نیا شیخ مجیب مت بناؤ
- اتوار 28 / جون / 2015
- 4795
چند روز قبل بی بی سی پر ایم کیو ایم سے متعلق انکشافات (جو کہ پہلی بار سامنے نہیں آئے) کے بعد پاکستان میں گرما گرم بحث شروع ہوگئی ہے۔ بی بی سی پر ایک ڈاکومنٹری میں اس راز سے پردہ اٹھایا گیا کہ ایم کیو ایم کو بھارت مالی امداد فراہم کرتا رہا ہے۔ اور یہ کہ ایم کیو ایم کے کارکن کئی سالوں سے انڈیا میں مسلح ٹریننگ حاصل کرتے رہے ہیں۔ سیاسی موقعہ پرست، سابق فوجی جنرلز، اسٹبلیشمنٹ کے پروردہ دانشور اور صحافی ۔۔۔ غدار، غدار چیختے ہوئے ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی ان میں پیش پیش ہیں اور الیکٹرونک میڈیا کو اپنا پیٹ بھرنے کے لئے کئی دنوں کی خوراک مل چکی ہے۔
رپورٹ مرتب کرنے والے صحافی اون بینیٹ جونز نے یہ بھی واضع کر دیا ہے کہ اسے یہ اطلاعات با وثوق پاکستانی ذرائع سے حاصل ہوئی ہیں۔ بقول اس صحافی کے باوثوق پاکستانی ذرائع نے اسے بتایا کہ برطانیہ میں ایم کیو ایم کے دو ارکان نے تفتیش کے دوران یہ راز افشاں کیا۔ اور برطانوی حکام نے یہ انکشافات پاکستانی حکام کو بتائے۔ اور پاکستانی ذرائع نے یہ معالومات اس صحافی کو فراہم کیں۔ اور یہی معلومات اس ڈاکومنٹری کی بنیاد بنیں۔
اس کے بعد ابھی تک برطانوی حکام نے اس رپورٹ میں بیان کئے گئے حقائق پر کوئی تبصرہ یا ان معلومات کے مبنی برحق ہونے کی تصدیق یا تردید کرنا مناسب نیہں سمجھا۔ ابھی تک یہی کہا جائے گا کہ یہ رپورٹ پاکستانی ذرائع کی فراہم کردہ اطلاعات پر بنی ہے۔ تازہ خبروں میں ایم کیو ایم کے لندن میں مقیم سینئر رکن طارق میر کے برطانوی تفتیشی ایجنسی کو دئے گئے اس تحریری بیان کی نقل پیش کی جارہی ہے، جس میں انہوں نے بھارت سے لاکھوں پاؤنڈ وصول کرنے کا اعتراف کیا ہے۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نیہں کہ پاکستانی حکام کو یہ حقائق براہ راست عوام کے سامنے رکھنے کی بجائے بیرونی نشریاتی ادارے کا سہارا کیوں لینا پڑا۔ اور یہ حقیقت بھی سب کو معلوم ہے کہ چند ہفتے قبل کراچی کے ایک پولیس افسر اس سے ملتی جلتی باتیں میڈیا پر لا چکے تھے۔ جہاں تک ایم کیو ایم کے بھارت سے خفیہ تعلقات کا معاملہ ہے تو اس راز سے کئی سال قبل پردہ اٹھ چکا ہے۔ نوے کی دہائی سے لے کر اب تک ایم کیو ایم پر اسی قسم کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ نوے کی دہائی میں ایم کیو ایم کے خلاف دوبار ریاستی آپریشن کے باوجود کسی حکومت نے ان الزامات کی بنیاد پر قانون کا راستہ اختیار کرتے ہوئے عدالتوں کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔ اس کے برعکس ایم کیو ایم، جنرل مشرف، پی پی پی اور نواز لیگ کی حکومتوں کا حصہ رہی۔ ایم کیو ایم کے اراکین وفاقی اور سندھ حکومت میں اہم وزارتوں پر فائز رہے۔ ایم کیو ایم کے نامزد کردہ عشرت العباد، جنرل مشرف اور پی پی پی حکومت کے بعد نواز لیگ حکومت میں بھی سندھ کےگورنرکےعہدے پر برا جمان ہیں۔
پاکستانی حکام شاید یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی نشریاتی اداروں کی خبروں پر غیر جانبداری کا لیبل چسپاں کرنا نہ صرف آسان ہوتا ہے بلکہ عوام ایسی خبروں کو سچا سمجھنے میں دیر نیہں لگاتے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ کو اگر اصل کہانی معلوم نہیں تو وہ بھولپن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ کراچی کے ایک پولیس افسر کو تو سب کچھ معلوم ہے اور وہ دھڑلے سے میڈیا پر آکر ایم کیو ایم کے انڈیا کنیکشن سے پردہ اٹھاتا ہے۔ مگر بھولےشاہ وزیر داخلہ نثاراحمد خان برطانیہ کو خط لکھ کر بی بی سی کی رپورٹ کی وضاحت طلب کررہے ہیں۔ عوام سے حقائق کیوں چھپائے جا رہے ہیں اس کا جواب تو وزیر داخلہ ہی دے سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ کو چاہئیے تھا کہ وہ تفتیش کا حکم دے کر یہ پتہ چلاتے کہ برطانوی صحافی کو معلومات کس نے، کب اور کس مقصد کے تحت فراہم کیں۔ اس بات کو بھی مکمل مسترد نیہں کیا جا سکتا کہ وزیر داخلہ ان واقعات کا پیشگی علم رکھتے ہوں گے۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی حکام ایم کیو ایم پر لگائے گئے الزامات کو عدالت میں ثابت کرنے کی بجائے اس پرمیڈیا ٹرائل کے ذریعے دباؤ بڑھا کراپنے مقاصد حاصل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ وہ مقاصد کیا ہو سکتے ہیں، انکا تجزیہ اس کالم کا موضوع نہیں ہے۔
کیا میڈیا ٹرائل سے کراچی، حیدرآباد اور سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی سیاسی طاقت کو کمزور کرکے اسٹیبلیشمنٹ اپنے من پسند کسی سیاسی کھلاڑی کے لئے میدان صاف کر پائے گی۔ اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں ہے۔ مگر تاریخی تجربات کی روشنی میں یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے خلاف جبر کے ہتھکنڈوں اور میڈیا ٹرائل کے ذریعے انکی عوامی حمایت ختم نہیں کی جا سکتی۔ بلکہ عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔
کیا عوامی لیگ اور شیخ مجیب کے خلاف ملٹری ایکشن اور میڈیا ٹرائل سے بنگالی عوام نے انکا ساتھ چھوڑا۔ کیا عوامی نیشنل پارٹی پر پابندی لگا کر، اسکے راہنماؤں کو جیلوں میں ڈال کر، انکی سیاسی طاقت اور ساکھ کو ختم کیا جا سکا۔ کیا ذوالفقارعلی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا کر، بے نظیر بھٹو کو زندگی سے محروم کرکے اور پی پی پی کے کارکنوں کو جیلوں میں ڈال کر اس جماعت کو سیاسی منظر سے ہٹایا جا سکا۔ کیا بلوچستان میں کئی سالوں سے جاری فوجی کاروائی، سردار بگٹی اور سینکڑوں بلوچوں کو قتل یا غائب کرکے انکی تحریک کو کچلا جا سکا۔ کیا نوے کی دہائی میں ایم کیو ایم کے خلاف ریاستی کاروائیوں سے اسکی عوامی مقبولیت میں کمی آئی۔ کیا جنرل مشرف کی زیر قیادت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جابرانہ کاروایئاں میاں نواز شریف کو سیاست سے دور رکھنے میں کامیاب ہو سکیں۔ ان سوالوں کا جواب دینے کی ضرورت اس لئے پیش نیہں آتی کیوں کہ ان کے جوابات سب کے سامنے ہیں اور پاکستانی تاریخ کا حصہ ہیں۔
یہ سب کہنے کا مقصد ایم کیو ایم کے جرائم پر پردہ ڈالنا یا اسکی غیر قانونی کاروائیوں کا دفاع کرنا نہیں ہے۔ نوے کی دہائی سے ایم کیو ایم پر ایسے سنگین الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم 1994 سے بھارت سے مالی امداد لیتی رہی ہے۔ باوجود الزامات کے یہ اسٹبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارہ بنی رہی ہے۔ اگر ملک کی خفیہ ایجنسیاں اس سے بے خبر تھیں تو انکی اہلیت پر سوال اٹھتے ہیں۔ اور اگر مقتدر حلقوں نے جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھیں تو مجرمانہ خاموشی اختیار کرنے پر ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کی گرفت میں لانے کی ضرورت ہے۔ ایک فوجی آمر جنرل ضیا نے اسے پروان چڑھایا تو دوسرے آمر جنرل مشرف اس کے سر پرست رہے اور حکومت کا حصہ بنا کر مزید طاقتور بنایا۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آج کی اسٹیبلشمنٹ ماضی کے برعکس فیصلے کرتی نظرآرہی۔ ایم کیو ایم کو طاقتور بنانے کے ماضی کےفیصلے اسوقت کی سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر کئے گئے تھے، جن کو آج کے حالات میں نادرست سمجھ کر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔
مگر آج ایم کیو ایم ایک زندہ سیاسی حقیقت کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ گذشتہ کئی انتخابات میں بھر پور کامیابی اسکی سندھ کے شہری علاقوں کے عوام میں مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسوقت بھی ایم کیو ایم قومی اسمبلی، سینٹ اور سندھ صوبائی اسمبلی میں سندھ کے شہری عوام کی بھر پور نمایئندگی کر رہی ہے۔ اب ایم کیو ایم کو طاقت کے ذریعے یا میڈیا ٹرائل کے ذریعے سیاسی منظر سے ہٹانا ممکن نیہں رہا۔ الطاف حسین کی موجودگی میں ایم کیو ایم کے ماننے والے کسی اور کی قیادت کو بھی قبول کرنے کو تیار نیہں ہوں گے۔ محض غداری، غداری کا شور ڈال کر سیاسی مخالفین کو رستے سے ہٹانے کا فرسودہ طریقہ اگر ماضی میں کامیاب نیہں ہؤا تو اب کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔
اگرٹھوس ثبوت موجود ہیں تو حکومت کو آئین اور قانون کا راستہ اختیار کر نا چاہئیے۔ حقائق کو چھپانے کے بجائے انکوعوام کے سامنے لا نا چاہئیے اور میڈیا ٹرائل بند کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں اور قانون کی عدالت میں مقدمہ چلا کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جانیں چاہئیں۔ حکمران جماعت اور مقتدر حلقوں کو ملک میں ایم کیو ایم کی قیادت اور لندن میں ایم کیو ایم کے قاید الطاف حسین کو اعتماد میں لے کر ان مسائل پر کھل کر بات کرنی چاہے۔ جمہوری طرز عمل سے جمہوری عمل اور قوتوں کو تقویت ملتی ہے۔ غیر جمہوری طریقہ کار غیر جمہوری قوتوں کی پرورش کرتا ہے اور ایسا طرز عمل پاکستان کی کمزور جمہوریت کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
سندھ کے شہری عوام ایم کیو ایم کے ساتھ شفاف قانونی اور سیاسی طرزعمل کے بغیر مطمئن ہونے والے نہیں۔ دوسری صورت میں ایم کیو ایم کی قیادت میں یہ پاکستان کے عمومی سیاسی دھارے سے دور ہوتے جائیں گے۔ جو ملک اور جمہوریت دونوں کے مفاد میں اچھا نہیں ہوگا۔