض خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہوگا۔ ہم کسی بھی طرح اس رویہ کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ ہمیں اپنی کام کی جگہوں پر اپنے ساتھیوں کو بتانا ہو گا کہ ڈینش پیپلز پارٹی کے لئے اُن کے ووٹ کو کس زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ ڈنمارک کے متعلق عالمی رائے کیا رخ اختیار کر رہی ہے ۔ ہمیں تارکین وطن اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف پھیلائی گئی نفرت و تعصب کا مقابلہ کرنے کے لئے دیگر شہریوں کو ساتھ ملانا ہوگا۔ اور سماجی بہبود کے کاموں میں اُن کا ساتھ دینا ہو گا ۔
اگر ہم یہ سب کچھ نہیں کر یں گے تو ڈینش پیپلز پارٹی کی پیشرفت کو روکنا تو درکنار ہم اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارتے ہوئے اپنے آپ کو سیاسی اپاہج بنا لیں گے۔ پھر نہ صرف ڈینش پیپلز پارٹی بلکہ دائیں بازو کی دوسری پارٹیاں بھی ہمارے لئے چین و سکھ سے جینا دوبھر کر دیں گے ۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)