افسوسناک سعودی رویہ

  • جمعرات 02 / جولائی / 2015
  • 4010

میرے پاس گھٹیا سے گھٹیا اور غلیظ سے غلیظ تر ایسا کوئی لفظ نہیں کہ میں زید حامد سے اپنی نفرت کا اظہار کرسکوں ۔ یہ شخص قاتل ہے ۔ اس نے لوگوں میں تعصب کے بیج بوئے ہیں ۔ مذہب اور فرقے کے نام پر عام معصوم انسانوں کو قتل کرایا ہے۔ ہندو نفرت سے اس کا سارا ذہن بھرا پڑا ہے جس کو وہ پاکستانی معاشرے پر اُگلنا چاہتا ہے۔ یہ شخص یہودی نفرت میں ڈوبا ہؤا اور پاکستان میں ہر ہونے والی تباہی کی وجہ یہودی کی سازش قرار دیتا ہے۔ یہ شخص پاکستانی معاشرے کا مجرم ہے۔

لیکن ان سب کے باوجود سعودی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ ایک ایسے شخص کو سز دے جو مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لئے اس ملک میں گیا تھا۔ اس قیام کے دوران اسے گرفتار کرلیا گیا اور اب 8 برس کی قید اور 1000 کوڑوں کی سزا  دی گئی ہے۔ یہ سزا دینے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ  اس نے سعودی عرب حکومت کی پالیسی کے خلاف کچھ  بات کی  ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اگر تم نے مسلمان ہوتے ہوئے اپنے مذہب کا کوئی مقدس فریضہ ادا کرنے کے لئے سعودی عرب آنا ہے تو تمہیں سعودی عرب کی حکومتی پالیسی کی تائید کرنا ہو گی۔  ورنہ قید ، کوڑے اور سر قلم کرنے کی سزاؤں کے لیے تیار ہو کر آئیں۔

میں یہاں ایک بات کرتا چلوں کہ زاہد حامد ، اوریا مقبول جان اور ان جیسے دوسرے لوگ جو آئے دن جمہوریت کے خلاف ریلیاں نکالتے ہیں، جمہوریت کو اسلام کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں اور ملوکیت کے حق میں گلے پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگاتے ہیں  ۔۔۔۔  دیکھ لیں کہ یہ جمہوریت ہی ہے جس میں وہ انسانیت کے خلاف غلیظ ترین گفتگو بھی کرتے اور لکھتے بھی ہیں مگر پھر بھی آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب کی  اسلامی بادشاہت ہے جہاؐں اسلام کے خلاف نہیں، صرف حکومت کی کسی ایک پالیسی کے خلاف ہلکی سی بات کرنے پر 8 سال کی قید اور 1000 کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے ۔

مغربی ممالک  جہاں جمہوری نظام قائم ہے آپ وہاں جا کر ان کے مذہب، ان کے سیاسی نظام کو گالیاں تک دیتے ہیں۔ وہ پھر بھی آپ کو، آپکے بچوں کو سیاسی پناہ بھی دیتے ہیں۔ رہائش بھی فراہم کرتے ہیں اور آپ کا وظیفہ بھی مقرر کردیتے ہیں۔  اور جب آپ اپنے اسلامی برادر ممالک میں جاتے ہیں تو آپ کے ساتھ کتوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔  گھریلو ملازموں پر تشدد کی ویڈیو آپ آئے دن دیکھتے ہی رہتے ہیں۔
 

میں پھر اپنے اصل موضوع کی  طرف لوٹ کے آتا ہوں۔ اگر کسی سعودی باشندے کے ساتھ پاکستان میں اس طرح کا سلوک ہوتا تو کیا سعودی حکومت اسی طرح چُپ کر کے بیٹھی رہتی۔ سعودی باشندہ تو کیا وہ پاکستان کے وزیراعظم کو اسلام آباد کے ائر پورٹ سے اس طرح اُٹھا کر لے گئے تھے، جس طرح ایک زمانے میں ڈاکو گاؤں سے لوگوں کو اُٹھا کر لے جاتے تھے۔

کیا کسی بھی ملک کے باشندے کے ساتھ سعودی حکومت ایسا کرتی تو اس ملک کی حکومت اسی طرح خاموش تماشہ بنی رہتی؟ کہاں ہیں ہمارے  وزیر داخلہ جو چیخ چیخ کر پاکستان کو ایک غیرت مند ریاست بتاتے نہیں تکھتے۔ کیا پاکستان کی مذہبی جماعتوں کا اسلام صرف عافیہ صدیقی اور کشمیر پر ہی جاگتا ہے۔

کہتے ہیں سندھ سے ایک عورت چیخی تھی تو سعودی عرب سے محمد بن قاسم آگیا تھا اب پاکستان کا ایک نالائق بیٹا سعودی عرب کے قید خانے میں بیٹھا رو رہا ہے۔ کیا یہاں سے کوئی ابن قاسم نہیں جائے گا۔۔۔

یہاں میں ان لبرل، ترقی پسند دوستوں کی اس سوچ کو بھی مسترد کرتا ہوں جو  زید حامد کی سوچ سے متفق نہ ہونے کی وجہ سے  سعودی عرب حکومت کی اس ظالمانہ حرکت پر قہقہے لگا رہے ہیں۔
تمام انسان دوست لوگوں کو سعودی عرب کے اس اقدام کی مخالفت کرنی چاہئیے۔