شرمناک
- جمعرات 19 / اپریل / 2012
- 10478
انتخابی اخراجات کے معاملہ پر مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے جمہوریت، طرز حکمرانی اور عام آدمی کے حقوق کے حوالے سے جو باتیں کی ہیں وہ کسی بھی باوقار قوم اور ذمہ دارحکومت کے لئے انتہائی تشویش اور شرم کا مقام ہونا چاہئے۔ بدنصیبی کی بات ہے کہ ملک کے منصفِ اعلیٰ کی طرف سے اس صاف گوئی کے باوجود حالات میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مقدمہ کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عدالت نے متعدد اہم معاملات پر فیصلے کئے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ انہوں نے کہا کہ این آر او کا فیصلہ آئے ہوئے عرصہ بیت چکا ہے۔ عدالت نے کراچی میں ہلاکتوں کے بارے میں بھی فیصلہ دیا لیکن عدالت کے فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ ایسی صورت میں مزید ایسے فیصلے دے کر کیا سپریم کورٹ عدالت کی تذلیل کروائے۔ ملک کے منصف اعلیٰ کی طرف سے اس قسم کا بیان آسانی سے نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ جناب افتخار چوہدری نے ایک آمر کے سامنے سینہ سپر ہوکر ایک انتہائی مشکل جدوجہد کے بعد عدالت کو وقار اور خودمختاری عطاءکی ہے۔ ملک کے عوام کی بہت بڑی اکثریت ان کی پشت پر کھڑی ہے۔
ملک میں جمہوریت کی بحالی کے بعد یہ اُمید کی جارہی تھی کہ طویل آمرانہ دور کے بعد ایک جمہوری نظام میں آزاد اور خود مختارعدلیہ کے لئے مزید کوشش کی جائے گی۔ لیکن یہ بھی چشمِ فلک نے دیکھا کہ عوام کے نام پر عوام سے ووٹ لے کر آنے والی جمہوری حکومت نے جمہوریت کے سب سے اہم ادارے کی بحالی کا راستہ روکنے کی پوری کوشش کی۔ ایک برس تک صدر آصف علی زرداری اور ان کے حواری پوری شدومد سے اپنے وعدوں سے مکرنے کی وضاحت کرتے رہے اور ایک ایسے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کو برقرار رکھنے پر مصر رہے جنہوں نے ایک آمر کے ایمرجنسی قوانین کے تحت حلف لیا تھا۔ بلکہ یہ بھی ملک کی عدالتی اور سیاسی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے میں آیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی میں حلف اٹھانے والے ججوں کو ایک جمہوریت حکومت میں پورا تحفظ فراہم کیاگیا۔
عوام کے زبردست مطالبے، سیاسی جماعتوں کے واضح موقف اور میڈیا کی طرف سے مسلسل مہم کے باوجود پیپلزپارٹی کی حکومت نے ایک آمر کی نشانی کے طور پر ایک ایسی سپریم کورٹ کو برقرار رکھنے پر اصرار کیا جو غیر جمہوری اور عوام دشمن فیصلوں کی توثیق کرچکی تھی۔ یہ صورت حال بھی اس وقت تبدیل ہوئی جب عوام کا ایک سمندر میاں نوزشریف کی قیادت میں لانگ مارچ کرتا ہوا اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا اور جمہوری رہنماﺅں کی بجائے نقصِ امن کے خطرہ کے پیش نظر فوج کے سربراہ کو مداخلت کرنا پڑی اور انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ سپریم کورٹ کو بحال کرنے کا مطالبہ مان لیا جائے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے با امرِمجبوری یہ فیصلہ مان لیا اور عدلیہ کی بحالی کا اعلان کردیا۔ جس کا کریڈٹ وہ خود اور پاکستان پیپلزپارٹی گاہے بگاہے لیتی رہتی ہے۔ اس کے باوجود پارٹی کی حکومت نے گزشتہ تین برس کے دوران سپریم کورٹ کی خودمختاری کو قبول نہیں کیا۔ اور نہ ہی اس کا کوئی فیصلہ ماننے پر تیار ہوئی ہے۔ حکومت اور اس کے حواریوں کی جانب سے یہ بات تسلسل سے کہی جاتی رہی ہے کہ انہوں نے آزاد عدلیہ کے لئے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور وہ عدالتوں کا پوری طرح احترام کرتے ہیں لیکن آج سپریم کورٹ میں فاضل ججوں نے جو ریمارکس دئے ہیں انہوں نے حکومت کے ان دعوﺅں کی قلعی کھول دی ہے۔
عدالتوں کا کام قانون اور آئین کے مطابق فیصلے کرنا ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ چوں کہ ملک کا سب سے اعلیٰ عدالتی فورم ہے اس لئے یہ بھی اس کی ذمہ داری ہے وہ قوانین کے علاوہ آئین کی مختلف شقوں کی تشریح کرے اور یہ واضح کرے کہ ان کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قانون سازی یا آئین میں ترمیم کا حق ملک کی پارلیمنٹ کو حاصل ہوتاہے۔ ہر مہذب جمہوری ملک میں روایت موجود ہے کہ اگر کوئی قانون مناسب طریقے سے مسائل حل نہ کرسکے اور عدالتیں اسے قبول کرنے پر تیار نہ ہوں تو عدالتوں پر طعن زنی کرنے کی بجائے قانون میں مناسب تبدیلی کی کوشش کی جاتی ہے۔
ناروے میں آج کل ایک ایسے دہشت گرد کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے جس نے گزشتہ برس 22 جولائی کو 77 لوگوں کو ہلاک کردیا تھا اور اپنی دہشت گردی کی کارروائیوں سے اس ملک کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ اس دہشت گرد نے خود اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کیا اور اپنے جرائم کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔ اس کے باوجود اسے انصاف کا پورا موقع فراہم کیا جارہا ہے۔ اس کی دماغی حالات کے بارے میں ماہرین کی دو مختلف ٹیموں نے متضاد آراء دی ہیں۔ ان پر تبصرہ کرتے ہوئے ملک کے وزیراعظم ینس ستولتن برگ نے کہا کہ اگر ملزم کو ہوش مند قرار دیکر سزا دی جائے تو سانحہ 22 جولائی کے متاثرین کو اطمینان ہوجائے گا۔ ان کے اس بیان پر ملک کے سب سے بڑے اخبار میں سخت تنقید کی گئی کہ وزیراعظم کو کسی عدالتی عمل پر تبصرہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے تھی۔ اس تنقید کے جواب میں ناروے کے وزیراعظم نے جو وضاحت جاری کی، وہ کسی بھی جمہوری ملک کے لئے قابل تقلید ہونی چاہئے۔ ستولتن برگ نے اپنی وضاحت میں کہا کہ کسی جرم پر غوراور فیصلہ کرنا عدالت ہی کا حق ہے اور ہمارے نظام میں ایک وزیراعظم اس میں ملوث ہونے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اور نہ ہی میرا ایسا کوئی ارادہ ہے یا میں نے یہ کوشش کی ہے۔
اس وضاحت سے یہ اصول نمایاں ہوتا ہے کہ عدالتوں کے معاملات کو کس قدر احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور کوئی جمہوری رہنما پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت کی بنیاد پر عدالتوں کو یہ پیغام نہیں بھیجتا کہ ان کے فیصلوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور حتمی فیصلہ عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ ایساکرتے ہوئے یہ رہنما یہ بھول جاتے ہیں کہ جمہوری نظام، اداروں کی خود مختاری کی بنیاد پر ہی پروان چڑھ سکتا ہے۔ اس عمل میں عدالتوں کی خودمختاری اور ججوں کے وقار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
پاکستان کے صدر، وزیراعظم اور حکمران پارٹی کے لیڈر اس اصول کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ عدالتوں کے فیصلوں سے ان کے مفادات کو زک پہنچتی ہے۔ اسی بات کا اظہار آج عدالتی کارروائی کے دوران دیکھنے میں آیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے یہ افسوسناک حقیقت بھی بیان کی ہے کہ ملک میں کسی نے جمہوریت کے فروغ کے لئے موثر کوشش نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جب بھی مارشل لاءلگتا ہے تو سب لوگ فوجی لیڈر کے آگے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں۔ سیاسی رہنماﺅں کو ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لئے اقدامات کرنا چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں لازمی ووٹ ڈالنے کے سلسلہ میں قانون سازی بھی کی جاسکتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ انتخابی عمل میں حصہ لیں اور حقیقی نمائندے سامنے آسکیں۔ چیف جسٹس نے اس سلسلہ میں اس خیال کا اظہار بھی کیا کہ کسی حلقے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کم از کم 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری ہونا چاہئے۔ دس گیارہ فیصد ووٹ لے کر آنے والے کیوں کر عوام کی نمائندگی کا حق ادا کرسکتے ہیں۔
یہ سب بہت قیمتی باتیں ہیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم یہ بات ہے حکومت بطور انتظامیہ عدالت عالیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کی بجائے ان کے راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کررہی ہے۔ حکومت کا یہ شرمناک رویہ ملک میں جمہوریت اور عوامی حکمرانی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اگر اسے فوری طور پر تبدیل نہ کیاگیا تو جمہوریت کے علاوہ ان سیاسی رہنماﺅں کو بھی اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔