خون سے چپکا پانچ جولائی
- اتوار 05 / جولائی / 2015
- 4532
سویڈن میں ابھی پانچ جولائی ہونے میں بہت وقت ہے، اسی طرح جب پاکستان میں اس وقت 4جولائی1977 کی رات گیارہ بج کر پچاس منٹ ہر بھی کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ پانچ جولائی ہونے میں ابھی بڑا وقت پڑا ہے۔
جبکہ پانچ جولائی کئی سالوں اور خاص طور پر اپریل1977 سے ہر دن چیخ چیخ کر کہہ رہاتھا کہ 5 جولائی آرہا ہے۔
بھٹو صاحب جب مولانا مودوی کے گھر گئے تھے تو جماعت اسلامی نے پانچ جولائی ان کی کوٹ کی جیب میں ڈال دیا تھا۔اور بھٹو صاحب نے اسی شام لاہور گورنر ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے دئے ہوئے 5 جولائی کے کچھ حصے پڑھ کر سُنا بھی دئیے تھے۔ جس میں اتوار کی بجائے جمعہ کی چھٹی ، شراب اور جوئے خانوں پر پابندی ۔۔۔۔ یہ سب جماعت اسلامی کے دئیے ہوئے 5 جولائی کے کچھ حصے تھے۔
مگر بھٹو صاحب کے ساتھ جڑے ہوئے ان کو دن رات یہی کہہ رہے تھے کہ بھٹو صاحب فکر نہ کریں 5 جولائی کبھی نہیں آئےگا۔
اصل میں ان کو فکر تھی کہ اگر بھٹو صاحب کو پتہ چل گیا کہ 5 جولائی آنے والا ہے تو کہیں وہ سیدھے عوام کے پاس نہ پہنچ جائیں ۔ 5 جولائی کے گماشتے بھٹو صاحب کو زیادہ سے زیادہ ان لوگوں کی طرف دھکیل رہے تھے جو پانچ جولائی لانے کی دن رات کوشش کر رہے تھے۔ پھر جب بھٹو صاحب ہر طرف سے مطمئن ہو کر چار جولائی کی رات کا آخری سگار پی کر سو گئے۔ تو پانچ جولائی نے امریکہ سے آیا ہؤا تیل اپنی مونچھوں کو لگایا اور کہا:
“ میرے عزیز ہم وطنو “
ایسا نہیں ہے کہ پانچ جولائی پاکستان میں پہلی بار آیا تھا۔ مگر 1977 کا پانچ جولائی ایسا آیا کہ آج تک ٹھہرا ہؤا ہے ۔ یہ پانچ جولائی لاکھوں لوگوں کا خون پی چکا ہے۔ ہزاروں گردنیں لمبی کر چکا ہے ۔ چوکوں پر لگی ٹکٹکیوں پر بندھے ہزاروں لوگوں کی پشتوں پر پانچ جولائی ثبت کر چکا ہے۔ مگر پانچ جولائی کبھی اسحاق خان کی شکل میں، کبھی چیف جسٹس ارشاد احمد خان کی شکل میں، کبھی کارگل کی شکل میں، کبھی مشرف کی گود میں بیٹھے کتوں کی شکل میں ، کبھی طالبان کی شکل میں، کبھی ہزارہ ، احمدیوں ، اسماعیلیوں اور شعیوں کے قاتلوں کی شکل میں، کبھی ہندو ، مسیحی بچیوں کو اغوا کے کے ان کو مسلمان بنانے کی شکل میں اور کبھی دھرنوں کی شکل میں موجود رہتا ہے۔ اور یہ اس وقت تک رہے گا جب تک لوگ پانچ جولائی کے گماشتوں کے پیچھے لگے رہیں گے۔ اگر عوام پانچ جولائی کے کیلنڈر کو پھاڑنا چاہتے ہیں تو انھیں اپنی پارٹی بنا کر متحد پو کر خود اپنی ہی قیادت میں باہر نکلنا پڑے گا ۔ پانچ جولائی کے ان گماشتوں کے شکنجوں سے نکلنا ہو گا ، اپنی خوں آلودہ قمیض کو پرچم بنانا ہو گا۔
ورنہ
ورنہ اس تصویر میں ٹکٹکی پر بندھا ہؤا میں ہوں اور اور پانچ جولائی کا کوڑا ہے۔