میں نہیں کہتا، بائبل کہتی ہے!
- سوموار 06 / جولائی / 2015
- 4545
اسرائیل کے نائب وزیراعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل کا ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا کوئی ارادہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایرانی صدر (جنہوں نے حال ہی میں دھمکی دی ہے) ایرانی عوام کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہیں کیونکہ یہ شخص نہ تو کوئی وعدہ نبھاتا ہے اور نہ ہی کوئی حل ڈھونڈتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایک برطانوی تھنک ٹینک نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران دو سے تین برس میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل ہو جائے گا۔ یہ دعویٰ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹیڈیز کے سربراہ جان جم مین نے دنیا کی مجموعی فوجی طاقت کے جائزے پر مشتمل سالانہ رپورٹ کے اجرا کے موقع پر لندن میں کیا ہے۔
دعویٰ جواب دعویٰ سے قطع نظر آئیے آپ کو ایران اسرائیل تنازعہ کے پس منظر میں ایک دلچسپ کتاب کے اقتباسات سے روشناس کرواتا ہوں۔
” ایٹمی ایران “ میں ایران پر اسرائیل کے پیشگی حملے کو بائبل کی تعلیمات کے عین مطابق قرار دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں جیرم آرکورسی نے ایرانی قیادت کو ” پاگل ملاﺅں کا ہجوم “ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی اجازت دینے کا مطلب پوری دنیا کی تباہی و بربادی کا بٹن اس کے حوالے کرنا ہے۔ کتاب میں اس بات کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایٹمی ایران تل ابیب پر اچانک حملہ کر سکتا ہے اور اگر تل ابیب پر حملہ ہؤا تو پورا اسرائیل تباہ ہو جائے گا۔ اسرائیل کی تباہی کےلئے ایک ایٹم بم ہی کافی ہے۔ ڈاکٹر جیرم آرکورسی نے ایران پر پیشگی حملے کو بائبل کے فرمان کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے یہ تجویز کیا ہے کہ اسرائیل عراق میں امریکی اڈے استعمال کرتے ہوئے باآسانی ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیج فارس میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز بھی حملے کے لئے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔
جیسا کہ سالانہ رپورٹ کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس ڈھائی سو ٹن یورینیم فلورائیڈ ہے جو افزودہ ہونے کی صورت میں تیس سے پچاس ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے کافی ہو سکتی ہے۔ مصنف کورسی نے 2008 میں منظر عام پر آنے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں تل ابیب نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل ایران پر پیشگی حملے کی پہلے ہی ریہرسل کر چکا ہے۔ مصنف کے مطابق اسرائیل کے دو اہم شہروں (جو دراصل مقبوضہ علاقے ہیں) بیت المقدس اور تل ابیب میں سے کسی بھی شہر پر حملہ کیا گیا تو وہ دراصل تل ابیب پر حملہ تصور ہو گا اور تل ابیب حملہ اسرائیل کی معیشت کی بنیادیں ہلا دے گا۔ لاکھوں افراد موقع پر ہی ہلاک ہو جائیں گے۔ اس کے چند گھنٹوں یا چند دنوں بعد ہی تابکاری سے مزید ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔ اس لئے اسرائیل کو چاہئے کہ کمانڈو کارروائی کے ذریعے چند اہم ایرانی ملاﺅں کو قتل کر کے پورے ملک میں ہلچل مچا دے اور حملے سے قبل یہ کارروائی بہتر اور اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
کتاب ” ایٹمی ایران “ میں جیرم کورسی نے انتہا پسند عیسائیوں کا اسرائیل کی بقا میں اہم کردار کا حوالہ دیتے ہوئے بائبل کے اقتباسات پیش کئے ہیں۔ وہ لکھتا ہے: ” سیمسن اینڈ ڈیلائلا کی کہانی پر غور کیجئے (16.4.3 حجز) ڈیلائلا نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی۔ اس نے اپنے فلسطینی عوام کے لئے جو اسرائیلیوں کے دشمن ہیں اپنے شوہر کو دھوکہ دیا۔ سیمسن کی طاقت اس کے بالوں میں تھی۔ فلسطینیوں نے اس کی آنکھیں نکال لیں اور بال کاٹ دئیے۔ سیمسن اپنے گناہوں پر بہت نادم ہؤا، اس کے بال دوبارہ اگ آئے اور اس کی طاقت بھی واپس آ گئی۔ موقع ملتے ہی اس نے اپنی طاقت استعمال کرتے ہوئے مندر کے دو بڑے ستونوں کو گرا دیا۔ اس طرح مندر کی چھت ان فلسطینیوں پر گر گئی جو اسے بھینٹ چڑھانا چاہتے تھے۔ سیمسن نے اس طرح فلسطینیوں کی ایک بڑی تعداد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ مگر چھت گرنے سے وہ خود بھی مارا گیا۔
کتاب کے مصنف نے اس واقعہ کو مشرق وسطیٰ کے بحران کا حل بتایا ہے۔ اس نے اسے ” اسرائیل کا سیمسن آپشن “ قرار دیا ہے۔ بائبل کے اس واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے اسرائیل کے ایران پر پیشگی حملے کی بھرپور حمایت کی ہے کہ ایران کسی بھی وقت اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس کی جذباتی کیفیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اسرائیل کے پاس اس کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں کہ وہ اس پر پہلے حملہ کر دے جیسا کہ اس نے عراق پر کیا تھا۔ آگے چل کر مصنف نے خود ہی یہ سوال اٹھایا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملہ کیوں کرے؟ اور خود ہی اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اسرائیل نے قسم کھائی ہے کہ ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام جیسا دوسرا واقعہ وہ اب کبھی نہیں ہونے دے گا۔ وہ واقعہ اس لئے ظہور پذیر ہؤا تھا کہ یورپ کے یہودی مزاحمت نہیں کر سکے تھے۔ لیکن اسرائیل اب ایسا نہیں ہونے دے گا۔ 5 جون 1976 کو چھ روزہ جنگ کے آغاز پر ہی اسرائیل نے سرزمین مصر پر کھڑے فضائی بیڑے کو تباہ کر دیا تھا۔ یہ اسی ” قسم “ کے تحت کیا گیا۔ جون 1981 میں عراق کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ بھی اسی کھائی ہوئی قسم کا نتیجہ تھا اور اب اگر اسرائیل کے لئے کوئی دوسرا خطرہ موجود ہے تو اسے مٹانے کے لئے بھی یہی قسم کام آئے گی۔
فرہاد کو پڑا تھا محبت سے ایک کام
مجنوں لگا ہؤا تھا محبت کے کام پر