ڈنمارک میں نفرت کا نیا چہرہ
- بدھ 01 / جولائی / 2015
- 3915
حالیہ پارلیمانی انتخابات میں غیر ملکی مخالف، انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست ڈینش پیپلز پارٹی نئے چہروں کے ساتھ پارلیمنٹ میں داخل ہوئی ہے ۔ پارٹی کے بیشتر نئے ارکان پارلیمنٹ پہلے ہی مسلمانوں، تارکین وطن اور مہاجرین کے متعلق شدید منفی بیانات دینے اور اُن کے خلاف چبا چبا کر الفاظ ادا کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ آثار ہیں کہ پارلیمنٹ میں بھی یہ ارکان یہی متعصبانہ و متنفرانہ روش جاری رکھیں گے ۔ کیسے؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں!
ڈینش پیپلز پارٹی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران سماجی بہبود پر زور دیا، یورپی یونین اور سوشل ڈمپنگ کے خلاف ڈٹ کر اپنا مؤقف پیش کیا، تارکین وطن اور مہاجرین کے علاوہ مسلمانوں کو بطور خاص نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں پارٹی کے پارلیمانی ارکان کی تعداد ، پہلے کے مقابلے میں 22 سے بڑھ کر 38 ہو گئی اور وہ دوسری بڑی پارلیمانی پارٹی بن گئی۔ جب کہ ملکی سطح پر وہ تیسری بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے ۔
ڈینش پیپلز پارٹی کے نو منتخب ارکانِ پارلیمنٹ میں سے بیشتر غیر ملکیوں، مہاجروں اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف اعلانیہ زہر افشانی کرنے اور زبانی و تحریری پروپیگنڈا کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں ۔ ڈینش پیپلز پارٹی کے نئے ارکان پارلیمنٹ میں ایک پرنیلے بنڈیکسن ہیں جو پیشہ کے لحاظ سے “ بچوں کی دیکھ بھال “ کرنے والی خاتون ہیں۔ وہ اُوڈنسے شہری کونسل کی رکن بھی ہیں ۔ انہیں سنہ 2014 میں اِس بنا پر تین ہزار کرونا جرمانہ ہؤا تھا کہ انہوں نے بلدیہ میں اپنی سرکاری حیثیت کو غلط استعمال کرتے ہوئے دو تارکِ وطن خاندانوں کے بارے میں ایسی “ خفیہ معلومات “ میڈیا کو مہیا کی تھیں جنہیں ہر حال میں “ صیغہ راز “ میں رکھا جانا تھا ۔ یہ معلومات ان خاندانوں پر اٹھنے والے بلدیاتی یعنی سرکاری اخراجات کے بارے میں تھیں۔ بلدیہ نے پرنیلے بنڈیکسن کے خلاف “ انتخابی بورڈ “ میں باقاعدہ شکایت کرتے ہوئے انہیں کونسلر کی حیثیت فارغ کر دینے کی استدعا کی تھی تاہم ایسا نہ ہو سکا ۔
پرنیلے بنڈیکسن انتہائی دائیں بازو کے انتہائی بدنام “ بلاگر “ کم مؤلر کی داشتہ ہیں ۔ کم مؤلر نے غیر ملکیوں کے خلاف انٹرنیٹ پر ایک ویب سائٹUriasposten.net قائم کر رکھی ہے۔ اس سائٹ پر نہ صرف وہ خود بلکہ پرنیلے بندیکسن بھی غیر ملکیوں اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتی رہتی ہیں ۔ انھوں نے ایک مرتبہ جزیرہ فیونن کے سب سے بڑے اخبار میں “ نازاسلام “ کے عنوان سے مسلمانوں کے خلاف ایک مضمون میں زہر اگلتے ہوئے لکھا تھا کہ ہٹلر کی کتاب “ میری جد و جہد “ اسلامی ملکوں میں بیحد پسند کی جاتی اور سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہے ۔
ڈینش پیپلز پارٹی کے نئے ارکان پارلیمنٹ میں ایک چہرہ کلاؤس کویسٹ ہانسن کا ہے جو انڈرس سے تعلق رکھتے اور متذکرہ بالا انٹی امیگرنٹس ویب سائٹ سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اس پر غیر ملکیوں اور مسلمانوں کے خالف بڑ چڑھ کر زہر افشانی کرتے رہتے ہیں ۔ وہ ایک اور انتہا پسند بلاگ المعروف Snaphanen پر بھی تارکین وطن کے خلاف اپنے مکروہ نظریات کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ وہ ہر اُس ویب سائٹ اور بلاگ کی تعریف کرنے اور انہیں اپنا تعاون پیش کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں جو غیر ملکیوں کے خلاف ہوں۔ بقول اُن کے وہ صرف “ سخت گیر مسلمانوں “ پر تنقید کرتے ہیں ۔ وہ ڈنمارک میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شدید انتہا پسندانہ رویہ رکھنے والی ایک تنظیم “ پریس فریڈم سوسائٹی “ کے بانی رکن ہیں اور اس کی سرگرمیوں میں بھرپور انداز میں شامل رہتے ہیں ۔
وہ اخبارات میں ایڈیٹر کے نام خطوط میں مسلمانوں کے بارے میں طرح طرح کے مفروضے پھیلانے اور ان کے دین کا تمسخر اڑانے اور انہیں سماجی برائیوں کی جڑ قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے اور اس کے لئے کافی شہرت رکھتے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں ان کا ایک مکتوب بعنوان “ اسلام ، جمہوریت اورآزادی کے ساتھ قطعاً کوئی مطابقت نہیں رکھتا “ شائع ہؤا تھا۔ اس مراسلے میں انہوں نے پیرس میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعہ کے پس منظر میں ڈنمارک کے مسلمانوں کو خوب رگیدا تھا ۔ اور کہا تھا کہ انتہا پسندی اسلام کا ایک جزو ہے ۔ مہاجرین کے متعلق بھی کلاؤس کویسٹ ہانسن کے نظریات کوئی ڈھکے چھپے نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “ ڈنمارک متحمل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسے ایسی کوئی کوشش کرنی چاہیے کہ مہاجرین کو ڈنمارک میں ایک نئی زندگی شروع کرنے کی پیشکش کرے۔ ہم اس کے کبھی بھی متحمل نہیں ہو سکتے۔ “
تارکین وطن مخالف تعصب و منافرت کا غازہ لگاکر اپنے گالوں کو سرخ رکھنے والی ڈینش پیپلز پارٹی کی ایک نئی رکن پارلیمنٹ، چھتیس سالہ میریٹے دیا لارسن ہیں جو راسکیلڈے سے تعلق رکھتی اور وہاں کی بلدیہ میں کونسلر بھی ہیں ۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے دین اسلام مخالف زبردست مہم چلائی اور ایک مقامی اخبار میں مضامین لکھے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ: “ اسلام ہر جگہ مسلمانوں کو اکساتا اور ترغیب دیتا ہے کہ وہ شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے جد و جہد کریں۔ اسلام جمہوریت سے بالکل مطابقت نہیں رکھتا اور نہ ہی اس کے لئے کوئی گنجائش مہیا کرتا ہے ۔ اسلام کبھی بھی ڈینش آئین سے بالا نہ سمجھا گیا ہے اور نہ ہی کبھی سمجھا جائے گا۔ “
انتخاب میں کامیاب ہونے والی ڈینش پیپلز پارٹی کی نئی پارلیمانی رکن ڈورتے اُولیموس ہیں جنہوں نے اپنی ویب سائٹ پر “ باتیں ہی باتیں “ کے عنوان سے اُن مہاجرین پر خوب کیچڑ اچھالا جو پناہ کے لئے یورپ کا رخ کرتے ہیں ۔ انہوں نے لکھا تھا کہ مشرق وسطیٰ کے جنگجو لوگ اب مویشیوں کے چرواہوں کی طرح منہ اٹھائے یورپ میں دندنا رہے ہیں ۔ ڈنمارک میں ہمارے پاس دو مواقع ہیں یا تو ہم سرخ بلاک کو ووٹ دیں جو موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے ڈنمارک کو تباہ کرنے پر تلا ہؤا ہے یا پھر ہم نیلے بلاک کو ووٹ دیں اور خاص کر ڈینش پیپلز پارٹی کو جو ڈنمارک میں در آنےوالوں کو روکنا اور اپنے لوگوں اور ملک کو تحفظ مہیا کرنا چاہتی ہے ۔
اسی طرح ڈینش پیپلز پارٹی کے ایک اور نئے پارلیمانی رکن، ٹاسٹروپ سے تعلق رکھنے والے اڑتیس سالہ کینتھ کرسٹنسن برتھ ہیں ۔ وہ پارٹی کے پارلیمانی سیکریٹریٹ میں بھی عہدہ رکھتے ہیں جب کہ وہ والنس بیک اور دارالحکومت ریجنل کونسل کے بھی رکن ہیں ۔ ان کا مؤقف ہے کہ: “ نسلی تعصب ایک قدرتی امر ہے اور روحانی جمود اسلامی دنیا کی خصوصیت ہے ۔ “ انہیں پارٹی کے نوجوانوں کی شاخ کے چند دوسرے ارکان کے ساتھ ملک کر تارکین وطن اور مسلمانوں کے خلاف ایک انتہائی متعصبانہ مضمون لکھنے کی بنا پر سنہ 2001 میں ایسٹرن ہائی کورٹ کی جانب سے چودہ دن قید کی مشروط سزا سنائی گئی تھی ۔
اس مضمون میں ڈینش پیپلز پارٹی کی نوجوانوں کی شاخ کے ایک جریدے میں شائع ہؤا تھا۔ اس میں اجتماعی عصمت دری، بے رحمانہ تشدد، عدم تحفظ، جبری شادیاں، عورتوں پر تشدد اور جتھہ بند جرائم کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ ہے وہ سب کچھ جو ہمیں “ کثیر الثقافتی سماج پیش کر تا ہے۔ “ بلا کسی شک اُن کا اشارہ ڈنمارک میں آباد تارکین وطن اور مسلمانوں کی جانب تھا ۔ جنہیں وہ ان باتوں کے لئے مورد الزام ٹھہرا رہے تھے ۔ اسی طرح روزنامہ یولینڈ پوسٹن میں بھی انہوں نے اپنے ایک مضمون میں افریقہ و افریقی باشندوں کے رنگ و نسل اور اقدار و مزاج کو متعصبانہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ہوئے یورپی باشندوں کو سراہا تھا کہ انہوں نے انہیں تہذیب کھائی ۔
ایک اور نئے پارلیمانی رکن اُوبنرا سے پیٹر کوفوڈ ہیں جو ٹیچر بننے کے لیے زیر تعلیم ہیں ۔ وہ ہیدرسلیو بلدیاتی کونسل اورریجن جنوبی ڈنمارک کی کونسل کے بھی رکن ہیں ۔ پیٹر کوفوڈ اپنی بلدیہ کی جانب سے تارکین وطن اور مہاجرین کے ساتھ ان کی اپنی زبانوں میں مواصلت کرنے کے ہمیشہ سے خلاف ہیں۔ اُن کا مطالبہ ہے کہ یہ سلسلہ بند کیا جائے ۔ انہوں نے ایک انتہائی متنازع اور بدنام ویب سائٹ بھی بنا رکھی ہے ۔
Meldenøsteuropæer.dk نامی اس ویب سائٹ پر انہوں نے ایک ویڈیو لوڈ کر رکھی ہے جس میں دوسری باتوں کے علاوہ کیا گیا ہے کہ سرحد پار سے آنے والے لوگوں کے پاس ساتھ لانے کے لیے کوئی مثبت شے نہیں ہوتی ۔ یہ ہمارے گھروں کو غارت کرنا اور لوٹنا چاہتے ہیں اور ہماری سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔
وہ اس بات کے بھی سخت خلاف ہیں کہ مسلمان بچوں کو اُن کے مقدس تہواروں کے موقع پر سکولوں سے چھٹی کی اجازت ہو ۔ وہ اسے بند کرانا چاہتے ہیں اور ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی مذہبی و دیگر تقریبات کے لئے پبلک عمارات کے ہال وغیرہ استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے ۔ انہوں نے ہیدرسلیو میں ایک مسجد کی تعمیر کے مجوزہ منصوبے کے خلاف شہریوں سے دستخط اکٹھا کرنے کی ایک مہم شروع کر رکھی ہے اور یہی نہیں انہوں نے ٹی وی ٹو کے ایک پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے اس بات پر سخت اعتراض کیا اور پاگلوں کی طرح شور مچایا کہ “ بلکا “ نے اپنے ہاں مہاجرین کے لئے کام کی تربیتی جگہیں مہیا کر رکھی ہیں ۔
قارئین کرام ! یہ ہیں ڈینش پیپلز پارٹی کے نئے ارکان پارلیمنٹ۔ اب وہ قانون سازی کے دوران غیر ملکیوں، مہاجروں اور مسلمانوں پر کون کون سی سختیاں لاگو کرانے کی کوشش کر سکتے ہیں یا کریں گے، اس کا اندازہ آپ خود بخوبی لگا سکتے ہیں۔
(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)